ماں: شفقت، محبت اور رحمت کی عظیم تصویر 0

ماں: شفقت، محبت اور رحمت کی عظیم تصویر

عبید کشمیری، فرصل کولگام

اس کائنات کی سب سے عظیم اور مقدس ہستی ماں ہے، جسے معاشرہ احترام سے ماں کے نام سے جانتا ہے۔ ربِ کائنات نے اس کے وجود میں شفقت، محبت اور رحمت کو اس طرح سمو دیا ہے کہ قلم ان اوصاف کا احاطہ کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ کاش جذبات کو الفاظ میں قید کیا جا سکتا، کاش ماں کی عظمت کو مکمل طور پر بیان کیا جا سکتا، مگر یہ تحریر بھی ایک ناکام کوشش ہی سہی، ماں کے مقام کو سلام پیش کرنے کی ایک ادنیٰ سی کاوش ہے۔
مشہور شاعر منور رانا نے ماں کی محبت کو یوں امر کر دیا ہے:
مصیبت کے دنوں میں ماں ہمیشہ ساتھ رہتی ہے
پیغمبر کیا پریشانی میں امت چھوڑ سکتا ہے
ماں کی زندگی ایک دردناک مگر عظیم داستان ہے۔ اس داستان کا آغاز ماں کی گود سے ہوتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے کا مرحلہ ماں کے لیے سب سے زیادہ کٹھن اور تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ماں کی گود وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں انسان نے زندگی کے ابتدائی سبق سیکھے۔ بولنا، چلنا، کھانا پینا اور جینا—یہ سب کچھ ماں ہی سکھاتی ہے۔ ان تمام مراحل میں جو صبر، قربانی اور مشقت ماں برداشت کرتی ہے، اس کا اندازہ دنیا میں شاید کوئی اور نہیں لگا سکتا۔
آج کے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہی اولاد، جسے ماں نے اپنی نیند، آرام اور خوشیاں قربان کر کے پالا، جوان ہو کر اسی ماں کو اذیت دینے لگتی ہے۔ ماں کے حصے میں شکوہ نہیں آتا، صرف دعائیں آتی ہیں۔ وہ بدترین رویّوں کے باوجود بھی اولاد کے حق میں رب سے خیر ہی مانگتی ہے۔
ایسے ہی ایک منظر میں ایک نوجوان اپنی پہلی تنخواہ ملنے پر اپنے بوڑھے ماں باپ کو شہر کے ایک مہنگے ہوٹل میں کھانا کھلانے لے جاتا ہے۔ باپ رعشے کی بیماری میں مبتلا تھا اور ماں کی بینائی کمزور ہو چکی تھی۔ اردگرد بیٹھے لوگ ان کی حالت پر طنز کرنے لگے، مگر بیٹا انہیں عبادت سمجھ کر کھلاتا رہا۔ کھانے کے بعد اس نے خود اپنے ہاتھوں سے والدین کے چہرے صاف کیے اور سہارا دے کر باہر لے جانے لگا۔ اس وقت ہوٹل کے منیجر کے الفاظ تھے:
تم نوجوانوں کے لیے سبق اور بوڑھے ماں باپ کے لیے امید چھوڑے جا رہے ہو۔”
یہی وہ عظیم رشتہ ہے جس میں محبت بے لوث اور خالص ہوتی ہے۔ ماں اولاد سے ناراض ہو سکتی ہے، مگر دل سے کبھی بددعا نہیں دیتی۔ خوش نصیب ہیں وہ جن کی ماں زندہ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔
اور یہی ماں وہ ہستی ہے جس کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ اپنی محبت کا انداز بیان فرماتا ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت، عافیت اور لمبی عمر عطا فرمائے، اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
گردشیں لوٹ جاتی ہیں میری بلائیں لے کر
گھر سے جب نکلتا ہوں میں ماں کی دعائیں لے کر
لبوں پہ اس کے کبھی بددعا نہیں ہوتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں