سبدر شبیر
اوٹو اہربل کولگام
ارے حاجیو! تم جا رہے ہو اُس سرزمین کی طرف جہاں عرش سے رحمتیں اُتریں، جہاں صحابہ کے قدموں کی چاپ ہے، جہاں آسمانوں سے قرآن نازل ہوا، اور جہاں وہ ہستی مدفون ہے جس پر سلام بھیجنا ربّ ذوالجلال نے ایمان والوں پر فرض کر دیا۔ تم جا رہے ہو حرم کی طرف، بیت اللّٰہ کی طرف، مدینہ کی طرف، روضۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی طرف!
اے حاجیو! جب تم طوافِ کعبہ میں مصروف ہو جاؤ، تو ایک لمحہ میری تڑپ کو یاد کرنا، جس کی روح برسوں سے اس طواف کی حسرت میں جل رہی ہے۔ جب تم لبیک اللّٰھم لبیک کے مقدس الفاظ دہرا رہے ہو، تو میری طرف سے بھی کہہ دینا: “یا رب! ایک بندہ ہے جو لبیک کہنا چاہتا ہے، پر ابھی بلاوے کا منتظر ہے۔” میری طرف سے بھی وہ لبیک وہاں گونجنے دو۔
جب تم صفا و مروہ کی سعی میں دوڑو گے، تو حضرت ہاجرہ کی سعی کے ساتھ ساتھ میرے جذبات کی سعی کو بھی محسوس کرنا۔ میری خواہشیں بھی ان پتھروں کے درمیان دوڑ رہی ہیں، میرے جذبات بھی قربانی کا جذبہ لیے تمہارے ساتھ ساتھ ہیں۔
اے حاجیو! جب تم عرفات کے میدان میں قیام کرو، جب ساری امت سجدے میں گِر پڑتی ہے، جب زمین آسمان سے قریب تر ہو جاتا ہے، تب میرے لیے بھی دعا کرنا۔ کہنا: “اے اللّٰہ! ایک بندہ ہے جو عرفات کی گرمی نہیں جھیل سکا، پر اس کا دل آنسوؤں سے تر ہے، اس کے ارادے سچے ہیں، وہ بھی بخشش کا طلبگار ہے۔”
جب تم مزدلفہ کی راتوں میں خاموشی کے سناٹے میں سوؤ گے، تو میرے لئے بھی نیند مانگ لینا جو گناہوں کے بوجھ سے بےخواب ہے۔ جب تم جمرات پر شیطان کو کنکریاں مارو گے، تو میری طرف سے بھی ایک کنکری مار دینا میرے نفس پر، میری غفلت پر، میری سستی پر۔
ارے حاجیو! تم احرام باندھ کر ایک نئے عہد میں داخل ہو رہے ہو۔ یہ احرام صرف دو کپڑوں کا نام نہیں، یہ دل کی سادگی، روح کی پاکیزگی، اور نیت کی سچائی کا اعلان ہے۔ جب تم نے یہ لباس پہنا، تو دراصل تم نے دنیا کے لباسِ غرور کو اتارا ہے۔ میری طرف سے بھی یہ اعلان کر دینا کہ ایک شخص ہے جو دل سے احرام باندھ چکا ہے، اگرچہ ابھی جسمانی سفر مقدر نہیں ہوا۔
جب تم منیٰ کے خیموں میں قیام کرو، تو ان خیموں میں میرے اشکوں کی جگہ رکھ لینا۔ جب تم قربانی کے وقت جانور کو زمین پر لٹاؤ، تو میرے نفس کی گردن بھی باندھ دینا۔ کہنا: “یا رب! ہم صرف جانور نہیں، اپنی خواہشات بھی تیری راہ میں قربان کرتے ہیں۔”
پھر اے حاجیو! جب تمہارا قافلہ مدینے کی طرف روانہ ہو، تو مجھے مت بھولنا۔ میرے جذبات، میری خواہشیں، میری دعائیں، تمہارے ساتھ سفر کر رہی ہوں گی۔ جب تم مدینے کے حدود میں داخل ہو، تو اپنے قدم آہستہ کر لینا۔ وہاں ہر ذرہ، ہر ہوا، ہر سایہ مقدس ہے۔
مدینہ کی گلیوں میں جب تم چلو، تو دل کو جھکا کر چلو۔ وہی تو گلیاں ہیں جہاں آقائے دو جہاں صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نعلینِ مبارک نے زمین کو شرف بخشا۔ میرے نبی کے شہر کی فضاؤں میں جب درود و سلام کی صدائیں بلند ہوں، تو میری طرف سے بھی کہنا: “یا رسول اللّٰہ! ایک اُمّتی ہے جو دور ہے، مگر آپ کی محبت میں جیتا ہے، آپ کے در پر مرنا چاہتا ہے، آپ کو سلام کہتا ہے۔”
روضۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر جب تم پہنچو، تو سر جھکا دینا۔ جالیوں کو دیکھ کر دل تھام لینا۔ لرزتے ہونٹوں سے سلام پیش کرنا۔ اور میری طرف سے عرض کرنا:
“یا رسول اللہ! آپ کی امت میں ایک ایسا شخص بھی ہے جو آپ کی سیرت پڑھتا ہے، آپ پر درود بھیجتا ہے، آپ کے عشق میں روتا ہے، مگر ابھی آپ کے روضے پر نہیں آ سکا۔ اس کا دل ہر لمحہ آپ کی یاد سے معمور ہے۔ وہ آپ کو سلام کہتا ہے۔”
ارے حاجیو! تم وہاں جا رہے ہو جہاں کا عشق مجھ جیسے لوگوں کو جینے کی طاقت دیتا ہے۔ تم وہاں کے ذرے چومنے جا رہے ہو، جن کے لیے لاکھوں دل تڑپتے ہیں۔ تم وہ ہوا سونگھنے جا رہے ہو جو نبی کے نَفَس کی گواہ ہے۔ تم وہ اذان سننے جا رہے ہو جس کی بازگشت میں نبوت کی صداقت چھپی ہے۔
اگر ممکن ہو تو مدینہ کی کچھ ہوا اپنے ساتھ لپیٹ لانا، ایک مٹھی خاک لے آنا، کہ میں اس کو اپنی آنکھوں سے لگاؤں۔ وہ ہوا شاید میری بےنور آنکھوں میں کچھ چمک بھر دے، وہ مٹی شاید میری پیشانی کی جھریوں میں کچھ نور بھر دے۔
اے حاجیو! جب تم واپس لوٹو، تو خالی نہ آنا۔ توبہ کی پختگی، عشق کی روشنی، عبادت کی خوشبو، اور نبی کا پیغام اپنے دل میں سمیٹ کر لانا۔ میرے لئے بھی دعا مانگتے رہنا، کہ میں بھی ایک دن اسی قافلے میں شامل ہو سکوں۔
میرے نبی کو میرا سلام کہنا! کہنا کہ اُن کی امت میں ایک شخص ہے جو دن رات اُن کے عشق میں جیتا ہے۔ جو چاہتا ہے کہ مرنے سے پہلے بس ایک بار اُن کے روضے کے سامنے کھڑا ہو کر رو سکے۔ جو یہ چاہتا ہے کہ وہ قبر میں بھی درود پڑھتا رہے، اور حشر میں اُن کی شفاعت پائے۔
ارے حاجیو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام کہنا!
سبدر شبیر ۔۔اوٹو اہربل کولگام
sabdershabir7777@gmail.com

