غلام حسن طالب
9149846599
کرشنہ بہاری نور کا شعر ہے
سچ گٹھے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
دنیا میں مختلف نوعیت کے واقعات ، حقائق اور معاملات کو بغیر کسی کمی یا زیادتی کے بیان کرنے کو سچ یا صدق کہتے ہیں اور سچائی ایک بنیادی اخلاقی قدر ہے جو معاشرے میں اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے -سچ بولنے سے جھوٹ اور مکر و فریب سے بچا جا سکتا ہے -اس کے برعکس کسی فرد یا جماعت کا کسی دوسرے فرد یا جماعت کے متعلق قصداً کسی بات کو حقیقت کےخلاف بیان کرنے کو جھوٹ یا کذب یا دروغ کہتے ہیں – دراصل مختلف وجوہات کی بناء پر کوئی فائدہ پانےیا نقصان سے بچنے کے لئے لوگ جھوٹ بولنے لگتے ہیں – معاشرے میں جھوٹ کو عمومی طور ایک برا فعل گردانا جاتا ہے- سفید جھوٹ صاف و شفاف ہوتا ہے اور کسی کو تکلیف یا نقصان پہنچانے کےلئے نہیں بلکہ اس کو خؤش کرنے یا اس کی دلجوئی کے لئے بولا جاتا ہے – موجودہ وقت میں جہاں ملاوٹی غذائی اشیاء مضر صحت ہوتے ہیں وہاں سچ اور جھوٹ کی آمیزش سے ضمیر شکنی ہوتی ہے –
بنی آدم کی زندگی میں محاسن اور معائب کا ہونا ایک فطری تقاضا ہے- تاہم ان میں سے سچ اور جھوٹ دو ایسے متضاد کردار ہیں جن کا انسانوں کی زندگی میں ایک کلیدی رول رہتا ہے-جب ایک انسان معمول کی گفتگو کےدوران باتیں گھڑنےیا گھما پھرا کر کہنے یا کسی واقعہ کے خلاف بولنے یا حقائق کے برعکس کہنے یا انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کرتاہے- تو اس نوعیت کی ساری غلط بیانیاں جھوٹ کہلاہیں گی -اس کے برعکس سچ کہنے سے انسان سکھی رہتا ہے اگرچہ سچ بات کڑوی لگتی ہے-دوسری طرف جھوٹ برابر پاپ نہیں یا یوں سمجھیں جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے-دنیا میں اگر دن نہیں ہوتا تو رات کی بات کون کرتا – اگر دنیامیں جھوٹے نہ ہوتے تو آج کس طرح لوگ یہ واویلا کرتے پھرتے کہ سچ کا زمانہ نہیں، جھوٹ کا دور دورہ ہے-حالانکہ ہم اکثر یہ کہاوت دہراتے ہیں، جھوٹے کا منہ کالا، سچے کا بول بالا – جب تک انسانوں کے ہر قسم کے اظہارِ خیالات یا حقائق بیانی یا پوچھنے پاچھنے کے مکالموں میں راست گوئی قائم و دائم رہتی ہے، سچائی کا پرچم لہراتا رہے گا، حالانکہ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ سچ بات کڑوی لگتی اور سچ بولنا آدھی لڑائی مول لینا ہے- اگرچہ یہ قول بھی زبان زد عام ہے کہ سچے مرگئے، جھوٹوں کو تپ نہ آئی – پھر بھی سچ کہنا اور سکھی رہنا ایک مسلمہ حقیقت ہے – حیرانی اس بات پر ہے مختلف سماجی ، ادبی اور مذہبی تقاریب کے دوران مقررین کی طرف سے ایک دوسرے کے لئے سچی تعریفیں کرنے سے زیادہ جھوٹی تعریفیں سننے کو ملتی ہیں- یہی حال تصنیف و تالیف کے میدان میں مشاہدے میں آتا ہے- کتابوں پر مقدمے یا پیش لفظ لکھتے وقت تعریفوں کے پل باندھنے کی رسم جاری ہے جن میں سچائی کم اور جھوٹ زیادہ ہوتا ہے -مثال کے طور کسی علمی یا ادبی شخصیت کے مرجانے پر لوگ کہتے رہتے ہیں کہ خلا ہوگیا اب پر کرنا مشکل ہے جبکہ خلا جدا ہونے والے سے زیادہ قابل انسان سے پر ہوجاتاہے-
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا جھوٹ ایک ذہنی بیماری ہے یا کمزوری ؟ فی الحقیقت جھوٹ جب بڑھ جائے اور بعض لوگوں میں مسلسل جھوٹ بولنے کی عادت سرایت کر جانے تو یہ ذہنی مرض ہے اور نفسیاتی طور ایک جھوٹا شخص اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے،اگرچہ وہ اپنی جگہ اپنے جھوٹ کو سچ سمجھتا ہے اور اس سے مزے لے لے کر تسکین پاتاہے- اس کے باوجود کوئی بھی فرد یہ کہنے میں حق بجانب ہوگا کہ آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ! جھوٹ بولنے کا بھی ایک مخصوص وقت ہوتا ہے جس کے بعد دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہوکر رہ جاتاہے- جھوٹ بولنا ایک کمزوری بھی ہے اور مجبوری بھی-داناوں کا کشمیری زبان میں ایک قول ہے جس کا ترجمہ ہے سہل یا ہلکا جھوٹ ایمان کے لئے خطرہ ہے -ذرا ہم سب اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم روزانہ کس طرح مسلسل ہلکا یا آسان جھوٹ بولتےرہتے ہیں- اکثر لوگوں میں یہ عادت ہے کہ وہ اپنے گھروں میں موجود ہونے کے باوجود ملنے کے لئے بعض آنے والوں کو گھر والوں سے یہ کہلواتے بھگا دیتے ہیں کہ مالک یا صاحب گھر میں موجود نہیں ہے -اتنا ہی نہیں بلکہ ہماری یہ مشترکہ عادت رہی ہے کہ جب ہم کسی رشتہ دار یا دوست یا ہمسایہ کے گھر جاتے ہیں تو حسب معمول وہ ہمیں چائے پینے یا کھانا کھانے پر زور دیتا ہے اور ہم میں سے اکثر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تو گھر سےچائے پی کر یا کھانا کھاکر آئے ہیں- سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ نہ بولے تو پیٹ اپھر جائے-قسمیں کھانے والوں کے متعلق بعد میں پتا لگ ہی جاتا ہے کہ ان میں سے بیشتر افراد نے نہ چائے پی لی ہوتی ہے نہ کھانا کھایا ہوتا ہے -لہذا اس قسم کے جھوٹے بیان سےوہ وقتی طور تو میزبان سے چھٹکارا پاتے ہیں لیکن آخر کار جھوٹ کی ناؤ نہیں چلتی-ہاں البتہ ! یہ بھی سچ ہے کہ حرام زادے کی رسی دراز ہوتی ہے گویا سچا جائے، روتا آئے، جھوٹا جائے ، ہنستا آئے -ہماری روزمرہ کی زندگی کے دوران ایسے بیشتر مراحل بھی آتے ہیں کہ جب بنی آدم جھوٹی شان و شوکت بنائے رکھنے یا دوسروں کے خلاف بہتان باندھنے یاتہمت تراشنے یا ناحق کسی بیگناہ پر اتہام یا الزام لگانے جیسے جھوٹ کے پل باندھنے سے کم از کم جھوٹوں کا بادشاہ تو کہلایا جاتا ہے- جب سے چار دانگ عالم میں ڈیجیٹل کی حکمرانی شروع ہوگئی جھوٹ موٹ کے نظارے منظر عام پر آنے شروع ہوگئے ہیں – آجکل کے انسانوں کے مابین ٹیلیفون رابطے جھوٹ سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں، مشکلی سے کوئی بیٹا یا بیٹی اپنے والدین کو دور جگہوں سے صحیح خبر بہم پہنچاتے ہیں، کوئی بھی گھر کافرد اپنے گھر والوں یا بعض دوسرے رابطے میں آنیوالوں کو اکثر ڈارک یعنی کہ اندھیرے میں رکھتا ہے اور اپنے بارے میں جھوٹی اطلاعات دے کر انہیں مطمئن کرتاہے –
سچ اور جھوٹ کو اس وقت سے استحکام ملا ہے کہ جب سے دنیا میں قاضی القضات کا منصب وجود میں آیا ہے اور اس اعلٰی مقام پر آج کل چیف جسٹس ہوتا ہے- چنانچہ عدالتوں میں وکلاء ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے جراحوں بلکہ بیان تحریری، بیان ضمنی اور شہادت و گواہی سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں -آخر ایک مجرم کو جب بچانا مقصود ہو تو سچ کو سچ ماننے میں اڈچنیں لانا ہی پڑتی ہیں – جس سے جھوٹ کا دفتر کھلنا طے ہے- آئے دن ہم جھوٹے مقدمات اور جھوٹی خبروں کے متعلق سنتے ہیں جن کی جانکاری ہمیں سوشل میڈیا سے ملتی ہے-
اگر دیکھا جائے تو سیاست میں سچ سے زیادہ جھوٹ کی بالادستی قائم رہتی ہے-دراصل پروپیگنڈا جھوٹ کی پیداوار ہے – جس طرح ہمارے جل شکتی والے ٹینکروں میں بھرےخالص پانی کو پینے کا پانی نام دیتے ہیں ویسے ہی ہمارے صحافی ،قلم کار اور خود سیاسی جماعتیں خالص پروپیگنڈا کو جھوٹے پروپیگنڈے سے موسوم کرتی ہیں ویسے پانی، پانی ہوتا ہے اور پروپیگنڈا، پروپیگنڈا، جس کے اثرات عام نوعیت کے جھوٹ سے زیادہ سنگین ہوتے ہیں-
مشاہدے میں آیا ہے کہ اس پوری کائنات میں صرف ایک آئینہ ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہے-مجموعی طور سچ اور جھوٹ کی پرکھ ہوتی ہے- سچ کو سچ یاجھوٹ اور جھوٹ کو جھوٹ یا سچ ثابت کرنے کیلئےطرح طرح کی حکمت عملیاں اپنائی جاتی ہیں، بارشوں کے موسم میں گھر یا دفتر یا عبادت گاہ میں داخل ہوتے وقت آپ اندر والوں کے پوچھنےپر پھر سے کھڑکی یا دروازے سے آسمان کی طرف نگاہ ڈال کر ہی باہر کی صورت حال بتاسکتے ہیں ورنہ جھوٹا قرار پاؤ گے ۔

