آوازیں جو رہ گئیں 0

آوازیں جو رہ گئیں

صداقت علی ملک

کچھ آوازیں لفظوں میں نہیں ڈھلتیں، بس دل کے کونے میں چھپی رہتی ہیں، دھیمی سسکیوں کی صورت، یا شاید کفن کے اندر دبے ان گنت سوالوں کی مانند۔ کشمیر کے سناٹے میں گونجتی یہ آوازیں نہ صرف ذاتی دکھ کی داستان سناتی ہیں، بلکہ اجتماعی المیے کی چیخ بھی بن جاتی ہیں — ایسی چیخ جو سیاست، طاقت اور شناخت کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہے۔
ریحانہ کا کردار محض ایک بیوی کا نہیں، وہ اس سرزمین کی علامت ہے جہاں محبت، معصومیت اور امید ہر روز گولی کی آواز میں دفن ہوتے ہیں۔ اس کی آنکھوں سے بہتا ہوا آنسو صرف شوہر کے بچھڑنے کا غم نہیں بلکہ ایک سوال ہے ، کیا کسی کا مشکوک ہونا اس کی زندگی چھیننے کا جواز بن سکتا ہے؟ ناصر کی گمشدگی اور پھر “نامعلوم” شناخت کے ساتھ واپسی ہمیں ایک ایسی دنیا سے روشناس کرواتی ہے جہاں انسان کو اس کے چہرے سے نہیں بلکہ اس کے شبہے سے پہچانا جاتا ہے۔
ریحانہ کا چھوٹا بیٹا آمن، جو اپنی کتاب میں رنگ بھرتا ہے، دراصل آنے والی نسل کی خاموش نفسیاتی تصویر ہے۔ جب وہ اپنی کتاب کے صفحے پر موجود انسان کو سرخ رنگ میں رنگتا ہے، تو وہ صرف ایک صفحہ نہیں رنگتا ۔ وہ اس سچائی کو شعوری یا لاشعوری طور پر قبول کر رہا ہے کہ اب “زندگی” کا رنگ سرخ ہے — خون کا، درد کا، احتجاج کا۔
بشیر چاچا جیسے کردار، جنہوں نے اپنے نوجوان بیٹے کو محض سیّاح ہونے کی پاداش میں کھو دیا، اس بیانیے کو مزید گہرائی دیتے ہیں۔ ان کے بیٹے جمیل کا قتل، جو ایک معصوم تماشائی تھا، ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ جنگ صرف بندوق سے نہیں ہوتی — وہ تاثر سے، مفروضے سے اور ادارہ جاتی خوف سے بھی لڑی جاتی ہے۔ بشیر چاچا کا فقرہ “ہماری پہچان اب گولی کی نال سے ہوتی ہے” ایک پورے خطے کے المیے کی تعبیر ہے۔
یہ افسانہ دراصل “نامعلوم” کے استعارے پر قائم ہے۔ ریاستی بیانیہ ان تمام لاشوں کو “نامعلوم افراد” سے جوڑ دیتا ہے، مگر ریحانہ اور دیگر کردار انہیں پہچانتے ہیں۔ یہیں پر افسانے کی فکری جہت اجاگر ہوتی ہے — شناخت کی سلبی، انسان کی بےمعنویت، اور تاریخ کے جھوٹے مسودے۔
ریحانہ جب ناصر کے کفن پر جھک کر کہتی ہے:
“یہ آوازیں مت دفناؤ ۔ یہ تاریخ کا کفن چاک کر دیں گی”۔
تو وہ محض ایک جملہ نہیں بول رہی، وہ ایک بیوی نہیں بلکہ ایک پوری ملت کی بیٹی بن کر تاریخ سے تقاضا کر رہی ہے کہ سچ کو دفن مت کرو، ورنہ یہ قبریں بول اٹھیں گی۔
کفن صرف جسم نہیں ڈھکتا، وہ سچائی کو، شناخت کو، اور احتجاج کو بھی چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن بعض کفن ایسے ہوتے ہیں جن سے آوازیں باہر آتی ہیں، جن کے اندر سناٹے نہیں بلکہ سوال زندہ ہوتے ہیں۔
آخر میں، جب بشیر چاچا دیوار پر لکھتے ہیں:
“ہم دہشت گرد نہیں ۔ ہم مقتول ہیں!”
تو یہ جملہ صرف ایک احتجاجی نعرہ نہیں، بلکہ پورے بیانیے کو پلٹ دیتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب مقتول، قاتل سے بلند تر ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس سچ ہوتا ہے، اور سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
یہ ایک چیخ ہے جو خاموشی کے سینے میں پل رہی ہے۔ یہ افسانہ ان معصوم آوازوں کو جگہ دیتا ہے جو روزمرہ کی سیاست، ریاستی خوف، اور غیر انسانی پالیسیوں کے نیچے دفن ہو رہی ہیں۔ ہم اس سوال کو اٹھاتا ہے جو ہر کشمیری کے دل میں ہے:
کیا کسی کی شناخت اور زندگی کا فیصلہ بندوق کی نال کرے گی، یا تاریخ سچ کو اپنی زبان دے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں