فیاض احمدگنائی المعروف فیاض دلگیر 0

فیاض احمدگنائی المعروف فیاض دلگیر

شاہ زبیر
زگی پورہ، چرار شریف

وادیٔ کشمیر نے ہمیشہ ادب و فن کے میدان میں ایسے باکمال افراد پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنی فکری روشنی اور روحانی بصیرت سے نہ صرف کشمیری زبان و ادب کو مالا مال کیا بلکہ دنیا کے فکری نقشے پر کشمیر کا نام بھی بلند کیا۔ انہی باکمال ہستیوں میں ایک معتبر اور سنجیدہ نام فیاض احمد غنائی المعروف فیاض دلگیر کا ہے، جو کشمیری زبان کے ایک سنجیدہ شاعر، محبِ ادب، اور تہذیبی خدمتگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ابتدائی زندگی اور
خاندانی پس منظر
فیاض احمد گنائی 1973 میں ضلع پلوامہ کے دیری مرن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام غلام احمد گنائی تھا۔ یہ گھرانہ دین داری، سادگی، اور علمی رجحانات کے لیے جانا جاتا تھا۔ فیاض صاحب کی تربیت بھی ایسے ہی ماحول میں ہوئی جہاں کتابیں، دعا، عبادت اور بزرگوں کی نصیحتیں روز مرہ کی زندگی کا حصہ تھیں۔
بچپن سے ہی ان میں گہری سنجیدگی، مشاہدہ کرنے کی صلاحیت اور باتوں کے پیچھے چھپے جذبات کو سمجھنے کا ملکہ موجود تھا۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی رشتہ جوڑ لیا، اور یہی رشتہ آگے جا کر ان کی زندگی کا مرکزی محور بنا۔
شعری سفر کا آغاز
فیاض دلگیر نے شاعری کا آغاز 1989 میں کیا، جب وہ محض 16 برس کے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب کشمیر نہ صرف سیاسی بلکہ جذباتی اور فکری سطح پر بھی شدید ہلچل سے گزر رہا تھا۔ اس زمانے کی فضا، لوگوں کے زخم، اندرونی ٹوٹ پھوٹ، اور سماجی بے چینی نے ایک حساس نوجوان شاعر کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
محض 20 سال کی عمر تک وہ شاعری کے تمام بنیادی اصول جیسے بحر، وزن، ردیف، قافیہ، صنائع و بدائع، اور اسلوبِ بیان پر مہارت حاصل کر چکے تھے۔ ان کے اندر فطری صلاحیت تھی کہ وہ اپنے احساسات کو نہایت دلنشیں اور سادہ زبان میں شعر کے سانچے میں ڈھال سکیں۔
تخلص “دلگیر” اور شعری پہچان
فیاض احمد گنائی نے اپنا تخلص “دلگیر” رکھا، جو ان کی شاعری کے اصل مزاج کا عکاس ہے۔ ان کے اشعار میں درد، دکھ، محرومی، تڑپ، اور روحانی خلش کی ایسی کیفیت نظر آتی ہے جو قاری کو اندر تک ہلا دیتی ہے۔ “دلگیر” ایک ایسا تخلص ہے جو ان کی زندگی، ان کے جذبات، اور ان کے نظریات کا نچوڑ بن چکا ہے۔
ان کی شاعری دردِ دل کا وہ اظہار ہے جس میں ذاتی غم سے زیادہ اجتماعی تکلیف بولتی ہے، اور یہی چیز ان کے کلام کو عام شاعری سے ممتاز کرتی ہے۔
واحد مطبوعہ مجموعہ: نیول نب
فیاض دلگیر کی شاعری کا پہلا اور فی الحال واحد شعری مجموعہ “نیول نب” ہے، جو جموں و کشمیر اکیڈمی آف کلچرل اینڈ لنگویجز کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس کتاب میں ان کی ابتدائی اور پختہ شاعری شامل ہے، جو فکری گہرائی، سوز و گداز، روحانی تجربات اور فنی نزاکتوں سے مزین ہے۔
“نیول نب” کو اہلِ ادب اور نقادوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا، اور دلگیر صاحب کو کشمیری شاعری کے سنجیدہ اور معتبر شعرا کی صف میں شامل کیا۔ اس کتاب نے ان کے شعری مزاج، ان کے نظریاتی رجحانات اور زبان و بیان کی قدرت کو نمایاں کیا۔
شیرازہ میں مسلسل اشاعت
فیاض دلگیر کا کلام 14 سال تک ریاستی ادبی جریدے “شیرازہ” میں مسلسل شائع ہوتا رہا۔ یہ بات نہ صرف ان کے فکری استحکام کی گواہ ہے بلکہ اس سے ان کی تخلیقات کی ادبی وقعت اور معیار کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔
شیرازہ جیسے مقتدر جریدے میں مسلسل شمولیت کا مطلب ہے کہ دلگیر صاحب کی شاعری میں نہ صرف تخیل کی بلندیاں تھیں بلکہ تکنیکی پختگی اور فکری سنجیدگی بھی تھی۔
شعری اصناف پر دسترس
دلگیر صاحب کو تمام معروف شعری اصناف پر عبور حاصل ہے۔ ان کی غزلیں کشمیری زبان کی مٹھاس اور فکری سچائی کی حسین آمیزش ہیں۔ ان کی نظمیں داخلی کیفیات اور سماجی مشاہدات کا عکس ہیں۔ ان کی نعتیں محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو سے مہکتی ہیں جبکہ حمدیہ اشعار خالق سے ایک بندۂ عاجز کی گفتگو جیسے محسوس ہوتے ہیں۔
ان کی رباعیات میں اختصار کے باوجود وسعتِ معانی ہے، اور قطعات میں گہری تنقید، سماجی شعور اور عصری مسائل کی جھلک ملتی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دلگیر صاحب ایک ہمہ جہت شاعر ہیں۔
غیر مطبوعہ کلام کا خزانہ
اگرچہ “نیول شب” ہی ان کی واحد مطبوعہ کتاب ہے، لیکن ان کے پاس اب تک 850 سے زائد اشعار، غزلیں اور نظمیں موجود ہیں جو کسی بھی مجموعے میں شائع نہیں ہوئیں۔ یہ کلام ان کے ذاتی نوٹس، ڈائریوں اور قلمی خزانے کا حصہ ہے۔
یہ خزانہ اس قدر قیمتی ہے کہ اگر مرتب ہو کر منظر عام پر آئے تو کشمیری شاعری کے دامن کو اور زیادہ وسیع، متنوع اور گہرائی والا بنا سکتا ہے۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں ان کی مزید تخلیقات کتابی شکل میں آئیں گی۔
شخصیت اور اندازِ فکر
فیاض دلگیر کی شخصیت میں سادگی، انکساری، اور اخلاص نمایاں ہیں۔ وہ خودنمائی سے دور، شہرت سے بے نیاز اور ادب کے خادم ہیں۔ ان کے لیے شاعری اظہار کا ذریعہ ہے، نہ کہ عزت کمانے کا ہتھیار۔ وہ خاموشی سے لکھتے ہیں، ادب سے محبت کرتے ہیں، اور نوجوانوں کی رہنمائی کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
ان کے اشعار میں تصنع نہیں بلکہ سچائی، بناوٹ نہیں بلکہ دل سے نکلی ہوئی بات، اور نعرہ بازی نہیں بلکہ اصل فکری پیغام ہوتا ہے۔
راز اصلک وون میہ پیرن نصف راژ
وتھی مے گے درواز سیرن نصف راژ
ابہ بدلے اسہ چيو شراب سنے یی ما
قوم یوتام یتہ گو خراب سنے یی ما
کشمیری زبان سے محبت
فیاض دلگیر کشمیری زبان کو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی پہچان، اپنی تہذیب اور اپنی روح کا آئینہ سمجھتے ہیں۔ وہ مسلسل نوجوانوں کو کشمیری زبان میں لکھنے، بولنے اور پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ:
“اگر ہم اپنی زبان چھوڑ دیں گے تو اپنی پہچان کھو بیٹھیں گے۔”
یہی وجہ ہے کہ وہ مادری زبان کی بقا کے لیے بھرپور جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔
ادبی خدمات و سرپرستی
دلگیر صاحب کئی نو آموز شعرا کے لیے رہبر بھی ہیں۔ وہ نئے لکھنے والوں کی تخلیقات کو پڑھتے ہیں، اصلاح دیتے ہیں، اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں سنجیدگی، لب و لہجہ میں نرمی اور دل میں محبت ہوتی ہے۔
ادبی محفلوں میں وہ کم بولتے ہیں لیکن جب بولتے ہیں تو علم، ادب اور سچائی کی روشنی بکھیر دیتے ہیں۔
نتیجہ: روشن چراغ
فیاض دلگیر ایک ایسا خاموش مگر روشن چراغ ہیں جو چمکنے کے بجائے روشنی پھیلانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری دل سے نکلتی ہے اور دل میں اترتی ہے۔ ان کی شخصیت ان کی شاعری جیسی ہی صاف، نرم اور باوقار ہے۔
ان کا کلام کشمیری ادب میں ایک قیمتی اثاثہ ہے، جو نئی نسل کو بھی اپنی طرف کھینچتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے کلام کو زیادہ سے زیادہ شائع کیا جائے، ان کے ادبی خدمات کو تسلیم کیا جائے، اور ان کے اس خلوص کو سلام پیش کیا جائے جس کے ساتھ وہ ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔
ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے، اور ان کے قلم کو مزید طاقت دے تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں