مضبوط قوم کی تعمیر کیلئے تعلیم اور اقدار کی اہمیت 0

جدید معاشرے میں اچھے برتاؤ کا فقدان

شمشاد کرالہ واری

جیسے جیسے دنیا ترقی کر رہی ہے، معاشرے بھی نئی تعلیمی، طرزِ زندگی، اور تعلقات کے معیارات اپناتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ترقی ناگزیر ہے، لیکن اسے بنیادی انسانی اقدار—احترام، مہربانی، ذمہ داری اور دیانت داری—کی قربانی دے کر نہیں آنا چاہیے، جو خاندانوں اور برادریوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے ستون ہیں۔
آج کے دور میں سب سے زیادہ تشویش کی بات اچھے برتاؤ کا ابتذال ہے، خاص طور پر مختلف نسلوں کے درمیان آپسی تعلقات میں۔ بزرگ کبھی حکمت کے ستون مانے جاتے تھے، جو نوجوانوں کو محبت اور صبر کے ساتھ رہنمائی فراہم کرتے تھے، جبکہ نوجوان ان کی عزت کرتے اور عاجزی کے ساتھ ان سے مشورہ لیتے تھے۔ تاہم، سماجی حرکات میں تبدیلی، تکنیکی ترقی، اور ترجیحات میں فرق نے ان رشتوں کو کمزور کر دیا ہے۔
ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے: ہم ان اقدار کو جدید دور میں کس طرح دوبارہ بحال کر سکتے ہیں؟
ابتدائی پرورش میں ماں کا کردار دائمی اہمیت کا حامل۔
یہ کہا جاتا ہے کہ ماں پہلی درسگاہ ہے، اور یہ سچائی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ بچے کی زندگی کے ابتدائی سال اس کی ذہنیت، عادات، اور اخلاقی بنیادوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ قدیم دور میں مائیں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں، جو اپنے بچوں کی تربیت محبت، اخلاقی رہنمائی، اور ثقافتی دانشمندی سے کرتی تھیں۔ اس ابتدائی تربیت نے یقینی بنایا کہ بچے معاشرے میں داخل ہوتے وقت بزرگوں کا احترام کرتے، اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرتے، اور دوسروں کے ساتھ خلوص کا مظاہرہ کرتے۔
آج، جیسے جیسے روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور معاشی ضروریات بڑھ رہی ہیں، بہت سی مائیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں مصروف ہیں۔ اگرچہ ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی ضروری ہے، لیکن والدین کی ناقابلِ بدل ذمہ داری کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ کوئی بھی اسکول، خواہ وہ کتنا ہی جدید کیوں نہ ہو، والدین کی طرف سے دی جانے والی محبت کی تعلیم کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ایک متوازن طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے، جہاں والدین اپنے بچوں کی تربیت میں فعال کردار ادا کریں اور اپنے خواب بھی پورا کریں، تاکہ نئی پود میں اقدار بچپن میں ہی سے راسخ ہو سکیں لیکن اپنی مصروفیات سے فارغ ہوکر مائیں گھروں میں ہوتی ہیں تو وہ گھریلو کام نپٹانے میں لگ جاتی ہیں اور بچوں کے ہاتھوں میں موبائل تھما کر چین محسوس کرتی ہیں جو سن قاتل سے کم نہیں۔ موبائل نہایت ہی اہم ایجادات میں سے ہے اور از حد فائدہ مند ہے لیکن یہی ہمارے معاشرتی زوال کی بنیاد بنا ہوا ہے۔
نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں اخلاقیات کی تعلیم کی ضرورت ؛
جدید تعلیم زیادہ تر کیریئر بنانے پر مبنی ہے، جو اخلاقی ترقی کے مقابلے میں تعلیمی کامیابی پر زور دیتی ہے۔ اگرچہ فکری ترقی ضروری ہے، لیکن اسے اخلاقی تعلیم سے ہم آہنگ کرنا بھی لازم ہے۔ اسکولوں کو ایسے نصاب شامل کرنے چاہئیں جو ہمدردی، صبر، اور احترام کو فروغ دیں، تاکہ بچے صرف قابل ماہرین ہی نہ بنیں بلکہ ہمدرد اور نیک انسان بھی بنیں۔ آخر جو بھی تعلیم دی جاتی ہے اسکا مقصد کیا ہوتا ہے؟ انسان کی خدمت یا مشین کی محبت۔!
پری اسکولنگ ابتدائی سالوں میں بچے کےلئے والدین کی تربیت کا متبادل نہیں بن سکتی ہے، بچے کے بنیادی تربیت کے لئے ابتدائی سالوں میں ماں کی گود ہی سب سے اہم تربیت گاہ ہے۔ بچوں کو چھ سال کی عمر کے بعد باقاعدہ اسکولوں میں داخل کروانے سے انہیں پہلے گھر میں اخلاقی بنیاد حاصل کرنے کا موقع ملتا تھا ۔گرد و پیش اور رشتے ناطوں کی جانکاری ملتی تھی لیکن اب تین سال پورے کرنے سے پہلے ہی اسکول میں داخلہ کرانا لازمی بن گیا ہے تو اسکا لازمی نتیجہ بھی ہر معاشرے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ معاشرے کو یقینی بنانا چاہیے کہ اخلاقی ترقی اسکولی تعلیم سے پہلے ہو، کیونکہ کردار ہی کسی بھی حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔
بزرگوں کی حکمت اور نوجوانوں کی توانائی کو ہم آہنگ کر کے پیڑیوں کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں معاون ہوسکتی ہے۔
بزرگوں اور نوجوانوں کا رشتہ جو کبھی باہمی احترام پر قائم تھا جیساکہ اوپر کہا گیا اب گھروں میں بھی اسکے بدلے میں خلیج نظر آتی ہے—بزرگ رہنمائی فراہم کرتے تھے، جبکہ نوجوان عزت و وقار کے ساتھ ان کی بات سنتے تھے۔ آج، دونوں فریق مایوسی کا سامنا کرتے ہیں —بزرگ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں سنا نہیں جا رہا، جبکہ نوجوان سماجی دباؤ کی وجہ سے اکثر روایات سے دور ہو جاتے ہیں۔
اس ہم آہنگی کو بحال کرنے کے لیے، بزرگوں کو صبر کے ساتھ رہنمائی فراہم کرنی چاہیے، محبت کے ساتھ اپنی دانشمندی منتقل کرنی چاہیے، اور حکم نافذ کرنے کے بجائے شفقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کو تجربے کی قدر کو تسلیم کرنا چاہیے، بزرگوں کے ساتھ عزت و وقار سے پیش آنا چاہیے، اور زندگی کے چیلنجوں میں ان کی بصیرت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ جب دونوں نسلیں کھلے مکالمے میں مشغول ہوتی ہیں، تو احترام خود بخود پھلتا پھولتا ہے اور خاندانی اور سماجی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ان روایات کے دشمن موبائل کو کسی وقفے کے لئے سبھی کو آف موڈ پر رکھ کر مل بیٹھنا ضروری ہے کیا ایسی کوئی سبیل نکالی جاسکتی ہے ؟
ان خاندانی تعلقات کو آگے بڑھانے میں مختلف تقاریب کا انعقاد کرنا ضروری عمل بن چکا تھا لیکن اب ہم ان کے خلاف ہوگئے ہیں، معاشرے میں تمام انسان تہواروں اور دیگر سماجی تقاریب میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے رہتے تھے لیکن اب ہمارے مذہب، ذات، ثقافت، یا سماجی حیثیت ایک دوسرے سے دشمنی کا شاخسانہ بن چکے ہیں جبکہ ان میں فرق ہمیں اپنی مشترکہ میراث سے الگ کرنے کےلئے نہیں بلکہ رنگارنگی کے سا ایک کرنے کے لئے تھے۔ ہر فرد، چاہے وہ کسی بھی پس منظر سے ہو، عزت اور مہربانی کا مستحق ہے اس جذبے کو بڑھاوا دینا ہے ۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب ایک ہی آباؤ اجداد—آدم اور حوا—کے وارث ہیں، اور ایک عظیم انسانی کہانی کا حصہ ہیں۔تاریخ ہمیںسکھاتی ہے کہ معاشرے صرف تقسیم سے نہیں بلکہ اتحاد، مشترکہ دانش، اور اخلاقی طرزِ زندگی سے ترقی کرتے ہیں۔ ترقی ہمیں ان اصولوں سے دور نہیں لے جانی چاہیے، بلکہ اسے جدید دنیا میں ان اقدار کو مضبوط کرنا چاہیے۔
لازوال اقدار کی بحالی کے لئے عمل کی ضرورت:
اچھے برتاؤ کی بحالی صرف ایک سماجی ضرورت نہیں ہےیہ پرامن زندگی کی کلید ہے۔ والدین کو ابتدائی طور پر اقدار کو سکھانا چاہیے، اساتذہ کو اخلاقیات کو سیکھنے کے عمل میں شامل کرنا چاہیے، بزرگوں کو صبر کے ساتھ رہنمائی فراہم کرنی چاہیے، اور نوجوانوں کو عزت اور عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اگر ہم تسلیم کریں کہ اچھائی ماضی کا حصہ نہیں بلکہ مستقبل کی ایک لازمی ضرورت ہے، تو ہم مل کر ایک ایسا معاشرہ بنا سکتے ہیں جہاں باہمی احترام، محبت، اور مہربانی پروان چڑھے۔
انسانی تعلقات کی بحالی کی طاقت ہم سب کے اندر ہے۔ جب خاندان، برادریاں، اور افراد ان اقدار کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے شعوری کوشش کریں گے، تو دنیا دوبارہ اپنی مشترکہ انسانیت کی خوبصورتی کی عکاسی کرے گی لیکن ہم نے ان سبھی خصائص کو سیاست کاروں کی بھینٹ چڑھا بیٹھے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کہاں کی اور بڑھ رہے ہیں ۔
����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں