Skip to content
- شمشاد کرالہ واری
-
نشے کے خلاف اجتماعی صداکا مطلب ہے ۔۔۔۔ کشمیر کے روح کی بحالی
برف سے ڈھکی پہاڑیاں، آئینے جیسے جھیلوں، اور خوشبو سے مہکتی وادیاں… کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ وہ جائے پناہ ہے جہاں روحیں سکون تلاش کرتی تھیں۔ رِشیوں، مُنیوں، اور صوفی بزرگوں نے اسے محض رہائش
—نہیں بنایا بلکہ ایک روحانی مَقام چُنا۔ یہاں کی ہوائیں جیسے دُعائیں کرتی تھیں، خاموشی جیسے درس دیتی تھی، اور جھیلیں جیسے اندیشوں کا عکس تھیں۔
مگر آج ہم ایک اخلاقی دو راہے پر کھڑے ہیں۔ جہاں پہلے عبادتیں ہوتی تھیں، وہاں اب کچھ لوگوں کی سانسیں نشے سے بوجھل ہو گئی ہیں۔ نشہ، جو خاموشی سے جسموں کو ہی نہیں بلکہ خوابوں، گھروں، اور روایتوں کو بھی چاٹ رہا ہے۔ لیکن کئی سماج دشمن عناصر سنگین دل سونے چاندی کے پجاری اس طوفان میں اپنے محل تعمیر کرتے ہیں انہوں نے اپنا جال بچھا دیا ہے کہ غم اور پریشانی کو کس طرح سے سرمائے میں بدلا جائے۔ ہم آئے دنوں گرفتاریوں اور ضبطییوں کی خبریں تو سنتے تو ہیں لیکن وہ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ہیں انکے پکڑ نے سے اسکی بنیاد کو ہلایا نہیں جاسکتا ہے ، مگرمچھ کو پکڑا جائے تو دریا بے خطر بنے گا۔ انکو سخت سزائیں دیجئے لیکن فقط سزائیں اس کا مرہم نہیں بن سکتیں ہیں وہ سماجی روایات کی تجدید، بامعنی اقدام، اور برادری کا تعاون فراہم کر سکتے ہیں۔
کشمیر میں نشہ صرف جسمانی بیماری نہیں، بلکہ ایک تہذیبی و اخلاقی سانحہ ہے۔ نوجوانوں کے لئے بیروزگاری، ذہنی صدمے، ٹوٹتے ہوئے رشتوں، اور اخلاقی بنیادوں کے کھو جانے کے اسباب کو دور کر کے اس کا علاج ضرور ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
ایسا بحران صرف قانون سے نہیں، بلکہ رحمدلی، فہم اور فراست، اور اجتماعی شعور سے سلجھایا جا سکتا ہے۔ نشے کے شکار کو مجرم نہیں بلکہ ایک بکھرتی ہوئی داستان کے وارث سمجھکر بحال کیا جائے ۔ محض سزا سے نہیں، اصلاح و شفقت کے جذبے سے ۔اس کے لئے
– دیہی و شہری علاقوں میں ایسے نشہ بحالی مراکز قائم کیے جائیں، جہاں علاج صرف دوا سے نہیں بلکہ روحانی سکون سے بھی ہو۔
– تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت اور اخلاقی شعور پر توجہ دی جائے۔اور بچوں کو اپنی اولاد کے طور پر دیکھا جائے۔
عدالتی نظام ایسا شفاف بنایا جائے جس کے تحت اصل مجرموں اور سہولت کاروں کو ہی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
– پنجاب جیسے علاقوں کے کامیاب ماڈلز جیسے DITSU سے سبق لیا جائے، جو حقیقی وقت میں نشے کے رجحانات پر نظر رکھتے ہیں۔
اس نشے سے پا ک جموں کشمیر کی مہم میں فنکاروں، شاعروں، اور موسیقاروں کے فنون کے ذریعے سے شعور اجاگر کیاجائے ۔
– مذہبی رہنما منبر و محراب سے اللہ کی بندے کے تعین محبت اور شفقت کی باتوں کو سامنے لایا جائے ، سزا کی باتیں ہی نہیں بلکہ نجات پانے کی دعوت دیں۔
– خاندانوں کے رشتے کو مضبوط بنایا جائے تاکہ وہ خاموشی توڑ سکیں جسمیں ایک دوسرے کی مصیبت سے سکون محسوس کیا جاتا ہے اسکے بدلے میں گزشتہ رات صلواۃ کی بنیاد پر محبت کے ساتھ مصیبت سے نکلنے کی رہنمائی کی جا سکے ۔
کشمیر کی سب سے بڑی طاقت لوگوں کی آپسی برادری میں تھی—جو زبان، رسم، اور محبت سے جڑی تھی۔ لیکن وہ جذبات ہی ختم ہو چکے ہیں۔ کسی بزرگ کے سامنے کوئی نوجوان کسی بھی قسم کی بے ہودہ حرکت کرنے کی جراءت نہیں کرتا تھا اور بزرگ لوگ کسی بھی غلطی کی طرف بڑھنے والے نوجوان کی اصلاح کئے بغیر نہیں بیٹھتے۔ کوئی پولیسنگ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اب وہ احترام اور تعلق ہی باقی نہیں رہا۔ اسی احساس اور خلوص کی طاقت کو بیدار کرنا ہوگا ۔محدود کئے ہوئے رشتوں کو لا محدود بنانا ہوگا جبھی ہم دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم لل دید اور شیخ العالم کے وارث ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم لل دید اور شیخ العالم کی تعلیمات سے ہی دور کئے گئے ہیں ۔اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ شیخ العالم نے شاید آج کے حالات کے پیش نظر ہی کہا ہے۔
“أکسی مٲلس تہء ماجہ ہندین یمن دئ ترٲوتھ
تہ کیاے” تو ہم بد قسمتی ہے ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور نہیں رہتے ہوتے ان حالات میں اپناخاندان ہی اولین علاج گاہ بن سکتا ہے جہاں شرمندگی کے احساس کے بدلے میں حمایت کے جذبے کو کام میں لایا جاتا تھا لیکن اب ہمدردی کی جگہ شرمندگی نے لے لی ہے نتیجہ کے طور پر قیمتی جانوں کا نقصان بے خبری کے عالم میں ماں باپ اور پورے خاندان کی کمر توڑدیتا ہے۔ اس لئے گھر میں آپسی گفت و شنید کے طریقے کو بڑھاوا دیا جائے ۔
خواتیحن ہمدردی کی رہنما بنیں—خواتین کے گروپ، رہنمائی کے حلقے، اور محفوظ جگہیں قائم ہوں۔
کشمیر نے مغلوں ، افغانوں اور ڈوگرہ حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کو دیکھا ہے ۔راتوں میں گلریز سننے سنانے میں غم دفع کرتے تھے۔ ہر تقریب اور تہواروں میں بھر پور شرکت کرتے تھے ۔ اپنے اپنے عقائد کے مطابق زیارت گاہوں خانقاہوں مساجد میں جا کر اشک شوئی کرتے تھی ۔ آج سائنس کا ماننا ہے کہ اس سے ذہنی تناؤ سے آزادی ملتی ہے۔ سب سے بڑی بات دکھاوے کو چھوڑ سادگی زندگی کو اپنائیں تاکہ بغیر پریشانی کی زندگی گزارنے کا لطف اٹھا یا جاسکے۔
اخلاقی پکار: وقت کا تقاضا
کشمیر کی خوبصورتی صرف منظر نہیں، میراث ہے۔
ہر نوجوان جو نشے سے چھٹکارا پاتا ہے، ایک شعری مصرع واپس آتا ہے۔
ہر اقدامِ رحمدلی ایک رشتہ جوڑتا ہے۔
ہر آواز جو امید سے بولتی ہے، کشمیر کو شکستگی نہیں بلکہ زندگی دیتی ہے۔
جب تک پہاڑ کھڑے ہیں، امید زندہ ہے۔
جب تک دریا بہتے ہیں، یاد جاری ہے۔
جب تک نشے کے خلاف ایک عوامی آواز عزم سے بولے، کشمیر زندہ ہے۔
یہ آواز ہماری ہو۔ یہ لمحہ ہماری پہچان ہو۔ اس میں جموں و کشمیر کی مستعد پولیس کا اہم رول ہے ۔وہ کسی بھی ٹارگیٹ کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بشرطیکہ کہ اعتماد کے ساتھ ایک متعینہ مدت کے اندر اندر ٹارگیٹ پورا کرنے کا ہدف دیا جائے ۔
اگر آپ کو کسی مخصوص خبر کی تلاش ہے تو یہاں نیچے دئے گئے فارم کی مدد سے تلاش کریں