ڈاکٹر گلزار احمد وانی
مخدوم محی الدین کااصلی نام ابو سعید محمد اور کنیت حذری تھا۔ آپ اردو کے ان ممتاز شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔جنہوں نے بہت کم لکھا مگر جتنا لکھا وہ کسی بڑے دیوان سے کچھ کم نہیں یے ۔ برصغیر کے اہم شعرا میں مخدوم کا نام بڑے عزت و تکریم سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے انسان اور انسانیت کا درس دیا ۔مخدوم اپنی ماں کے کہنے کے مطابق 1908ٓء میں تعلقہ اندول ، ضلع میدک،حیدرآباد میں پیدا ہوۓ۔ آپ کے پردادا کا نام مخدوم الدین تھا ،اور آپ کے والد کا نام غوث الدین تھا، اور آپ کی اہلیہ کا نام رابعہ تھا۔ اسکول رجسٹر میں ان کی ولادت کی تاریخ 1910 لکھی گئی ہے۔ ترقی پسند شاعر تھے۔اور اگر اردو کوترقی پسند تحریک نے کچھ عطیہ فراہم کر دیا ہے تو وہ ساحر، فیض ، مجروح ، علی سردار جعفری ، نیازحیدر اور مخدوم محی الدین وغیرہ کی شکل میں دیا ہے۔
مخدوم ایک غزل گو کی حیثت سے کم کم ہی اردو شاعری میں نظر آتے ہیں جب کہ ان کی” نظمیں” دلوں کے تار کو جھنجوڑتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے انہوں نے تہذیب و شائستگی سے اردو شعر و ادب میں اپنے فن کے چراغ روشن کیے ہیں۔ حالانکہ ان کی غزلیں بھی اردو شاعری کے باب میں کسی اہم اضافے سے کچھ کم نہیں ہیں۔ مخدوم صرف شاعر ہی نییں تھے بلکہ ڈراما نگار بھی رہے ہیں ۔ انہوں نے تین ڈرامے لکھے ہیں ۔ انہوں نے بر نارڈ شاہ کے ڈرامے “وڈورس ہاؤس ” کا “ہوش کے ناخن ” کے نام سے ترجمہ کیا ہے ۔دوسراڈراما “مرشد کامل ” اور تیسرا ڈراما چیخوف کے ڈرامے” چہری آرچرڈ ” کو ” پھول بن ” کا اردو ترجمہ کیا ہے۔اس کے علاوہ مخدوم ایک ادا کار بھی تھے۔
مخدوم کی شعری مٹھاس بہت دور سے ہی پہچانی جاتی ہے اس میں ان کاشعری اسلوب منفرد اور جدا گانہ ہے۔ انہوں نے تین شعری مجموعے منظر عام پر لاۓ ہیں ۔جن میں :
١۔ سرخ سویرا 1944 ء
٢۔ گلِ تر 1961 ء
٣۔ بساطِ رقص 1966 ء
“سرخ سویرا” سلسلہ مطبوعات اشاعت گھر جنوری ١٩٤٤ صفحات ٤٢١ اس میں سبط حسن کا خط بنام مخدوم بطور پیش لفظ شامل ہے۔ اس مجموعے میں کل ٤٨ نظمیں ہیں ،٤ قطعات ۔
گل تر
گل تر مکتبہ صبا حیدر آباد دکن اگست ١٩٦١ صفحات ٨٨
اس میں کل ٢٠ نظمیں غزلیں اور ایک قطعہ شامل ہے۔
بساط رقص
اس میں کل کل١١ نظمیں ہیں ایک واسوخت
مخدوم کی وفات ٢٥ اگست ١٩٧٠ء صبح ٨ بج کر ٢٠ منٹ پر ارون اسپتال کے بستر نمبر ٣٥ پر مخدوم حصار جاں سے گزر گئے۔
ان کی غزلیں اور نظمیں اس زمانے میں ریڈیو پرتتلیوں کی مانند رقص کر رہیں تھیں۔ ان کی ایک نظم کا گیت جو بہت مقبول زمانہ ہوا ۔ اور وہ فلم “چاچاچا ” کے لیے لکھا گیا تھا اور اس نظم کا نام ” چارہ گر ” ہے۔
اک چنبیلی کے منڈوے تلے
میکدے سے ذرا اور اس موڑ پر
دو بدن پیار کی آگ میں جل گۓ
پیار حرف وفا ، پیار ان کا خدا
پیار ان کی وفا
دو بدن پیار کی آگ میں جل گۓ
مخدوم محبت کے پاسداروں میں سے ہیں ، یہی پیغام ان کی شاعری میں دور دور تک ملتا ہے۔ بڑے ہی سیدھے سادے انداز میں اپنے دل کی داستاں بیاں کر رہے ہیں۔ان کی ایک اور نظم جس کا نام “آج کی رات نہ جا ” ہے ملاحظہ ہو :
رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد
دیر سے دور سے آئی ہے مگر آئی ہے
مرمریں صبح کے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آۓ گا
رات ٹوٹے گی اجالوں کا پیام آۓ گا
آج کی رات نہ جا
زندگی لطف بھی ہے زندگی آزار بھی ہے
ساز وآہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہے
زندگی دید بھی ہے حسرت دیدار بھی ہے
زہر بھی آب حیات لب و رخساربھی ہے
آج کی رات نہ جا۔۔۔
ًج کی رات بہت راتوں کے بعد آئی ہے
کتنی فرخندہ ہے شب مبارک ہے سحر
وقف ہے میرے لیے تیری محبت کی نظر
آج کی رات نہ جا۔۔۔
مذکورہ نظم میں رات کے حوالے سے زندگی کے سوز و ساز اور آزار و الفت کے تمام راز کھول دۓ گۓ ہیں۔ اور وصال کے لیے تمام راتوں کا جاگا ہوا مسافر اب اپنے دوست سے یوں مخاطب کہ آج کی رات نہ جا ۔ تیرے بغیر تو دنیا سونی سونی ہے۔ زندگی کی لذت باقی نہیں ہے ، زندگی سوگوار ہے بس آج کی رات نہ جا۔ اس اور اس جیسی نظموں کے مطالعے کے بعد اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ترقی پسند شعرا کے یہاں بھی غالب موضوع روایتی عشق اور اس کے منسلکات ہی رہے ہیں ۔ اور وہ اس روایتی موضوع سے کنارہ کش نہیں ہوۓ ہیں پھر فیض کی شاعری سے کہیں کہیں یہ اشارے ضرور ملتے ہیں کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ مگر اس کے باوجود بھی ان شعرا کے یہاں عشق و محبت ، حسن وعشق اور گل و بلبل کے قصے بڑے ہی قرینے سے دہراۓ گۓ ہیں۔
مخدوم کی تمام نظموں میں تقریبا اس حس کے اشارے بخوب ملتے ہیں۔
نظم بھاگ متی سے یہ چند ٹکڑے۔۔۔
پیار سے آنکھ بھر آتی ہے کنول کھلتے ہیں
جب کبھی لب پہ ترا نام وفا آتا ہے
دشت کی رات میں بارات یہیں سے نکلی
راگ کی رنگ کی برسات یہیں سے نکلی
اسی طری نظم “ستارے ” کے یہ بند دیکھ لیں :
جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
جاؤ جاؤ چھپ جاؤ ستارو
رات رات بھر جاگ جاگ کر
کس کو گیت سناتے ہو
مذکورہ نظم میں بھی اسی موضوع کی دبی دبی سی بو آ رہی ہے۔ انہیں جذبات کو مہکاۓ ہوۓ ان کی غزلوں میں اسی بو کی لہک نظر آتی یے۔
عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے
مخدوم محی الدین ایک عظیم انقلابی رومانی شاعر ہیں ۔ ان کی شاعری میں حقیقت اور خیال کا لوازمہ بہت حد تک پایا جاتا یے۔کیونکہ یہاں جمالیاتی حسن اور انسانی تخیل کی کارفرمائی کا قوی گمان نظر آتا ہے۔ مخدوم محی الدین ایک جگہ “گل تر” میں یوں رقم طراز ہیں :
“زمان و مکان کا پابند ہونےکے باوجود شعر بے زماں Timeless ہوتا ہے اور شاعر اپنی ایک عمر میں کئی عمریں گزارتا ہے۔سماج کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات اور احساسات بھی بدلتے جاتے ہیں، مگر جبلتیں برقرار رہتی ہیں ۔ تہذیب انسانی جبلتوں کو سماجی تقاضوں سے مطابقت پیدا کرنے کا مسلسل عمل ہے۔ ”
مخدوم اس زمانے میں شعر کہتے تھے جب ان کے ہم عصروں میں فیض ، ساحر ، مجروح اور علی سردار جعفری جیسے شعراء کی موجودگی تھی ۔ اگر دیکھا جاۓ مخدوم کے یہاں بھی اپنے ہم عصروں کے جیسے موضوعات تھے جن میں رومانیت پسندی بھی شامل ہے مگر جس جدت سے انہوں نے ان موضوعات کو برتا یے وہ سب سے بڑی بات ہے۔
ہم کو بے مائگِی ضبط دکھانا ہی پڑا
دل کی باتوں کو ترے سامنے لانا ہی پڑا
۔۔۔۔۔
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر
۔۔۔۔۔۔
رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھر تھراتی رہی رات بھر
مخدوم کی شاعری میں رومانوی لہجہ بہت پہلے سے ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان کی نظموں اور غزلوں میں اس موضوع کا امتزاج نظر آرہا ہے۔ نظم” ہم دونوں” جو انہوں نے کماری اندرادھن گیرجی کی نظم Both of us کا آزاد ترجمہ کیا ہے :
رات ہے ، باتیں ہیں ، سرگوشی ہے
تو ہے ، میں ہوں
اپنے گوندے ہوۓ غم کے بندھن
شب کے سناٹے میں
جاگ اٹھتے ہیں ، تڑپ جاتے ہیں ، چلاتے ہیں
دام افسون و طلسمات میں پھنس جاتا ہے دل
جسم اور جان کو کھا جاتا ہے غم
نیش ِ غم اور دل زار میں پیکار چلی جاتی ہے
گرم گرم آنسو ڈھلک جاتے ہیں رخساروں پر
زندگی یادوں کا مینار بنا لیتی ہے
نظم کا اگلا حصہ طوالت کی سبب یہاں بیاں کرنا ٹھیک نہیں سمجھتا ہوں ۔ اس ساری نظم میں وہ ایک خیال یوں بیاں کرتے ہیں کہ جس میں رومانوی فضا ایک قاری کو محسوس ہونے لگتی یے۔ نظم کا پہلا مصرعہ جو رات سے شروع ہوتا ہے ۔ اسی رات کی موجودگی میں اپنے دوست سے سارے دل کے بھید اور اس دل میں بسی ہوئی تمناؤں کی درخواست کو کھولنا چاہتا یے اور رات کے اندھیرے اس بات کی سب سے زیادہ وہ مواقعے دستیاب کر رہے ہیں کہ” ہم دونوں “اس گوندھے ہوۓ غم کے بندھن میں اور اس شب کے سناٹوں میں جاگ بھی جاتے ییں اور تڑپ بھی جاتے ہیں، کیونکہ پھر بھی یہی دل کہیں نہ کہیں اظہار کی راہ میں پھنس ہی جاتا ہے۔اس رات کا اختتام صبح کر جاتی ہے جب صبح کسی ہنس کی طرح تیرتی ہوئی ان کے پاس سے دستک دے جاتی ہے ۔ اس سمے میں صرف رات ہی نہیں گذرتی ہے بلکہ دلوں کے شہر کے تمام کوچے دکھا دئے جاتے ہیں۔ اسی طح آپ نظم “طور ” دیکھۓ جو کہ شعری مجموعہ “سرخ سویرا” کی پہلی نظم ہے میں بھی ایک رومانیت کااحساس جا گزیں ہو جاتا ہے ۔ جس میں ایک نوجواں کے جذبات اس کی حس اور اس کی بے چین آنکھیں وہ سبھی کچھ حال بیاں کر رہی ہیں جن سے وہ گزر رہے ہیں۔
یہیں کی تھی محبت کے سبق کی ابتدا میں
یہیں کی جرات ِ اظہار حرف مدعا میں نے
یہیں دیکھے تھے عشوے ناز و انداز حیا میں نے
یہیں پہلے سنی تھی دل دھڑکنے کی صدا میں نے
یہیں کھیتوں میں پانی کے کنارے یاد ہے اب بھی
کہا جاتا ہے کہ شاعر اپنے سماج سے الگ تھلگ رہ کر ایک جانور کی حیثیت رکھتا ہے لہذا وہ جو کچھ بھی سوچتا ہے اپنے سماجی آئینہ کو دیکھ کر ہی سوچتا یے۔ اور شعر بقول مخدوم ماورا کی حدوں کو چھوتے ہیں مگر سماج سے ماورا نہیں ہوتا ہے۔
دراصل مخدوم بچپن ہی میں یتیم ہوگۓ ہیں ، چار سال کی عمر میں ان کے والد اس دنیاسے کوچ کر جاتے ہیں اور ان کی ماں دوسری شادی کر لیتی ہے تواس صدمے سے کسی بھی بچے کی پرورش اثر انداز ہو سکتی تھی ۔ اس طرح آپ بچپن سے ہی ماں کی شفقت سے محروم ہو گۓ ہیں۔اگر کوئی اور ہوتا تو اس کی زندگی ویراں بن جاتی ، مگر ان کے چچا نے انہیں اچھی پرورش و تربیت کی اور انہیں ان سے مختلف انقلابات جیسے انقلاب روس کے بارے میں بھی آگہی ملی تو آگے چل کر ان پہ اسی طری کی تاریخی اثرات پڑنے لگے ہیں ۔ انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھ کے سٹی کالج میں بحیثیت لیکچرر منتخب ہوۓ مگر انہوں نے کالج کی ملازمت چھوڑ دی اور کمیونسٹ پارٹی کے لئے بے حد فعال اور متحرک رکن بن گۓ۔
دوسری جانب ان کے اندر رومانیت کے خواب مچل مچل رہے تھے جس کا دبا دبااظہار ان کے اشعار سے ہونے لگتا یے۔
کھیلتا تھا جب لڑکپن سے ترا رنگین شباب
ہٹ رہی تھی ماہ عالم تاب کے رخ سے نقاب
زندگی تھی حسن نو آغاز کا رنگین خواب
یاد ہے وہ جوانی کا زمانہ یاد ہے
جب کہ ساز زندگی نغمات سے معمور تھا
ذرہ ذرہ میرے دل کی خاک کا جب طورتھا
میں اکیلا ہی نہیں سارا جہاں مسرور تھا
یاد ہے وہ نوجوانی کا زمانہ یاد ہے
“نظم یاد ہے ”
یا اس نظم کو دیکھ لیجۓ:
کچھ قوس قزح سے رنگت لی کچھ نور چرایا تاروں سے
بجلی سے تڑپ کو مانگ لیا کچھ کیف اڑایا بہاروں سے
اس طرح سے ان کی ہر ایک نظم میں دل کے جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ جو رومانی فضا ابھرتی ہے وہ سراہنے کے لائق ہے۔ جس سے ان کے دل کےاندر کے عالم کی کشمکش اور اپنے گردو پیش کے خارجی عالم میں ایک قسم کا تضاد پایا جا سکتا ہے۔ ان نظموں سے ان کے تخلیقی سوچ اور ان کے رجاحانات کی بہترین عکاسی ہو جاتی یے ۔ یہ نظمیں ان کے قلبی کیفیت کی نہ صرف مظہر ہیں بلکہ سماجی آئینے کی عکاس بھی ہیں ۔
مخدوم محی الدین نے مزدوروں عام انسانوں اور سماج کے پچھڑے ہوۓ لوگوں کی بات اٹھائی ہے ،اور ساتھ ہی میں نفی سوچ کی نفی بھی قن کی نظموں میں مل جاتا ہے چاہے وہ منفی سوچ کسی کی ذات سے متعلق ہو یا وطن سے تعلق رکھتا ہو اس ضمن میں “اندھیرا ” ان کی جو نظم ہے اہمیت کی حامل ہے۔ جس میں افلاس و غربت ، جنگ کی تباہ کاریوں کے ہولناک مناظر اور رنجشوں کا نقشہ اس قدر سنجیدگی کے ساتھ کھینچا گیا ہے کہ انسان سکتے میں آ جاتا ہے۔
رات کے ہاتھ میں اک کاسۂ دریوزہ ٔگری
یہ چمکتے ہوۓ تارے یہ دمکتا ہوا چاند
بھیک کے نور میں مانگے کے اجالے میں مگن
یہی ملبوس عروسی ہے یہی ان کا کفن
اس اندھیرے میں وہ مرتے ہوۓ جسموں کی کراہ
وہ عزازیل کے کتوں کی مکیں گاہ
“وہ تہزیب کے زخم”
خندقیں باڑ کے تار
اندھیرا اپنے آپ میں تخلیقی قوت کا حامل لفظیات کی ذیل میں آتا یے اور اس پر جب اس طرح کا اظہار عمل ساتھ ہو تو اس کا ایک ایک مصرعہ اثر آفریں بن جاتا یے۔
مذکورہ نظم کے بارے میں شاذ تمکنت یوں رقم طراز ہیں:
” اندھیرا اپنے ڈکشن کے اعتبار سے بھی بڑا اثر آفریں ہے۔ جنگ کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں کے ہولناک لہو لہان منظر کے لۓ جو لفظ یا ٹکڑے قلم سے ٹپک پڑے ہیں وہاں خود سماں باندھ رہے ہیں ۔ مثلا جسموں کی کراہ ، مکین گاہ ، خندقیں ، باڑھ کے تاروں میں الجھے ہوۓ انسانوں کے جسم ، گدھ ، تڑختے ہوۓ سر ، میتیں ، لاش کے ڈھانچے ، رونے کی صدا ، کبھی بچوں کی ، کبھی ماؤں کی وغیرہ وغیرہ ۔ ان لفظوں اور فقروں کو علاحدہ سے بھی پڑھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔”
مخدوم محی الدین : حیات اور کارنامے ، شاذ تمکنت ص ١٥١ مطبوعہ دائرہ الکٹرک پریس ١٩٨٦۔
اس نظم کے حوالے سے جدید فرد کو یہ آگہی ضرور ملتی ہے کہ تباہی ، مایوسی اور تاریکی یہ سبھی اندھیرے کی علامتیں ہیں ۔جس کے ذریعے سے انسانوں کی تباہ حالی کا ایک ہیبت ناک منظر نامہ آنکھوں کےسامنے پھر جاتا ہے۔ یہ نظم بقول محمد شاہد پٹھان علی سردار جعفری کی نظم ” نئی دنیا کوسلام ” کے ابتدائی حصے “حرف اول” سے مماثل نظر آتی ہے۔ جس طرح سردار جعفری نے تاریکی کے خوف ناک اور انتہائی ہیبت ناک منظر کو پیش کرنے کی تصویر بنائی ہے ، اسی طرح مخدوم نے بھی اندھیرے کے انتہائی ڈراؤنے اور ہیبت ناک منظر کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
آزادی کے حوالےسے بھی ان کی کئی نظمیں ہیں جو اپنے وطن کے لیے بطور خاص انہوں نے لکھیں ہیں۔ جن میں “جنگ آزادی ” نظم خاص طورپر شامل ہے۔
وہ جنگ ہی کیا ، وہ امن ہی کیا؟
دشمن جس میں تاراج نہ ہو
وہ دنیا دنیا کیا ہوگی؟
جس دنیا میں سوراج نہ ہو
وہ آزادی، آزادی کیا ؟
مزدور کاجس میں راج نہ ہو
یہ جنگ ہے جنگ آزادی
آزادی کے پرچم تلے
یا
نظم “قمر ” سے یہ چند ٹکڑے
حیات نو مجھے آواز دے رہی ہے سنو
دبی زبان میں کچھ گنگنا رہا ہے قمر
اداس رات ہے افلاس ہے غلامی ہے
کفن سے منہ کو نکالے ڈرا رہا ہے قمر
مخدوم محی الدین نے اپنی توانا فکر کے ساتھ اپنے عہد کے سبھی مسائل کے شعری چراغ روشن کۓ ہیں۔ انہوں نے اپنے عہد کے تقاضوں کے مطابق ان علائم اور دکھ درد پر مداوا بھی کیا یے۔ یوں ان کی اردوشاعری میں کافی وقعت اور اہمیت بھی بے حد دکھائی دیتی ہے۔
