انشایہ۔۔۔۔— قریشی صاحب، اور وہ خونی اسم معرفہ” 0

انشایہ۔۔۔۔— قریشی صاحب، اور وہ خونی اسم معرفہ”

میر شوکت پونچھی

اردو گرائمر ایک ایسا بکھیڑا ہے جس میں داخل ہوتے ہی بندہ نہ صرف اسم اور فعل کے درمیان پس جاتا ہے بلکہ زندگی کے دیگر فیصلے بھی مؤخر کر دیتا ہے۔ اس کا حال بالکل ویسا ہی ہے جیسے بچپن میں جب ہم اردو کی کتاب کھولتے تھے تو لگتا تھا جیسے “گلزار کی شاعری” سے نہیں، بلکہ “دفترِ محاسبہ” سے سابقہ پڑ گیا ہو۔ مگر اصل قیامت تو تب ٹوٹتی جب نویں جماعت میں قریشی صاحب کا “گرائمر نامہ” ہاتھ لگتا تھا — جی ہاں، وہی ایم این قریشی پونچھی۔
قریشی صاحب کی کتاب نہ ہوئی، باقاعدہ عقوبت خانہ ہو گئی، جہاں ہر صفحے پر کسی نئی تعذیب کا اعلان تھا۔ جیسے ہی کتاب کھولتے، تو پہلے صفحے پر لکھا ہوتا:
“اسم معرفہ کی آٹھ قسمیں: علم، معرفہ علم، اسم اشارہ، اسم موصول…”وغیرہ وغیرہ
اب بندہ پوچھے کہ بھائی، اگر اسم معرفہ ہے تو پھر قِسموں کی بھی قِسمیں؟ کیا یہ اردو ہے یا کسی جاگیردار کی زمین جس میں ہر موضع کے نیچے اور بھی کھیت چھپے ہوں؟
ہماری اسکول کی گرمیوں کی چھٹیاں دراصل قریشی صاحب کی کتاب سے نفرت میں گزرتی تھیں۔ باہر لو چل رہی ہوتی، اندر پنکھا بند، اور ہاتھ میں وہی کتاب جو اتنی موٹی تھی جیسے کسی مولوی صاحب کی شادی میں پکائی گئی بریانی کی پتیلی ہو، جس میں کچھ سمجھ نہ آئے مگر پیٹ بھر جاتا ہے—یا یہاں دماغ پھٹ جاتا ہے۔
استاد کہتے، “بچو! آج ہم اسم کی اقسام پڑھیں گے۔”
ہم سب سانس روک لیتے، جیسے باراتی دلہن کی جھلک دیکھنے جا رہے ہوں۔
پہلا اسم: علم۔
ہم نے کہا، “چلو جان بچی۔”
اگلا آیا: اسم عام۔
پھر: اسم نکرہ۔
پھر: اسم معرفہ۔
پھر: اسم خاص، اسم ضمیر، اسم موصول، اسم اشارہ، اسم ظرف، اسم کیفیت، اسم فاعل، اسم مفعول، اسم تفصیل، اسم تفضیل، اسم نسبت، اسم جنس، اسم مشتق، اسم مجرد، اسم مرکب…
پھر ہمیں لگا کہ یا تو ہم اردو پڑھ رہے ہیں، یا کسی مذہبی فقہ کی بارہ جلدیں۔
ایک دن میں نے ماں سے کہا:
“امی! مجھے بخار ہے، آج اسکول نہ بھیجیں۔”
امی: “کیا ہوا؟”
میں: “اسم معرفہ کی پانچویں قسم نے دماغ کی رگیں چٹخا دی ہیں۔”
امی نے غصے سے کہا: “کس نے کہا معرفہ کھاو گھر سے لنچ لے جایا کر،
اب اس بے چاری کو کیا پتہ یہاں معرفہ کھایا نہیں جاتا کھاے جا رہا ہے
قریشی صاحب کی گرائمر کا المیہ یہ تھا کہ وہ صرف قاعدے نہیں سکھاتی تھی، بلکہ وہ “قواعد کے بطن سے قاعدوں کے جن” نکالتی تھی۔
مثلاً “فعل” کو لے لیجیے:
فعل حال، فعل ماضی، فعل مستقبل، فعل ماضی مطلق، فعل ماضی استمراری، فعل ماضی بعید، فعل حال التزامی، فعل امر، فعل التزامی بعید از قیاس، فعل محذوف، فعل مجہول، فعل معلوم، فعل مشغول، فعل مفتول…
اور ہمارے ذہن کی حالت؟ فعل مضروب۔
اب دیکھیے نا، قریشی صاحب کی گرائمر میں “مرکب” وہ جادو تھا جو ایک لفظ کو بھیڑ بکریوں کی قطار میں بدل دیتا۔
مرکب اضافی، مرکب توصیفی، مرکب عددی، مرکب عطفی، مرکب جاری، مرکب اتحادی، مرکب قلعی، مرکب چپاتی، مرکب آلو گوشت۔
بس ہم نے ایک دن بشیر بٹ سر سے پوچھا:
“سر! ’آلو گوشت‘ کون سا مرکب ہے؟”
تو انھوں نے ہمیں سزا دی: پورا صفحہ لکھو:
“آلو الگ ہوتا ہے، گوشت الگ، دونوں ملیں تو بھوک لگتی ہے۔ مگر گرائمر میں دونوں ایک ’مرکب اضافی‘ ہیں۔”
بشیر بٹ سرجو ہمیں اردو اور یہ گرایمر سکھاتےان کی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی “مرکب” تھی۔ چہرے پر ہمیشگی کی سنجیدگی، جیسے ابھی علامہ اقبال کو اصلاح دینے جا رہے ہوں۔ ہاتھ میں وہی لرزتی ہوئی درسی چھڑی، اور لبوں پر وہ لفظ “فاعل” جسے وہ ایسے ادا کرتے جیسے کوئی بزرگ “انا لله” کہہ رہا ہو۔
ہر روز وہ بورڈ پر لکھتے:
“فاعل کے بغیر جملہ ادھورا ہے!”
اور ہم سوچتے، “سر! ہمارے بغیر زندگی ادھوری ہے، مگر آپ کو تو صرف گرائمر سے محبت ہے۔”
کلاس روم کا منظر کچھ یوں ہوتا:
کھڑکی سے باہر امرود کے پیڑ پر کوّا بیٹھا کائیں کائیں کر رہا ہوتا، اندر ماسٹر جی “مفعول کی پانچ اقسام” پر تقریر فرما رہے ہوتے۔
ایک لڑکا بار بار جماہی لے رہا ہوتا، دوسرا چپکے چپکے پچھلے صفحے پر گاڈزیلا بناتا۔
تبھی بشیر بٹ سر دہاڑتے:
“بتاؤ! جملہ اسمیہ میں کیا ہوتا ہے؟”
خاموشی۔
“بتاؤ! فعل لازم اور فعل متعدی میں فرق؟”
ہم سب کی آنکھوں میں خالی پن، جیسے ایک کشتی طوفان میں ڈول رہی ہو۔
بس اتنے میں کوئی پیچھے سے ہانک لگا دیتا:
“سر! گرائمر میں صرف آپ فاعل ہیں، باقی ہم سب مفعول ہیں!”
سچ یہ ہے کہ اردو گرائمر ایک ایسا دلہن کا جہیز ہے جس میں برتن تو چمکتے ہیں، مگر استعمال میں آئیں تو چوٹ لگتی ہے۔ مگر مجال ہے کہ یہ دلہن کبھی سسرال والوں سے سوال کرے کہ “اسم نکرہ اور اسم معرفہ کے جھگڑے کو سلجھاؤ، ورنہ میں چلی باپ کے گھر!”
سچ تو یہ ہے کہ سکول کے دنوں میں قریشی صاحب کی گرائمر نے اتنا بے چین کیا کہ، ہم نے کئی بار “اسم ظرف” کو “اسم زہر” سمجھ کر لعنت بھیجی ، اگر آپ کے خوابوں میں بھی “ماضی بعید” کے جن آ کر چیخیں مارتے ہوں، تو جان لیجیے، آپ اردو زبان کے سچے عاشق ہیں—گرائمر کے مظلوم، لیکن باوقار مفعول۔
آخری نصیحت:
اگر کبھی زندگی میں “جملہ مرکب” جیسا رشتہ ملے، تو فاعل خود بننا، تاکہ تمھاری زندگی کسی اور کی گرائمر کا تجربہ گاہ نہ بنے۔
اور اگر یہ مضمون قریشی سر کے کسی طالبعلم کی نظر سے گزرے… تو معاف کیجیے گا سر، ہم تو اب بھی آپ کے “اسم معرفہ کی آٹھ قسموں” کے مقروض ہیں!
میر شوکت پونچھی
(جموں)9906083786

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں