جن کے کلام کو ضابط تحریر لانے سے اس میراث کو زندہ جاوید بنایا جا سکتا ہے/ محمد یعقوب نسیم
پلوامہ/ندائے کشمیر// تنہا ایاز/
وادی کشمیر میں عظیم شاعر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے کلام سے پوری دنیا میں نام کمایا جبکہ ایسے بھی شاعر گزر ے ہیں جو گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں جن کی تخلیقات کو منظر عام پر لانے کیلئے سرکار اور متعلقہ ادبی اداروں کو غوروخوضکرنا چاہیے۔ محمد یعقوب نسیم ہاستمی ساکنہ شوپیان بھی ایک کہنہ مشق شاعر ہیں جنہوں نے بہت سارا کلام لکھا ہے۔ایسے شاعروں کی یہ خواہش ہے کہ جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی اور ادبی تنظیمیں ان کے کلام کو عام لوگوں تک پہنچانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔ تفصیلات کے مطابق پہاڑی ضلع شوپیان سے تعلق رکھنے والے کشمیری زبان کے شاعر پیرزادہ محمد یعقوب نسیم 1953 میں پیدا ہوئے۔ اپنی زندگی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بچپن سے ہی فقیروں اور شاعروں کی مجلسوں میں جایا کرتا تھا اور بچپن سے ہی انہیں شاعری کے ساتھ لگاو تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ تقریبا پانچ برس کے تھے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا پھر نانی اور نانا نے ان کو پالا پوسا۔غربت ہونے کے باوجود بھی والد نے پیرزادہ محمد یعقوب کو 12 ویںجماعت تک تعلیم دلائی ۔اپنے ایک انٹرویو میں پیرزادہ محمد یعقوب نے کہا کہ وہ شوپیان میں 35 سالوں تک ایک پرائیویٹ سکول میں بطور استاد تعینات رہے جہاں وہ اردو کا سبجیکٹ پڑھاتے تھے۔محمد یعقوب چھوٹی عمر سے ہی ادبی اور کلچرل محفلوں میں شمولیت کرتے تھے۔ ان ہی محفلوں کے دوران انھیں شعروشاعری کا ذوق پیدا ہوا۔وقت گزرتا گیا ان کو بھی شاعری کے ساتھ کافی لگاؤ ہو گیا اور شاعر بن گئے ۔پھر عبدالرحمان طالب اور بے تاب صاحب کی وجہ سے ادبی دنیا میں قدم رکھا ۔ واضح رہے کہ پیرزادہ محمد یعقوب اس وقت بحیثیت ایک ادیب شاعر ہونے کے ناطے شوپیان کی ایک کلچرل فورم سے بھی وابستہ ہیں۔کئی شاعروں اور ادیبوں نے یعقوب کی ادبی خدمات کو سراہا ۔
جس کی بدولت وہ آج بھی اپنے قلم سے ماضی کی یادوں کو ایک ایسے انداز میں قلمبند کر کے ایک صوفی شاعر ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔انہوں نے بہت سارا کلام لکھا ہے اور اپنی زندگی بھر کی لکھی ہوئی تمام شاعری جمع کر کے رکھی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا کلام دوسروں تک پہنچے لیکن ایسا تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب کلچرل اکیڈمی ایسے گمنام شاعروں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے قدم اٹھائے ۔پیرزادہ محمد یعقوب کا کہنا ہے کہ شاعر اور ادیب قوم کا آئینہ ہوتا ہے جن کے کلام کو ضابط تحریر لانے سے اس میراث کو زندہ و جاوید بنایا جا سکتا ہے۔انٹرویو کے دوران انہوں نے نوجوان اسے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی وبا اور غلط کاموں سے دور رہے۔انہوں نے والدین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔نمائندے تنہا ایاز کے مطابق عوامی حلقوں نے سرکار خاص کر کلچرل اکیڈمی سے مطالبہ کیا ہے کہ پیرزادہ محمد یعقوب نسیم اور ان کے جیسے گمنام شاعروں کو آگے لانے کے سلسلے میں اقدامات اٹھائے جانے چاہیں تاکہ ایسے شعراء کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہو بلکہ آنے والے وقت میں بھی لوگ ادب کی خدمت کرنے کی غرض سے آگے آکر ریاست کے ادبی شعبے کو نئی اونچائیوں تک لے جانے کی خاطر آگے آسکیں۔عوامی حلقوں نے سرکار پر زور دیا ہے کہ وہ گمنام شاعروں کو ڈھونڈنے کے لیے اداروں اور ادبی تنظیموں کو متحرک کرے تاکہ ان کے کلام کو ضائع ہونے نہ دیا جائے بلکہ دوسروں تک پہنچا کر ان کے کلام کو محفوظ رکھا جا سکے۔

