کوئی عالِم ہے مسجد میں بڑی تقریر ہونی ہے 0

کوئی عالِم ہے مسجد میں بڑی تقریر ہونی ہے

غــــــــــــزل

کلام فلک ریاض

کوئی عالِم ہے مسجد میں بڑی تقریر ہونی ہے
بچھونا اپنے بابا کا بچھاؤں تو چلا جاؤں
عزاخانے میں مجلس ہے عزاداروں کا غلبہ ہے
میں اپنی ماں کے پیروں کو دباؤں تو چلا جاؤں
میرا ایک یار غصہ ہے کرے نہ بات وہ مجھ سے
میں گھر میں روٹھے بھائی کو مناؤں تو چلا جاؤں
گلی میں ایک نُکڑ پہ سنیں سب چٹکلے مجھ سے
میں اپنی روتی بہنا کو ہنساؤں تو چلا جاؤں
جہاں بھر کی حسینائیں ملے ہیں گھر سے دفتر تک
گلے میں اپنی بیگم کو لگاؤں تو چلا جاؤں
موالی ہیں کئی بچے محلے میں پڑھاؤں گا
ادب میں اپنے بچوں کو سکھاؤں تو چلا جاؤں
یہ موسم حج کا ہے لیکن نظر میں اک یتیمہ ہے
میں مہندی اس کے ہاتھوں میں رچاؤں تو چلا جاؤں
ہوا بیوی سے جھگڑا ہے پڑوسی نے بلایا ہے
میں پہلے گھر کے شعلوں کو بُجھاؤں تو چلا جاؤں
فلکؔمالک بلائے تو شرم آئے گی جانے میں
زرا اعمال کو اپنے سجاؤں تو چلا جاؤں
کلام فلک ریاض۔۔۔۔حسینی کالونی چھترگام۔۔کشمیر
فون۔۔۔۔6005513109

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں