ش م احمد سری نگر
7006883587
آج کا کالم لکھتے وقت میں سوچ کی وادی اور واقعات و خیالات کے گھنے جنگل میں اپنا موضوعِ گفتگو تلاشنے میں سرگرداں تھا کہ یکایک میرے قلم کا گریبان دُنیا بھر میں جمہوریت کےقتل ِناحق کے متواتر واردات ‘ انسانیت کی مسلسل ہلاکت اور عدل وانصاف کے پے درپے اُٹھنے والے جنازوں نے پکڑ لیا ۔ تینوں میرے قلم سے شکوہ زن تھے افسوس کیاہماری دُرگت اور زُبوں حالی دیکھ کر تمہارا دل پسیج نہیں جاتا؟ تمہاراکلیجہ پھٹ نہیں جاتا؟ تمہارے ذہن میں بے چینی اور ضمیر میں کھلبلی نہیںمچتی؟ میرا کمزور و ناتواں قلم ان تیکھے سوالوں یا شکوؤں کا کیا جواب دیتا‘سیدھے ان کےسامنے کھلااعتراف ِ شکست کرتے ہوئے بولاتلوار کے سامنے ایک حقیرقلم کی کیا بساط کہ کسی کی سرزنش کرے‘ کسی کی غلط کاری پر روک ٹوک کرے ‘ کسی سےانسانیت کی تذلیل کرنے پر پنگا لے۔ قلم کی طاقت کی دنیا کتنی ہی قصیدہ گوئیاں کرے یا اس کی تعریف وتوصیف میں کتنا بھی رطب اللسان رہے مگر امر واقع یہ ہے کہ بچارا قلم نہ اتھل پتھل اور بے ضمیری سے بھری دنیا میں جمہوری ا قدار کے قتل عام کو ذرہ برابرروک سکتا ہے‘ نہ جنگ وجدل کے پرستاروں کے ہاتھوں ہورہی جارحیت میں کوئی بیچ بچاؤ کر سکتا ہے ‘ نہ قانونِ عدل کی دل خراش پسپائیوں کے خلاف تنقیدوتعریض کا حق اداسکتا ہے۔ ماضی کی بات الگ ہے ‘حال میں یہ ساری چیزیں عملاًقلم کے دائرہ کارسے باہر ہوچکی ہیں۔ ہاںقلم آپ کی تسلی کے لئے زیادہ سے زیادہ اتنا کرسکتا ہے کہ ماضی کے دُھندلکوں میں لپٹے ہوئے اور نسیاں کے گرد وغبار میں اَٹے تاریخی کرداروں کا چہرہ آپ کے سامنے لا کھڑا کرے تاکہ یہ اٹل حقیقت ذہن نشین ہو کہ انبیا کرام علیہم السلام ‘ خلفائے راشدین ؓ‘ ذُوالقرنین اورنوشیروان عادل جیسےکچھ نیک نہاد عظیم شخصیات کتابی تذکروں تک محدود کئے جاچکے ہیں اور جو مقتدر لوگ حال کی دنیاپر چھائے ہوئےہیں ‘وہ زیادہ تر کٹھور‘ پتھردل اور انسانی جذبات و احساسات سے عاری ہونے کا ریکارڈ پہ ریکارڈ توڑتے جارہے ہیں ۔ اس لئے ماضی کادور ِ شہنشاہیت ہو یا حال کا زمانہ ٔجمہوریت ‘ آمریت کادورِ استبداد ‘ بازوئے طاقت کے محور پر گھومتی سیاست کی بزم آرائی ہو یا رزم گاہِ حکمرانی کی مارکاٹ اور دبدبہ ہو ‘ یہ سب کمزور و بےنوا لوگوں کے تئیںبے رحم چلے آر ہے ہیں۔ انسانی تاریخ انہی تند وتیز حقائق کا آئینہ داری کرتی ہے اور بلا خوف لومتہ لائم بتاتی ہے کہ خود غرضی‘ انا نیت اورجاہ پسندی کے دربار میں روز انسانیت کا جنازہ اُٹھے تو کوئی حیران کن امر نہیں ۔ یہ سلسلہ تو یہ ہابیل وقابیل کے زمانے سے مستقلاً انسانی دنیا کی رِ یت ہے اور تاقیام ِ قیامت دنیا کی بھول بھلیوں میں یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا چاہے کسی کو اچھا لگے یا بُرا۔
آپ قلم کی بارگاہ میں آکر اگر تاریخ کی ان تلخ حقیقتوں کی جھلکیاں دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں تو آئیے لمبی چوڑی تاریخ کو چھوڑ کر صرف سولہویں صدی کے اہم شاہی کرداروں کی نقاب کشائی کر تے ہیں اور تاریخ کے کچھ اورق کھنگالتے ہیں تا کہ کچھ آپ کے سوالوں کا جواب مل سکے ‘ کچھ ہم سب کی آنکھوں پر دنیا ئے دوںکی بے درد حقیقتیں عیاں ہوں ۔ نیز ہم علی وجہ البصیرت اس بات کےقائل ہوجائیں کہ بحیثیت مجموعی دنیا نے شہنشاہوں‘بادشاہوں اور آمروں کے ہوتے ہوئے امن وسکون ‘ محبت وعافیت او بھائی چارہ بہت کم دیکھا ہے ‘ جب کہ ان کی کرسی یا تخت وتاج کی وجہ سے یہ کرہ ٔارض زیادہ تر لڑائی جھگڑے ‘ فتنےفسادا ت ا ورخون ریزیوں کی روح فرسا داستانوںکی آماج گاہ بنا رہا ۔
میں اپنے نتیجۂ فکر کی تفصیلی تشریح کے لئے مغلیہ تاریخ کے دور کرداروں۔۔۔ اکبر وجہانگیر۔۔۔ کا انتخاب کرتا ہوں جو ہمیں قدم قدم دکھاتےہیںکہ سیاست کا چابک چلانے اور حکمرانی کا سکہ رائج کرنے والے لوگ کس ذہن کے مالک اور کس شخصیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ بلاشبہ مغلیہ دور کا اہم شہنشاہ اکبر مثالی قوت وسطوت رکھتا ہے ‘ اس کا شہزادہ جہانگیر نسوانی عشق کا رسیا ‘ شراب و کباب کا عادی اور عیاشیوں میں اس قدر سرمت اور مدہوش ہے کہ اسی کےدور ِ بادشاہت میں اول جہاں انگریز کو سرزمین ہند پر اپنے ناپاک قدم جمانے کا آسان موقع ملتا ہے ‘ وہیں دوم اس لاثانی فن ِتعمیر کا نمونہ تاج محل اور اپنی ملکہ نورجہاں کے حُسن وجمال کے عشقیہ قصہ کے علاوہ اس کے پاس تاریخ میں درج کرانے کے لئے کچھ اورہے ہی نہیں ۔ یہ چوتھا مغل شہنشاہ ابو المظفرنورالدین جہانگیر( ۳۱؍اگست ۱۵۶۹ تا۲۸؍اکتوبر۱۶۲۷) ہے ۔ تاریخ میں اس بادشاہ کی کچھ منفرد خصوصیات رقم ہیںجو مل کر اس کی شخصیت کے کچھ مثبت اور بعضے منفی پہلوؤں کی تجسیم وتصویر کشی کرتی ہیں۔ مثبت پہلو جو اسے دیگر مغل بادشاہوں کے مقابلے میں زیادہ رعایاپرور اور نیک نیت دکھاتا ہے وہ ہے عدل ِ جہانگیری کے نام سے عدل وانصاف اور فریادرسی کا حکومتی نظام۔اس نظامِ عدل کے وسیع عنوان سے وقت کے مورخین اسے بادشاہ کی ’’رحم دلی اور انصاف پسندی‘‘ کا ایک ناقابل ِ فراموش حوالہ مانتے ہیں ۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہاں ایک اور مشہور بادشاہ نوشیروان ِ عادل سے منسوب واقعہ شیئر کرنا مناسب ہوگا ۔ نوشیروان یعنی ایران کا ممتاز بادشاہ اور ہماری ثقافتی تاریخ میں عدل گستری اور کشادہ دلی کے تعلق سے ایک منصفانہ مثالی شخصیت۔ سعدی نے کہیں لکھا ہے کہ ایک موقع پر نوشیروان اپنے محل ودربار سے بہت دور اپنے مصاحب اور دربار یوں کے ساتھ رات کو کسی ویرانے میں پڑاؤ ڈالتا ہے‘ شاہی قافلے کے خوردو ونوش کے لئے انتظامات کے دوران پتہ چلتا ہے کہ شاہی مطبخ میں نمک ختم ہوا ہے ۔ مدار المہام اس بابت متعلقہ شاہی وزیر سے بات کرتا ہے کہ اب کیاکیا جائے‘وزیر اس کو حکم دیتا ہےجاؤ سامنے والے گاؤں سے نمک لے آؤ۔اتفاق سے بادشاہ یہ گفتگو سنتا ہے تو متعلقہ ذمہ دار سے کہتا ہے‘ دیکھو گاؤں والوں کو دام اداکئے بغیر مطبخ میںنمک قطعی نہ لانا۔ وزیر جسارت کر تے ہوئے عرض کرتا ہے ‘ بادشاہ سلامت کاا قبال بلند ہو‘نمک جیسی حقیر شئےکے دام کیا ہوں گے جو کوئی شاہی مہمانوں سے پیسے مانگنے کی جرأت کرے ۔ نوشیروان سنتا ہےتو غصے سے لال پیلا ہوجاتا ہے‘ برہم ہو کروزیر موصوف کو سمجھاتا ہے‘ سنو میرے مصاحب !دنیا میںظلم کی بنیاد اول اول بہت چھوٹی تھی‘ پھر جو آیا اس نے ظلم و جور کی کتاب میں نئے اوراق جوڑ دئے ‘ اب نوبت یہ آگئی کہ نوشیروان کا وزیر رعیت سے مفت نمک مفت لانے میں کوئی ہرج ہی نہیں سمجھتا‘ یاد رکھواگر بادشاہ کسی کے باغ سے ایک سیب توڑ کر کھالے تو اس کے لشکری دیکھتے ہی دیکھتے پھل توڑ توڑکر باغ کو ویران کر چھوڑ دیں گے ۔
یہاں نوشیروان عادل کا یہ واقعہ یہاں سنانا جملہ معترضہ ہے یا ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔کیا ہمارے دورِ جمہور کوئی ایساحکمران یا ایسی سیاسی شخصیت کہیں موجود ہے جو انسانیت اور انصاف کی نزاکتوں کی اتنی باریک بینی سے خیال رکھنےو الا ہو۔ واپس آتے ہیں اکبر وجہانگیر کی طرف ۔
بادشاہ جہانگیر کا باپ مغل ِ اعظم مغل شہنشاہ جلال الدین اکبرہے۔ اکبر اپنی شادی راجپوت مہارانی جودھا بھائی (مسلم نام مریم الزمانی) سے بڑی دھوم دھام سےرچاتا ہے مگر ۲۷ ؍ سال کی عمر میں یہ کھٹکالگتا ہے کہ شہنشاہِ ہند اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔ جودھا بھائی اپنی سونی کوکھ سے مطلب لیتی ہے کہ شا ہانِ مغلیہ اور سلطنت ِہند کا مستقبل میں بے چراغ رہنے والا ہے جو ایک بدشگونی ہے ۔ بادشاہ اور ملکہ اس مشترکہ غم میں گھل رہے ہیں ‘ دونوں لاکھ چاہتوں اور کاوشوں کے باوجود اولاد کا سکھ نہ پانے سے پیہم پریشان ہیں ۔ اکبر کے د و بچے۔۔۔ حسن اور حسین ۔۔۔ ہوتے ہیں مگرصغر سنی میں ہی وفات پا جاتے ہیں ۔ اس لئے اکبر مضطرب ہے‘ مغموم ہے‘ تخت ِہند شاہی وارث سے اگر تہی دامن رہے گا‘یہ خیال اس کو متفکر ومضطرب کررہا ہےلیکن کوئی اُمید بر نہیں آتی ۔ حتیٰ کہ شہنشاہِ عالم مالک ِ کون ومکان اور خالقِ ارض وسما کے حضور جلال الدین اکبر کی اشک باریاں بھی کوئی رنگ نہیںلاتیں۔ اب ا س کے لئے آخری اُمید بچی ہےکہ ا پنے مجیب الدعوات پیرومرشد اور ولی اللہ ۔۔۔ حضرت شیخ سلیم چشتی علیہ رحمہ۔۔۔ کی نگاہ ِ التفات اور پُر تاثیر دعاؤں کی سوغات کا نیاز حاصل ہو ۔ یہی اکبر کاواحد سہارا ہیں ۔ اکبر کا غم اور پریشانی اسے آگرے کے قریب فتح پور سیکری کی خانقاہ میں خیمہ زن اپنے مرشد حضرت سلیم چشتی علیہ رحمہ کے یہاں پابرہنہ کھینچ لاتی ہے۔ شہزادہ سلیم کی پیدائش انہی محترم کی دعاؤں کا ثمرہ ہے ۔ جودھا بھائی ان کی خانقاہ میں سلطنت ِ ہند کے والی وارث اور ولی ٔ عہد کو جنم دیتی ہے ۔ اکبر کے دل میںا پنے مرشد کی عزت کا اتناخیال ہوتا ہے کہ نہ صرف اپنے فرزند کا نام سلیم رکھتا ہے بلکہ عمر بھراسے شیخو بابا کے نام سے پکارتا ہے کیونکہ وہ احتراماً سلیم کا نام زبان پر نہیں لا نا چاہتا مبادا اپنے مرشد پاک کے تئیں کوئی بے ادبی سرزد ہو۔ سلیم جہانگیر بڑے لاڈ پیار اور پورے عزت وتکریم کے ساتھ محل میں پرورش پاتا ہے مگر عمر بڑھنے کے ساتھ اس کا سابقہ بھی اوروں کی طرح محلاتی سازشوں اور معاصرانہ چشمک کے تیر ونشتر سے پڑتا ہے کہ قلب وذہن میں شکوک وشبہات اور رقابت وعدوات کی آگ سلگتی ہے ۔ حد یہ کہ اکبر اور سلیم کے درمیان پہلے غلط فہمیاں ‘ پھر شکر رنجیاں اور آخر پر کشیدگی کی سرد وگرم جنگ تک چھڑ جاتی ہے ۔ چلتے چلتے یہ ساری منفی چیزیں کرسی کی محبت میں ۱۵۹۹ کو سلیم کی اکبر کے خلاف بغاوت وخروج پر منتج ہوتی ہیں۔ سلیم اپنے باپ شہنشاہ ِ ہند کا بگڑا لاڈلا شاہزادہ ہونے کےسبب علم بغاوت ہی بلند نہیں کرتا بلکہ جلالِ اکبری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اَودھ ‘ بہار اور الہٰ آباد پر فوج کشی کرکے ان پر قابض ہو جاتاہے اور اپنی بادشاہت کا اعلان ٹھونکتا ہے ۔ آگے اس کا حوصلہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ایک لشکر جرار لے کر آگرے سے اکبری بادشاہت کا پرچم اکھاڑنے کی نیت سے کوچ کرتا ہے مگر اکبر کی موثر دفاعی تدابیر سے اس کا مشن ناکام ہوجاتا ہے اور وہ نامرادی کے عالم میں واپس الہٰ آباد لوٹ آتا ہے ۔ یہیں پر اپنا شاہی لقب اختیار کر کے الگ سے اپنا دربار قائم کرتاہے ۔ اکبر کے دل پر بگڑے باغی شہزادے کی یہ عجیب کرتوتوتیں پیہم چوٹیں لگا تی ہیں مگر ایک آخری چوٹ اس کی حدِ برداشت سے بھی ماورا ہوجاتی ہے ۔ جہاں گیر کا پختہ یقین ہے کہ اکبر کو اپنے بیٹے سے برگشتہ اور بددل کر نے میں اکبری دربار کااہم ومعتمدترین وزیر اورعلم وفضل کا اعلیٰ نمونہ ابوالفضل ذمہ دارہے ۔ بدگمانی کے عالم میں وہ خیال کرتا ہے کہ ہو نہ ہو اکبر کے کان میرےخلاف بھر نے میں اسی عالم کا اہم رول ہے ۔ وہ سلطنت ِ ہندمیں اپنی ذاتی ترقی کا ہدف پانے اور ایک اونچی اڑان بھر نے میں ابوالفضل کو راستے کا روڑا سمجھ کر اسے ٹھکانے لگانے کی زہر یلی سازش رچاتا ہے ۔ ا بوالفضل ۱۶۰۲ میں دکن سے لوٹ رہاہوتا ہے تو جہانگیر کے منصوبہ بند منصوبے کے تحت بندیلا سرداربیر سنگھ دیو کے ملازمین اس عا لم وفاضل اور اکبری دربار کےوزیر کا سر قلم کر کے اسے الہٰ آباد کے دربارِ جہانگیری میں تحفے تحائف پانے کی نیت سے پیش کرتے ہیں ۔ جہانگیر اُن کی سفاکانہ اور قاتلانہ کارکردگی پر داد و دہش کی بارشیں کرتا ہے لیکن قتل ِ ناحق کی ا س واردات سے اکبری جلال کو بڑ ادھچکا لگتا ہے ‘ وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے ‘ اس کا کھانا پینا چھوٹ جاتا ہے ‘ اس کی صحت اور اعصابی قوت بری طرح متاثر ہوجاتی ہے ۔ اس صدمہ خیز واردات کے صرف تین سال بعد اکبر ۱۶۰۵ میں غم وخزن کے کفن میں اپنا وجود لپیٹ کر انتقال کرجاتا ہے لیکن کرسی اور اقتدار ہمیشہ اپنے مغلیہ خانوادے کے ہاتھ میں رہے ‘ اس لئے دنیا سے رخصت لینے سے قبل ا کبریہ وصیت کرنا نہیں بھول جاتا کہ مابدولت کے بعدجہانگیر کو تخت وتاجِ ہند کا والی وارث بنانا ۔
( باقی باقی)

