عید میلاد کا پیغام 0

عید میلاد کا پیغام

محمد شفیع ایاز

دنیا کی تاریخ میں بعض دن ایسے ہیں جنہوں نے انسانی تقدیر بدل ڈالی۔ وہ دن جب ظلمت چھٹی، روشنی پھیلی، اور انسانیت کو ایک نئی راہ دکھائی گئی۔ انہی دنوں میں سب سے برکتوں والا دن ۱۲ ربیع الاول ہے، جس دن اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے بڑی نعمت، اپنے محبوب رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس دنیا میں بھیجا۔ اس دن کو مسلمان عقیدت و احترام سے “عید میلاد النبی ﷺ” کے طور پر مناتے ہیں۔
یہ دن ہمیں صرف خوشیاں منانے اور تقریبات کرنے کا موقع فراہم نہیں کرتا بلکہ ہمیں اس بات پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ آخر حضور ﷺ کی آمد کا اصل مقصد کیا تھا اور ہمیں اس سے کیا سبق ملتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی بعثت اور مقصدِ رسالت
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: “وما ارسلناک الا رحمة للعالمین” (الانبیاء: 107) یعنی “ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر۔”
یہ آیت مبارکہ نبی کریم ﷺ کی آمد کے مقصد کو واضح کرتی ہے کہ آپؐ انسانیت کے لئے سراپا رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے بکھری ہوئی قوموں کو جوڑا، ظلم و جبر کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی دنیا کو عدل و انصاف کی روشنی بخشی اور انسان کو انسانیت کا درس دیا۔
عید میلاد منانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم محض چراغاں کریں، محفلیں سجائیں اور نعت خوانی کریں بلکہ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو سیرت النبی ﷺ کے مطابق ڈھالیں۔
ایمان کی تکمیل محبتِ رسول کے بغیر ممکن نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی جان، اس کے مال اور اس کے اہل و عیال سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔” میلاد ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم اپنے دلوں میں حضور ﷺ کی محبت پیدا کریں اور اس محبت کا عملی ثبوت سنتِ رسول کی پیروی سے دیں۔
آپ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں اعلان فرمایا: “تمام انسان آدم کی اولاد ہیں۔ کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔” یہ تعلیم آج بھی دنیا کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ میلاد کا پیغام یہ ہے کہ ہم رنگ و نسل، زبان اور قومیت کی تقسیم سے اوپر اٹھ کر انسانیت کو ایک جانیں۔
آپ ﷺ نے معاشرے میں انصاف قائم کیا۔ غریب، یتیم، مسکین اور مظلوم کے لئے آپؐ پناہ گاہ بنے۔ میلاد کا پیغام یہ ہے کہ ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور انصاف کو معاشرتی نظام کی بنیاد بنائیں۔

یہ بھی پڑیے

آمدِ مصطفیٰ سے انسانیت کو مسیحائی مل گئی!

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “وانک لعلی خلق عظیم” (القلم: 4) یعنی “یقیناً آپ بلند اخلاق کے حامل ہیں۔” آپ ﷺ کی پوری زندگی بہترین اخلاق کی زندہ مثال ہے۔ میلاد کا پیغام ہے کہ ہم نرمی، بردباری، صبر، عفو و درگزر اور حسنِ سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
موجودہ دور میں میلاد کی معنویت سمجھنے کی ضرورت ہے
�آج دنیا مختلف بحرانوں سے دوچار ہے
� ظلم و جبر عام ہے
� معاشرے میں نفرت اور تقسیم بڑھ رہی ہے
� نوجوان بے راہ روی اور مایوسی کا شکار ہیں
� والدین اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں
� حکمران اپنی رعایا کے ساتھ انصاف نہیں کرتے
�ایسے میں میلاد النبی ﷺ کا پیغام ہمارے لئے نجات کا راستہ ہے۔
� نوجوانوں کے لئے پیغام:
علم و ہنر حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو قوم و ملت کی خدمت کے لئے وقف کریں۔
� والدین کے لئے پیغام:
اپنی اولاد کی تربیت قرآن و سنت کی روشنی میں کریں تاکہ وہ اچھے شہری اور مومن بن سکیں۔
� حکمرانوں کے لئے پیغام:
عدل، شفافیت، خدمتِ خلق اور رعایا کی بھلائی کو اولین ترجیح دیں۔
� عام مسلمانوں کے لئے پیغام:
اپنی زندگی کو سیرت النبی ﷺ کے مطابق گزاریں اور معاشرتی سطح پر خیر و بھلائی کو عام کریں۔
عید میلاد النبی ﷺ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام کا پیغام صرف انفرادی عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔
� یہ دین ہمیں عبادت بھی سکھاتا ہے اور معاملات بھی،
� یہ ہمیں حقوق اللہ بھی یاد دلاتا ہے اور حقوق العباد بھی،
� یہ ہمیں امن و محبت کا درس دیتا ہے اور ظلم و ناانصافی سے روکتا ہے۔
اگر مسلمان معاشرے اس پیغام کو سمجھ کر عمل کریں تو دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے اور انسانیت سکون پا سکتی ہے۔
عید میلاد النبی ﷺ خوشیوں کا دن ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھالیں۔ اس دن ہمیں یہ وعدہ کرنا چاہئے کہ ہم نفرت کی بجائے محبت، ظلم کی بجائے انصاف اور خودغرضی کی بجائے ایثار کو اپنائیں گے۔
حقیقی میلاد یہی ہے کہ ہمارے قول و فعل میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات جھلکیں۔ یہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا راستہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں