بشیر اطہر
7006259067
عمران کو وفات پائے دو سال ہو گئے تھے۔ ابھی گھر کا زخم بھرنے بھی نہ پایا تھا کہ ان کا چھوٹا بھائی سجاد، بھابی حلیمہ کو معصوم بچوں سمیت گھر سے دھکے دے کر نکال دیتا ہے۔ جاتے وقت اس نے بڑے غرور سے کہا:
بھائی تب تک بھائی ہوتا ہے جب تک وہ زندہ رہتا ہے۔ مر گیا تو رشتہ بھی ختم!”
حلیمہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے:
کیا تمہیں یاد نہیں عمران نے تمہیں کس ناز سے پالا؟ شادی کے لئے قرض تک لیا تھا!”
سجاد نے ہنکارا بھرا:
یاد ہے! مگر یہ احسان نہیں تھا، بڑا بھائی تھا تو فرض تھا اُس کا۔
یوں حلیمہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ گاؤں کے چوکیدار کے کچے مکان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ مزدوری کرکے بچوں کا پیٹ پالتی، کبھی آدھا نوالہ خود چھوڑ دیتی اور کبھی بچوں کو بھوکا سلا دیتی۔
ادھر سجاد… ایک حج اور دو عمرے کرنے کے بعد اب تیسرے عمرے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ لوگوں کو دعوت نامے بانٹنے نکلا تو حلیمہ کے دروازے پر بھی آ دھمکا۔
جیب سے سو کا نوٹ نکال کر بھتیجی سکینہ کو دیا:
لے بیٹی! یہ لے دوپٹہ خرید لینا۔ اور ہاں، جمعرات کی دعوت پر ضرور آنا، میری فلائٹ جمعہ کو ہے۔”
حلیمہ کونے میں سہمی بیٹھی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ کرایے کے گھر سے بھی نہ نکال دے۔ وہ آہستہ سے بولی:
بیٹی! دیکھو، چچا کو تمہارا پھٹا ہوا دوپٹہ تو نظر آیا، مگر تمہارے پھٹے کپڑے نہیں… میرا ٹوٹا ہوا دل نہیں۔”
پانچ سالہ شاہد، جو پاس ہی کھیل رہا تھا، معصومیت سے ماں سے بولا:
ممی یہ تون ہیں؟ اس نے بہنا کو پیسہ دیا، مجھے کیوں نہیں دیا؟”
سجاد کے تیور بگڑ گئے:
اوہو! تم نے بچوں کو بھی منحوس بنایا ہے، یہ بھی نہیں جانتے کہ میں ان کا چچا ہوں!”
حلیمہ نے روہانسی آواز میں کہا:
چاچا؟ کیسا چاچا؟ وہ جو ہمیں گھر سے دھکے دے کر نکال دے… وہ کیسا رشتہ دار!”
سجاد غصے سے بھڑک اٹھا:
میں یہاں تمہارا لیکچر سننے نہیں آیا۔ مجھے عمرہ جانا ہے!”
حلیمہ کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا:
عمرہ؟ جو لوگوں کا حق کھا جائے، یتیموں کو بے گھر کر دے، اُس کا عمرہ قبول ہوگا؟”
یہ سن کر سجاد نے بھرپور تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا۔ حلیمہ کی چیخ گونجی اور بچے ماں کے ساتھ رونے لگے جیسے آج ہی ان کے باپ کا انتقال ہوا ہو۔
چند دن بیماری کے بعد حلیمہ بھی گاؤں کے قبرستان میں جا سوئی۔ سکینہ اور شاہد اب کبھی بھوکے سوتے، کبھی دربدر ٹھوکر کھاتے۔ مگر گاؤں کا کوئی شخص ان کے لئے انصاف کی آواز بلند نہ کر سکا۔
اور سجاد؟ وہ پھر بھی مطمئن دل کے ساتھ “عمرہ” پر روانہ ہو گیا…
