غیر مسلم شعرا ء اور انکا رثائی کلام 0

غیر مسلم شعرا ء اور انکا رثائی کلام

انجینئرمنظر زیدی

اردو ادب میں مرثیہ ہی ایک ایسی صنف ہے جس میں مذہب اور ادب کا امتزاج اتنی خوبصورتی سے ہواہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم قرار پائے ہیں۔ اردو میں غیر مسلموں کی مرثیہ نگاری کی روایت قدیم ہے۔رثائی ادب میں غیر مسلم شعرا میں پہلا نام راؤؔ کا ملتا ہے۔ دوسرے شاعر داسؔ بتائے جاتے ہیں۔دکن میں حقیرؔ، شفیقؔ، شاداںؔ، مالکؔجی اور ترمیک جی ذرہؔ کے نام بھی اہم ہیں۔دکن کے سر کشن پرشاد شادؔاپنی مرثیہ گوئی کے لئے مشہور رہے ہیں۔شمالی ہند میں غیر مسلموں میںپہلے مرثیہ نگار مہاراجہ کلیان سنگھ ہیں۔دوسری شخصیت لالہ فتح چندشائق تلمیز ناسخؔ لکھنؤی کی ہے۔ ان کے علاوہ نول رائے،رائے سنگھ بیدارؔ،گھاسی رام، بشیرؔ اور دلگیرؔ جیسے مرثیہ گو بھی شمار کئے جاتے ہیں۔ہندو مرثیہ نگاروں نے اردو شاعری کی ادبی قدروں کا لحاظ رکھتے ہوئے مرثیہ کو مختلف شکلوں میں لکھا ہے اور درجہ کمال کو پہونچے ہیں۔ چنانچہ غیر مسلم شعرا نے ایسے ایسے کلام پیش کئے ہیں جو دل کے تاروں کو جھنجھوڑنے والے اور قلب کی گہرائی میں اترنے والے ہیں۔
عزاداری سے متاثر ہوکر لکھنؤ میں ہندوؤں نے امام باڑے بھی تعمیر کرائے۔ٹھاکر گنج میں راجہ جھاؤ لال نے نواب آصف الدولہ کے عہد میں امام باڑہ تعمیر کرایا۔راجہ ٹکیٹ نے ،جو آصف الدولہ کے دیوان تھے، ٹکیٹ گنج میں امام باڑہ تعمیر کرایا۔امام باڑوں کے علاوہ لکھنؤ میں ہندوؤں نے کربلائیں بھی تعمیر کرائیں۔نواب امجد خاں کے عہد سلطنت میں جگن ناتھ اگروال، جو شرف الدولہ کا خطاب رکھتے تھے، نے ۱۸۵۲ء میں منصور نگر کے قریب حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ کی یادگار تعمیر کرائی،جہاں راجہ محمودآباد نو تصنیف مرثیہ پڑھتے تھے۔ ہندوستان میں اردو میں مرثیہ لکھنے والے غیر مسلم شعرا کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس میں ہندو اور سکھ دونوں شامل ہیں۔اسی عنوان کے تحت ۲۰ ؍ اگست ۲۰۲۱ ؁ء کو اسی اخبار میں شائع مضمون میں ۹ غیر مسلم شعراء کا تعارف اور انکا رثائی کلام پیش کیا گیا تھا۔جس میں ادب سیتا پوری، ادیب لکھنؤی،امن لکھنؤی، آرزو سہارن پوری،بسمل شمس آبادی،وجیندر سنگھ پرواز،جوان سندیلوی،دلّو رام کوثری اور روپ کنور کماری شامل تھے۔اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید غیر مسلم شعرا کا مختصر تعارف اور انکا کلام پیش کیا جا رہا ہے۔
۱۔ جگن ناتھ آزادؔ۔ یہ دسمبر ۱۹۱۸ئ؁ کو ضلع میانوالی،جو اب پاکستان میں ہے، میں پیدا ہوئے۔فارسی میں ایم۔اے۔ کیا ۔ جموّ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو سے وابستہ رہے۔علاّمہ اقبال اور اقبالیات کے موضوع پر انکی دس سے زاید کتابیں انگریزی و اردو میں شائع ہو چکی ہیں۔واقعات کربلا پر انکے چند بند پیش ہیں۔
طوفاں بپا ہے گرم ہے میدانِ کارزار
ہے قاتلوں سے محو و نما ایک شہسوار
ابلیسیت اُدھر، اِدھر انسان کا وقار
تنہا حسینؑ اور یزیدی کئی ہزار
اے گردشِ زمانہ ٹھہر جا ذرا یہں
ایسی مثال پھر نہ ملے گی تجھے کہیں
۔۔۔۔۔
اوپر تلے تپے ہوئے ذرّوں کا انتشار
ہتھیار جس قدر ہیں بدن پہ ہیں شعلہ زار
اور اس کے ساتھ ساتھ ہیں چاروں طرف سے وار
سر تیغ سے شکستہ، جگر تیر سے فگار
کئی دن ہوئے ہیں پینے کو پانی ملا نہیں
لیکن نمازِ ظہر یہاں بھی قضا نہیں
۲۔ ڈاکٹر شیو پرشاد ، جاوید وششٹؔ۔ انکی پیدائش ضلع فریدآباد کے موضع فتحپور میں ۵ جون ۱۹۲۰؁ کو ہوئی۔انہوں نے دہلی یونیورسٹی سے اردو میں ایم۔ اے۔ کیا اور پھر جامع ملیّہ اسلامیہ سے اردو میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔انکے مختلف شعری مجموعہ شائع ہوئے اور انہیں کئی ادبی انعامات و اعزازات سے نوازہ گیا۔
لہو گرا تھا جہاں حق کے جاں نثاروں کا
اسی کی خاک سے بیمار نے شفا پائی
دھرا تھا سر تہِ خنجر، لبوں پہ کلمۂ خیر
اسی ادا کی شہادت نے بھی قسم کھائی
جبیں پہ قشقہ عقیدت کا دیکھو جاویدؔ
میں برہمن ہوں شہِ کربلا کا شیدائی
۳۔ کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ۔انکی پیدائش ساہیوال(پنجاب) میں ۹؍ مارچ ۱۹۰۹؁ کو ہوئی۔ یہ سرکاری نوکری میں رہے اور ڈائریکٹر پنچایت کے فرئض انجام دئے۔۱۷؍ جولائی ۱۹۹۲ئ؁ میں انکا انتقال ہو گیا۔ انکے ذخیرۂ سخن میں نظموں، غزلوں کے علاوہ حمد و نعت و سلام بھی شامل ہیں۔ ان کا یہ نعتیہ شعر بہت مشہور ہے۔
عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں
امام حسینؑ کے حضور انکا خراج عقیدت دیکھئے
بارشِ رحمت کا مژدہ ‘ بابِ حکمت کا کلید
روز روشن کی بشارت‘ صبحِ رنگیں کی نوید
ہر نظامِ کہنہ کو پیغامِ آئین جدید
اے کہ ہے تیری شہادت اصل میں مرگِ یزید
تیری مظلومی نے ظالم کو کیا یوں بے نشاں
ڈھونڈتا پھر تا ہے اس کی ہڈیوں کو آسماں
۔۔۔۔۔۔
زندہ اسلام کو کیا تُو نے
حق و باطل دکھادیا تُو نے
جی کے مرنا تو سب کو آتا ہے
مر کے جینا سکھا دیا تُو نے
۔۔۔۔۔۔
تُو تو ہر دور کے ہر دین کے انسان کا ہے
کم کبھی بھی تیری توقیر نہ ہونے دینگے
ہم سلامت ہیں زمانے میں تو انشاللہ
تجھ کو ایک قوم کی جاگیر نہ ہونے دینگے
۴۔وشو ناتھ پرشاد ماتھرؔ لکھنؤی۔ یہ یکم جون ۱۹۱۴ئ؁ کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔انکے سرمایۂ سخن میں نعت، منقبت،رباعی ،سلام اور مرثیہ شامل ہیں۔چند رباعیات پیش ہیں۔
جلوے سے حق کی خاک کا پیکر بدل گیا
چھایا تھا وہ اندھیرا جو یکسر بدل گیا
ماتھرؔ مجھے ملی ہے محبت حسین کی
فطرس کی طرح میرا مقدّر بدل گیا
۔۔۔۔۔۔
بنے ہیں نور کا مرکز رہِ وفا کے لئے
یہ چند جلوے ہیں مخصوص کربلا کے لئے
کبھی تھا صبرِ خلیلؑ اور اب ہے صبرِ حسینؑ
وہ ابتدا کے لئے تھا یہ انتہا کے لئے
۵۔ مہندر کمار اشکؔ۔ انکا تعلق نجیب آباد ضلع بجنور سے ہے۔ انہوں نے اہل بیت کی شان میں منقبت و سلام کہے ہیں ۔
پانی کو تیری پیاس نے ایسی شکست دی
دریا کی موج موج پہ لکھا حسینؑ ہے
گردن پہ تیغ‘ سجدے میں سر‘ لب پہ شکریہ
اس طرزِ منظری میں اکیلا حسینؑ ہے
آنکھیں اٹھا کے دیکھ سرِ چرخِ معرفت
خورشید بن کے روز چمکتا حسینؑ ہے
۶۔راجہ الفت رائے الفتؔ۔ ان کی ولادت ۱۸۱۰ئ؁ میں ہوئی تھی۔یہ نواب واجد علی شاہ کے عہد میں اودھ کی شاہی فوجوں کے میر بخشی تھے۔ان کے والد راجہ لال جی کو دہلی کے بادشاہ کی طرف سے راجہ کا خطاب ملا تھا۔ ۱۸۵۴ئ؁ میں ان کا انتقال ہوگیا۔یہ مرثیہ گوئی میں مشہور تھے۔علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کی لائبریری میں ۴۰۰ صفحات کی ایک ضخیم قلمی بیاض کی جلد موجود ہے جس میں الفت کے سلاموں کے علاوہ کچھ مرثیے بھی ہیں۔ ایک مرثیہ کے چند بند پیش ہیں۔
تشنہ لب ذبح ہوئے جب شہہ والا رن میں
آبِ خنجر سے بہا خون کا دریا رن میں
خاک پر لاشۂ مجروح جو تڑپا رن میں
پھٹ گئے زخمِ تنِ پاک سراپا رن میں
شور تھا خاتمہ ٔ پنجتن ِ پاک ہوا
آج مخدومۂ کونین کا گھر خاک ہوا
مالکِ چشمۂ کوثر کی یہ آتی تھی صدا
لبِ دریا مرے فرزند کو پیاسہ مارا
کوک پکڑے ہوئے کہتی تھیں یہ جنابِ زہرا
شمر نے تیغ سے کاٹا ہے کلیجہ میرا
ہائے دنیا میں مری گود کا پالا نہ رہا
مری زینب کا کوئی پوچھنے والا نہ رہا
۷ ۔ رگھو ناتھ سہائے امّید۔ پنڈت رگھوناتھ سہائے ۱۰؍ دسمبر ۱۹۱۴ئ؁ کو ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے نعت و سلام خوب کہے ہیں۔
تھے حق و صداقت کے دل و جاں سے پرستار
پیمانۂ خنجر سے بہتّر(۷۲) ہوئے سر شار
حیدر کی ولا حوصلۂ میثمِ تمّار
خود کھنچ کے چلے آئے تھے دیوانے سرِ دار
اصغرؑ کی ہنسی اور علی اکبر کی جوانی
یہ دیں کی سپر بن گئی وہ دیں کی تلوار
صحرا میں تڑپتا تھا اُدھر لاشۂ سرور
بے چین تھے اِدھر خیمے میں عابدِ بیمار
اک پھول نے پتھر کا جگر چیر دیا ہے
اصغر کا تبسّم ہے کہ چلتی ہوئی تلوار
اے خاکِ شفا اس پر بھی رحمت کی نظر ہو
امّید بھی شبیر کی الفت کا ہے بیمار
۸۔ حکیم بال کشن داس‘ باغؔ اکبر آبادی۔ یہ آگرہ کے رہنے والے تھے۔اما حسین سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔دسمبر ۱۹۵۹ئ؁ میں انکا انتقال ہو گیا۔سلام کے چند اشعار پیش ہیں۔
حُر تھا ناری دم میں نوری شاہِ ذیشاں کر دیا
آپ نے ذرّہ کو خورشیدِ درخشاں کر دیا
اُف یہ شانِ صبر و استقلا ل یہ ہمّت حسینؑ
گھر کا گھر اسلام کی عظمت پہ قرباں کر دیا
مجھ سے کوسوں دور تھیں انسانیت کی منزلیں
شہ نے اپنا درد دے کر مجھ کو انساں کر دیا
دولتِ کونین بخشی اپنا غم دیکر مجھے
باغؔ جیسے بے نوا کو تم نے سلطاں کر دیا
۹۔ رانا بھگوان داس بھگوانؔ۔ بھگوان داس ۲۹؍ دسمبر ۱۹۴۲ئ؁ کو نصیر آباد ضلع لڑکانہ میں پیدا ہوئے جو صوبہ سندھ پاکستان میں ہے۔ یہ ایم۔اے۔ ایل ایل بی کرکے جیوڈیشیل سروس میں منتخب ہوئے۔سندھ ہائی کورٹ کے جج رہے اور پھر سپریم کورٹ کے جج ہوئے۔
وہ حسین ؑ ابنِ علی دوشِ نبی کا شہسوار
زیبِ آغوشِ رسالت فاطمہ کا گلعزار
زورِ بازوئے حسن فرزندِ حیدر با وقار
پیکرِ صبرو رضا محبوبِ ربِ کر دگار
مظہرِ حق و صداقت جلوۂ ایماں حسینؑ
وہ امامِ حق ْ پسنداں وہ نبی کا نور عین
دینِ حق کو جان دیکر تُو نے زندہ کر دیا
دامنِ دینِ خدا کو موتیوں سے بھر دیا
السلام اے شمعِ ایوانِ امامت السلام
اے حسینؑ ابن علیؑ اے نورِ وحدت السلام
۱۰۔ پرکاش ناتھ پرویزؔ۔ ان کی پیدائش ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۳۰ئ؁ کو قصبہ رام داس ضلع امرتسر میں ہوئی تھی۔’عشقِ حسین‘ کے عنوان سے کہے گئے سلام کے چند اشعار پیش ہیں۔
دل میں ہے عشقِ حسین اس کی نہیں مجھکو خبر
نا روا ہوتا ہے یا عشق روا ہو تا ہے
آج نازشِ دوراں ہے شجاعت کس کی
کس سے حق اسکی شجاعت کا ادا ہو تا ہے
جان سے بڑھکے جسے جادۂ ایماں ہو عزیز
اس کا ہر نقشِ قدم روح ضیا ہوتا ہے
دامنِ عرش پہ یہ کسکا لہو ہے پرویزؔ
صبح دم بن کے شفق جلوہ نما ہوتا ہے
۱۱۔ نہال چند پرتاپؔ شاہ آبادی۔ ان کی پیدائش ۱۹۲۵ئ؁ میں راول پندی میں ہوئی تھی۔تقسیم ملک کے بعد الہ آباد میں رہائش اختیار کی۔۱۹۹۹ء میں انکا انتقال ہو گیا۔ انکے انتقال کے بعد ڈاکٹر نسرین قاضی نے انکا مجموعہ کلام ’ نوائے دل‘ کے نام سے ناگپور سے شائع کرایا جس میں قصیدے اورسلام درِ مدح امام حسینؑ شامل ہیں۔
ہزار ضبط پہ بھی بے قرار ہوکے رہے
غمِ حسین میں ہم بے قرار ہوکے رہے
جھلایا کرتے تھے جبریل جن کے جھولے کو
جفا کے چرخ پہ وہ دلفگار ہو کے رہے
لہو شہیدوں کا اک روز رنگ لا ئیگا
ستم شعار لعیں ہوشیار ہو کے رہے
وہی لٹائیں گے پرتاپؔ حشر میں موتی
غمِ حسین میں جو اشک بار ہو کے رہے
۱۲۔ لبھو رام جوشؔ ملسیانی۔ ان کی ولادت قصبہ ملسیان ضلع جالندھر میں ۱؍ فروری ۱۸۸۴ئ؁ کو ہوئی۔انٹر میڈئیٹ کرنے کے بعد منشی فاضل اور ادیب فاضل کی ڈگریاں حاصل کیں۔آپ داغ کے شاگرد تھے۔شارب ردولوی صاحب نے جملہ محاسنِ شعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ۔’’ اس میں شک نہیں کہ جوش ملسیانی اپنی شاعرانہ صفات، محارتِ کلام، صحتِ زبان، سادگیٔ حسنِ بیان اور لطیف و پاکیزہ تشبیہات و استعارات کے لئے اردو شاعری میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔۲۷ جنوری ۹۷۶ ۱ء کو انکا انتقال ہو گیا۔سلام کے چند اشعار پیش ہیں۔
لو آگئے عبّاسِ دلاور لبِ دریا
لو تیغِ عدو رہ گئی کٹ کر لب ِ دریا
کیا تشنگیٔ شوقِ شہادت تھی کہ عبّاس
پیاسے ہی پلٹ آئے پہنچ کر لبِ دریا
اک سمت فقط چند نفوس اور وہ پیاسے
اک سمت ہزاروں کا یہ لشکر لبِ دریا
صبر اور ہے تسلیم و رضا اور ہی کچھ ہے
حق بات پہ مرنے کا مزا اور ہی کچھ ہے
یوں تو ہیں دہر میں بہت ایثار کے بندے
ایثارِ امام الشہدا اور ہی کچھ ہے
����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں