0

حجاج کرام کو حج مبارک

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

حج فرض ہے، اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، یہ اس پر فرض ہے جو بیت اللہ تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْن َ۰۰۹۷ (سورہ آل عمران: آیت۷ ۹) یعنی لوگوں کے ذمہ اللہ کے لئے اس کے گھر کا حج کرنا لازم ہے، ہر اس شخص کے ذمہ جو وہاں پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو اور جو کفر کرے تو اللہ تمام عالم سے بےنیاز ہے۔
مکہ مکرمہ عرب کا مشہور اور قدیم شہر ہے، جس کے چاروں طرف پہاڑ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پاکیزہ شہر کو اپنے گھر کے لئے منتخب کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اور آپ کی بعثت بھی یہیں ہوئی، اسی مبارک شہر میں خانۂ کعبہ ہے، یہ شہر مرکزی نقطہ ہے، جس کے گرد بقیہ زمین کو پھیلا دیا گیا ہے، قدیم وجدید تحقیقات کے اعتبار سے یہ شہر خشک زمین کے وسط میں واقع ہے، اور کعبہ زمین کا مرکز ہے، اسی لئے اس مبارک شہر میں داخل ہونے کے لئے کچھ آداب ہیں، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ اس شہر میں بغیر احرام کے داخل ہونا منع ہے۔ اس طرح حج وعمرہ کا پہلا رکن احرام ہے، مکہ شہر کے چاروں طرف مقامات متعین کردیئے گئے ہیں، ان کو میقات کہتے ہیں۔ میقات سے آگے بغیر احرام باندھے جانا جائز نہیں ہے، ہندوستان سے ہوائی جہاز سے حج یا عمرہ کےلئے جانے والوں کے لئے میقات کوہ یلملم ہے۔ کوہ یلملم سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے، ہوائی جہاز سے سفر کےدوران ’’یلملم پہاڑ‘‘ کا اندازہ مشکل ہوتا ہے، اس لئے ہندوستان سے حج یا عمرہ کے لئے جانے والے احرام باندھ کر ہوائی جہاز پرسوار ہوتے ہیں۔
احرام: احرام یہ ہے کہ حج یا عمرہ کرنے والے اپنے کپڑے اتار کر ایک تہبند یا لنگی کمر میں باندھ لیں اور ایک بغیر سلی ہوئی چادر اس طرح اوڑھ لیں کہ دونوں کندھے اور پیٹھ چھپ جائیں۔ پھر دورکعت نماز احرام کی نیت سے پڑھے،اس کے بعد یہ نیت کرے۔اللہم انی اریدالحج والعمرۃ فیسرہما لی وتقبلہما منی اگر صرف عمرہ کے لئے جارہے ہوں تو دعاء اس طرح پڑھیں: اللہم انی اریدالعمرۃ فیسرہا لی وتقبلہا منی ،پھر جب نماز سے فارغ ہوتو تین مرتبہ تلبیہ یعنی لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک و الملک لاشریک لک پڑھے۔
جب حج کا زمانہ آتا ہے ، تو عازمین حج کے دلوں میں سرور وخوشی موجزن ہونے لگتے ہیں۔ جب حج کا فارم پُر کردیتے ہیں، تو ان کی دلی کیفیت بدلنے لگتی ہے اور وہ اپنی قسمت پر نازوفخر کرنے لگتے ہیں، تو پھر اس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے لئے تیار کرے، اس لئے عازمین حج کے لئے سب سے بڑی تیاری یہ ہوتی ہے کہ وہ حج وعمرہ کے سلسلے میںپڑھ کریا سن کر ضروری معلومات اور تصاویر کو دیکھ کر عملی ٹریننگ لیں، حج کا زمانہ آتا ہےتو ہر علاقہ میں ٹریننگ کا اہتمام کیا جاتا ہے، عازمین حج پر لازم ہے کہ وہ اس میں حصہ لیں ،تاکہ انہیں حج وعمرہ کے سلسلے میں ضروری معلومات حاصل ہوں، اسی مناسبت سے حج وعمرہ کے لئے سلسلے میں کچھ ضروری معلومات تحریر ہیں۔
ہندوستان میں حج تمتع کا رواج ہے، حج تمتع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی سفر میں عمرہ اور حج دونوں کی ادائیگی کی جائے۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر پہلے عمرہ کی ادائیگی کرلی جائے، پھر جب حج کا زمانہ آئے تو حج کیا جائے، اسی کو حج تمتع کہتے ہیں۔
عمر ہ کو حج اصغر بھی کہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ میقات یعنی احرام باندھنے کے مقام پر احرام باندھ کر خانۂ کعبہ کا طواف کرے، پھرصفاومروہ کے درمیان سعی کرے ،اسی کو عمرہ کہتے ہیں۔
عمرہ کے فرائض: عمرہ کے فرائض دو ہیں۔
(۱) احرام باندھنا، جو عمرہ کی نیت اور تلبیہ پڑھنے سے شروع ہوتا ہے۔
(۲) طواف کرنا۔
عمرہ کے واجبات: عمرہ کے واجبات دو ہیں:
(۱) صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا یعنی طواف کے بعدصفا ومروہ کی سعی کرنا، سعی کی ابتداء صفا سے کرنا اور مروہ پر ختم کرنا۔
(۲) سرکے بال منڈوانا یا کٹانا یعنی چوتھائی سرکےبال کو کٹانا یا منڈوانا واجب ہے اور پورے سرکے بال کو منڈوانا یا کٹاناسنت ہے۔
حج کے فرائض: حج کے فرائض تین ہیں:
(۱) احرام باندھنا یعنی حج کی نیت کرنا اور تلبیہ یعنی لبیک اللہم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک پڑھنا
(۲) وقوف عرفات یعنی ۹؍ذی الحجہ کو زوال آفتاب کے وقت سے ۱۰؍ ذی الحجہ کی صبح صادق تک عرفات میں ٹھہرنا۔
(۳) طواف زیارت یعنی دسویں ذی الحجہ کی صبح سے لے کر بارہویں ذی الحجہ تک طواف وسعی کرنا اور سرکا بال منڈوانا یا کٹانا۔
واجبات حج: واجبات حج مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱) مزدلفہ میں وقوف یعنی ٹھہرنا۔
(۲) صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا۔
(۳) رمی جمار یعنی کنکڑیاں مارنا
(۴) قربانی کرنا
(۵) حلق یعنی سرکا بال منڈانایاتقصیر یعنی سرکے بال کوکتروانا ۔
(۶) باہر کے لوگوں کو طواف وداع کرنا۔
اب انتظار کی گھڑی ختم ہوگئی، اب حاجیوں کا قافلہ روانہ ہونے لگا ہے ، جب حاجیوں کا قافلہ روانہ ہوتا ہے، تو ان کا دل جوش سے بھر جاتا ہے اور ان کے دل مقدس سرزمین کی زیارت کے لئے مضطرب ہو جاتے ہیں، ان
(جاری صفحہ12پر)
(صفحہ سے جاری 9پر)

کی آنکھیں مقامات مقدسہ بالخصوص خانۂ کعبہ کو ایک نظر دیکھنے کے لئے بیتاب رہتی ہیں۔ ان کے قدم تیز تیز چلنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ زبان پر لبیک لبیک کی صدا رہتی ہے اور وہ ذوق وشوق سے سرشار مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے بیتاب رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ وہ اپنے گھر اور اپنے آل اولاد اورخویش واقارب کو چھوڑ کر نکل پڑتے ہیں، ان کے دل میں شوق رہتا ہے کہ وہ کتنی جلدی مکہ مکرمہ؍مدینہ منورہ پہنچ جائیں اور وہاں کے جمال وجلال اور رحمت وبرکت کا مشاہدہ کریں۔ خانۂ کعبہ ان کے سامنے ہو اور وہ اس کا دیدار کررہے ہوں، یہ وہ کیفیت ہے جو حج ؍عمرہ کے سفر پر نکلنے سے پہلے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
اب آپ حج کے سفر پر جانے کے لئے تیار ہیں، سفر شروع کرنے سے پہلے آپ تیاری کریں، اچھی طرح غسل کریں، پھر وضو کریں، دورکعت نفل نماز پڑھیں، عمرہ کی نیت کریں اور یہ پڑھیں: اللہم انی ارید العمرۃ فیسرہا لی وتقبلہا منی پھردورکعت نفل نماز پڑھیں اور اس کے بعد تین مرتبہ تلبیہ یعنی اللہم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لاشریک لک پڑھیں اور کثرت سے اس تلبیہ کو پڑھتے رہیں۔ ہوائی جہاز پر چڑھتے اترتے اور ہر اہم موقع پر اس تلبیہ کو پڑھتے رہیں،خواتین کے لئے عام استعمال کے سلے ہوئے کپڑے ہی احرام کے کپڑے ہیں۔وہ سلے ہوئے کپڑے ہی کو استعمال کریں گی۔
جدہ ہوائی اڈہ سے بس یا ٹیکسی کے ذریعہ آپ کو مکہ قیام گاہ تک پہنچایا جائے گا، آپ ہر طرح مطمئن رہیں اور تلبیہ پڑھتے رہیں۔ مکہ مکرمہ میں بغیر احرام کے داخل ہونا منع ہے، اس لئے آپ نے ہوائی جہاز پر سوار ہونے سے پہلے احرام باندھ لیا ہے، اس لئے آپ مکہ مکرمہ میں قیام گاہ پہنچ کر حوائج اصلیہ سے فارغ ہوکر وضوکریں اور مسجد حرام جائیں اور خانۂ کعبہ کا طواف کریں۔ طواف کا طریقہ یہ ہے کہ حجراسود کے سامنے سے طواف شروع کریں، بھیڑ کی وجہ سے حجر اسود کے پاس پہنچنا مشکل ہوتا ہے ،اس لئے اس کے سامنے سبزمرکری کے پاس کھڑے ہوں اور حجر اسود کی طرف دونوں ہاتھ اٹھاکر بسم اللہ والحمد للہ واللہ اکبر پڑھ کر دونوں ہاتھوں کو چوم لیں، پھر دائیں کندھے کے اوپر سے چادر ہٹاکربغل ہوتے ہوئے بائیں کندھے پر ڈال لیں اور اکڑکر چلیں ،اسی کو رمل کہتے ہیں۔ جب رکن یمانی پر پہنچیں تو اس کو چھونے کی کوشش کریں، لیکن بھیڑ کی وجہ سے چھونا ممکن نہ ہوتو اس کو نہ چھوئیں اور دعاء پڑھیں: رَبَّنَا اٰتِنَافِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۰۰۲۰۱(سورہ بقرہ:۲۰۱) جب حجراسود کے سامنے سبز مرکری کے پاس آئیں تو ہاتھ اٹھاکر بسم اللہ والحمد للہ واللہ اکبر پڑھ کر ہاتھ کو چوم لیں ۔ اس طرح تین چکر پورا کریں، بقیہ چار چکر میں رمل نہ کریں یعنی اکڑکر نہ چلیں، بلکہ آہستہ آہستہ چلیں، البتہ حجر اسود کے سامنے سبزمرکری کے سامنے پہنچنے پر دعاء پڑھ کر ہاتھوں کو چومتے رہیں، ا س طرح ۷؍ چکر پورا کریں۔
طواف سے فارغ ہوکر مقام ابراہیم پر آئیں ، یہ مقام ابراہیم مطاف میں ہے، اسی میں ایک شیشہ کے خول میںمقام ابراہیمؑ ہے، وہاں دو رکعت نفل نماز ادا کریں، نماز سے فارغ ہوکر زم زم پر آئیں اور خوب آسودہ ہوکر اس کا پانی پئیں۔ زم زم کا پانی پینے کے بعد کوہ صفا پر آئیں اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کریں۔ سعی کا طریقہ یہ ہے کہ سعی سے پہلے چوتھا کلمہ یا جو دعاء یاد ہو، اس کو پڑھیں، پھر عام رفتار سے چلیں، جب سبز مرکری آئے تو مرد دلکی چال سے دوڑیں ،البتہ عورتیں اپنی رفتار سے چلیں، پھر جب آگے سبز رنگ کی مرکری آئے تو وہاں پہنچ کر چال ہلکی کردیں، جب مروہ پر پہنچیں تو وہاں وہی دعاء پڑھیں جو صفا پر پڑھا تھا، یہ ایک چکر ہوا، دعاء کے بعد مروہ سے پھر صفا کے لئے چلیں، جب صفا پر آجائیں تو دعاء کریں، یہ دو چکر ہوا، اسی طرح صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا کے درمیان چکر لگائیں۔ مروہ پر پہنچ کر ۷؍ چکر پورا ہوجائے گا۔اس طرح صفا اور مروہ کے درمیان سعی مکمل کریں، اس کے بعد پھر مطاف یعنی طواف کی جگہ یا حرم میں آکر دورکعت نماز پڑھیں، سعی کے بعد سرکے بال منڈوائیں یا کتروائیں۔ اب آپ عمرہ سے فارغ ہوگئے۔
عمرہ سے فراغت کے بعد آپ مکہ مکرمہ میں ہی رہیں گے۔ ان ہی دنوں میں حج کا عمل شروع ہوگا، مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران آپ کثرت سے عمرہ کا اہتمام کریں۔عمرہ کے لئے مسجد عائشہ جائیں جو خانۂ کعبہ سے دس کلو میٹر کی دوری پر ہے، وہاں جاکر احرام باندھیں اور عمرہ کی نیت کریں، دورکعت نماز پڑھیں اور سلام کے بعد تین مرتبہ تلبیہ یعنی لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک و الملک لاشریک لک پڑھیں، پھر خانۂ کعبہ آکر طواف کریں۔
مکہ مکرمہ کے قیام کے دوران ۸؍ذی الحجہ کا انتظار کریں۔ ۸؍ ذی الحجہ سے حج کے ایام شروع ہوتے ہیں اور پانچ دنوں تک رہتے ہیں۔ آپ کو۸؍ذی الحجہ کو منی میں قیام کے لئے جانا ہے۔۸؍ ذی الحجہ کی صبح کو حرم میں جاکر احرام باندھیں،دورکعت نماز احرام کی نیت سےپڑھیں،اس کے بعد یہ نیت کریں اللہم انی ارید الحج فیسرہ لی وتقبلہ منی نماز سے فارغ ہوکر پھر ۳؍ مرتبہ لبیک اللہم لبیک لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک و الملک لاشریک لک پڑھیں اور منی جانے کے لئے تیار ہوجائیں۔ اس کے لئے آپ کے قیام گاہ کے قریب بس رکے گی، اگر آپ چاہیں تو بس کے ذریعہ یا پیدل یا میٹرو کے ذریعہ منی جائیں۔ منی مکہ سے ۶؍ کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ منی پہنچ کر وہاں کے خیمہ میں قیام کریں، خیمہ کی شناخت اچھی طرح کرلیں، تاکہ دشواری نہ ہو، ۹؍ذی الحجہ کی صبح تک منی میں قیام کریں۔ وہاں عبادت وریاضت کریں، تلاوت اور توبۂ استغفار کریں۔۹؍ ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد عرفات کے لئے روانہ ہوجائیں۔ منی سے عرفات ۱۰؍کیلو میٹر کی دوری پر ہے، یہ جبل رحمت کے دامن میں واقع ہے، وہاں بس کے ذریعہ یا پیدل یا میٹرو کے ذریعہ جائیں، وہاں ظہر کی نماز کے وقت تک پہنچ جائیں۔ ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کریں اور میدان عرفات میں قیام کریں۔ یہاں عرفات میں قیام کرکے غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لئے روانہ ہوجائیں۔ مزدلفہ عرفات سے ۵؍ کیلو میٹر کی دوری پر ہے، یہ ایک وسیع وعریض میدان ہے، جو عرفات اور منی کے درمیان واقع ہے۔ ۸؍ذی الحجہ کو بغیر مغرب کی نماز پڑھے سورج غروب ہوجانے کے بعد مزدلفہ کے لئے روانہ ہوجائیں، مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ پڑھیں۔ مزدلفہ کے میدان میں آسمان کے نیچے رات بسر کریں، عبادت وریاضت کریں، توبہ واستغفار کریں اور یہاں ۷۰؍ کنکریاںچن لیں، احتیاط کے طور پر ۵؍ کنکریاں زیادہ لے لیں ،تاکہ آپ منی میں قیام کے دوران شیطان کو کنکریاں مارسکیں۔
مزدلفہ میں رات گزارنے کے بعد ۱۰؍ویں ذالحجہ کو فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد مزدلفہ سے منی کے لئے روانہ ہوجائیں، منی پہنچ کر اپنے خیمہ میں جائیں، آرام کریں، پھرجمرہ عقبی یعنی بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئے جائیں یا مزدلفہ سے منی آتےہوئے کنکری مارتے ہوئے خیمہ واپس آئیں۔ بہرحال زوال سے پہلے تک بڑے شیطان کو کنکری مارنا ضروری ہے۔ کنکریاںمارنے کے بعد قربانی کریں۔ قربانی کے بعد سرکے بال منڈوالیں یا کٹائیں،اس کے بعد احرام کھول کر اپنے عام کپڑے پہن لیں۔ گیارہویںتاریخ کو ظہر کی نماز کے بعد رمی یعنی کنکریاں مارنے کے لئے جائیں، رمی پہلے جمرہ سے شروع کریںیعنی پہلے شیطان کو ۷؍کنکریاں ماریں، پھر آگے جائیں اور دوسرے جمرہ شیطان کو ۷؍کنکریاں ماریں، پھر تیسرے شیطان کو ۷؍کنکریاں ماریں، پھر ۱۲؍ذی الحجہ کو زوال کے بعد تینوں جمرات کوکنکریاں ماریں۔ پھر خانۂ کعبہ جائیں اور طواف زیارت کریں، طواف زیارت ۱۲؍ ذی الحجہ کی عصر تک کرلینا ضروری ہے۔طواف زیارت کا وہی طریقہ ہے جو پہلے طواف کے طریقے میں بتایا گیا ہے۔طواف زیارت کے بعد پھر منی چلے جائیں اور ۱۲؍ ویں ذی الحجہ تک منی میں قیام کریں اور ہر دن تینوں جمرات کو کنکریاں ماریں اور ۱۲؍ذ ی الحجہ کو سورج غروب ہونے سے پہلے مکہ مکرمہ لوٹ جائیں۔اگر ۱۳؍ذی لحجہ کو بھی منی میں قیام کا ارادہ ہوتو ۱۳؍ویں ذی الحجہ کو بھی تینوں جمرات کوکنکریاں ماریں۔
حج سے فارغ ہونے کے بعد آپ کا قیام مکہ مکرمہ میں رہے گا،اس دوران آپ زیادہ سے زیادہ طواف اور سعی کریں، اس کے لئے آپ مسجدعائشہ جائیں جو مکہ مکرمہ سے تقریباً دس کیلو میٹر کی دوری پر ہے، وہاں سے احرام باندھ کر آئیں اور طواف کریں۔اس کے علاوہ وہاں بہت سے تاریخی مقامات ہیں،آپ ان کی زیارت کریں اور مساجد میں نوافل کا اہتمام کریں،تاریخی مقاماتمسجد حرام،مطاف،مقام ابراہیم، زمزم کا کنواں،کوہ صفا،کوہ مروہ، مسعی، حضورؐ کی جائے پیدائش،دار ارقمؓ،شعب ابی طالب، دارالندوہ،جمرات،میدان عرفات ، جبل رحمت،غار حراکی زیارت کریں۔
مدینہ منورہ کے لئے روانگی
حج سے فارغ ہونے کےبعد آپ مدینہ منورہ جائیں گے۔ مدینہ منورہ بس یا میٹرو کے ذریعہ جائیں ۔ مکہ مکرمہ سے روانہ ہوکر چند گھنٹے کے بعد آپ مدینہ منورہ پہنچیں گے۔ مدینہ منورہ رسول اللہ ﷺ کا شہر ہے، یہ مسلمانوں کے لئے محبوب ترین مقام ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی ہجرت گاہ ہے۔ اس شہر کے لوگوں نے آپ کو ٹھکانا فراہم کیا ، آپ کی دعوت کو پھیلانے میں مددگار ہوئے ، اللہ کے دین کی نصرت اور مددکی، یہاں کےرہنے والے لوگوں نے اپنی جان ،مال ،اولاد کو قربان کرکے آپ کی حفاظت کی۔ اس سرزمین میں آپ کی وہ مسجد بھی ہے، جو مسجد نبوی کے نام سے مشہور ہے۔
مدینہ منورہ میں خیر ہی خیر ہے۔اس میں اعمال کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔مسجد نبوی میں پڑھی ہوئی ایک نماز مسجد حرام کے سوا دوسری مساجد میں پڑھی ہوئی ہزار نماز سے افضل ہے۔اسی مسجد میں ریاض جنت جیسی مقدس جگہ ہے۔
نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کو حرم قرار دیا ،جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دیا تھا۔ یہ ایک مقدس شہر ہے جو خبیث لوگوں کو باہر نکال دیتا ہے جیسے آگ کی بھٹی لوہے سے زنگ کو دور کردیتی ہے۔ یہ پاکیزہ مرکز ہے۔اس کی ہر چیز پاکیزہ ہے۔اس کی زمین بھی،فضا بھی،کھجوریںبھی اورغلہ بھی پاکیزہ ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ اس شہر میں جناب رسول اللہ ﷺ کی مسجد بھی ہے اور آخری آرام گاہ بھی۔
آپ مدینہ منورہ جارہے ہیں،راستہ میں درود شریف کثرت سے پڑھیں۔ جب آپ اپنے قیام گاہ پہنچیں۔ توحوائج اصلیہ سے فارغ ہوکر مسجد نبوی جائیں ، تحیۃ المسجد اور شکرانہ کے طورپر نفل نماز ادا کریں۔ فرض نماز کا وقت ہو تو نماز بھی اداکرلیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پر جائیں اور سلام اور درود پڑھیں۔ نماز سے فارغ ہوکر قیام گاہ واپس آئیں۔ جب پھر مسجد نبوی آئیں تونماز پڑھیں، خاص طور پرریاض الجنہ میں نماز پڑھیں۔اس میں نماز پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔موقع مل جائے توتلاوت کریں۔ اوراد ووظائف کا بھی اہتمام کریں۔رسول ﷺ کے روضہ کی زیارت کریں اور درود وسلام پڑھیں۔ جو شخص رسول اللہﷺ کے روضہ کی زیارت کرے اسے چاہئے کہ وہ انتہائی ادب و خاموشی کے ساتھ روضہ کے پاس کھڑا ہو ، اور پھر ادب و احترام کے ساتھ آپ کی خدمت میں درود اور سلام پیش کرے اور پڑھے الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
پھر حضرت ابو بکر ؓاور حضرت عمر ؓپر بھی سلام پیش کیجئے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کسی کے لئے بھی یہ درست نہیں ہے کہ روضہ مبارکہ کو ہاتھ یا جسم لگائے یا بوسہ دے یا طواف کرے۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی حاجت براری ،مشکل کشائی ،شفائے مرض یا اس قسم کی اور کوئی دعاء کرے،کیونکہ ایسی چیزوں کی دعاء اللہ تعالیٰ سے ہی کی جا سکتی ہے۔
بعض زائرین آپ ﷺ کے روضہ کے سامنے دیر تک کھڑے رہ کر پڑھتے یا روتے ہیں ،یہ بھی آداب کے خلاف ہے کیونکہ روضہ مقدس کے پاس زیادہ دیر تک کھڑے رہنا یا بار بار سلام پڑھنا بھیڑ کا سبب بنتا ہے،چیخ و پکار ہوتی ہے،شور و غل ہوتا ہے۔یہ سب چیزیں آداب کے خلاف ہیں۔اسی طرح بعض زائرین سلام کے وقت اپنے سینہ پر یا سینہ سے نیچے نماز کی طرح ہاتھ باندھ لیتے ہیں ،یہ بھی درست نہیں کیونکہ یہ عبادت اور خشوع و خضوع کی حالت ہے جو اللہ کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ اس لئے زیارت کے وقت تمام آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
مدینہ منورہ اور اس کے گردونواح میں بہت سے تاریخی مقامات ہیں۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ان مقامات کی زیارت کریں اور مساجد میںنوافل کا اہتمام کریں۔ تاریخی مساجد ومقامات میں سے مسجد نبوی، منبر و محراب،مسجد قباء،مسجد قبلیتین،مسجد بنی حارثہ،جبل احد، جنت البقیع،جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ،شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کمپلیکس کی زیارت کریں۔
بعض حجاج کرام کا سفر پہلے مدینہ منورہ کے لئے ہوتا ہے، مدینہ منورہ کے لئے احرام نہیں باندھا جاتا ہے، اس لئے وہ اپنے سادہ لباس ہی میں مدینہ منورہ کا سفر کریں گے۔ مدینہ منورہ جارہے ہیں تو راستہ میں کثرت سے درود شریف پڑھیں اور مدینہ منورہ کے سلسلے میں مندرجہ ہدایات پر عمل کریں، پھر جب مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوں تو ذوالحلیفہ کے مقام پر احرام باندھیں اور حج کے سلسلے میں درج ہدایات پر عمل کریں۔ حجاج کرام کو حج مبارک ہو اور اللہ تعالیٰ ان کے حج کو قبولیت سے نوازے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں