0

چندہ اورچیرٹی! سماجی بھلا ئی کہ بلامحنت کمائی؟

ش م احمد سری نگر
7006883587

گزشتہ تین کالموں میں ناچیز نے حقیقی محتاج و مساکین کی مالی امداد میں خلوصِ نیت سے پیش پیش رہنے اور پیشہ ور گداگری کے سماجی ناسور کی حوصلہ شکنی کر نے پر اپنی حقیرگزارشات اور معروضات قلم بند کی تھیں ۔ آج اسی موضوع پر مزید خامہ فرسائی کی ضرورت محسوس کررہاہوں ۔
یہ بات بلا خوف ِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے درمیان ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جنہیں کمر توڑ مہنگائی کے ا س دورمیں دووقت کی روٹی بآسانی میسر نہیں ‘ جویا تو بےروزگار ہونے کے سبب کمائی نہیں کر پاتے یا آمدنی بہت کم اور خرچہ جات اتنے زیادہ ہیں کہ روز مرہ ضروریاتِ زندگی کی کفالت نہیں کرسکتے ‘ جو خود بیمار ہوں یا کنبے کاکوئی دوسرا فرد کسی خرچیلے مرض وعارضے میں مبتلا ہولیکن دوا دارُو میںمالی دشواری کے باعث علاج ومعالجہ ندارد ‘ جو اپنی بالغ بیٹیوں کی شادی خانہ آبادی کے ضمن میںبے دست وپا ہو ںکہ جیبیں خالی ہیں ‘ جو بے گھر ہوں مگر نہ کرایہ دار بن کر رہن سہن کرسکیں نہ اپنے لئے جگی جھونپڑی یا چھپرا تعمیر کر نے کی قوت رکھتے ہوں ‘ وغیرہ وغیرہ۔
ایسے مجبور و لاچار انسانوں کو حالات کے رحم وکرم پر یا رام بھروسے چھوڑنا کسی باضمیر فرد یا حسا دل سماج کو قابل قبول نہیںہو سکتا ‘ نہ کوئی دین دھرم اُن کی حالت ِزار کو کرموں کا پھل کہہ کران کو دُھکارتے پھرتےہیں‘نہ انسانی ذہن کا تراشیدہ کوئی اِزم ‘ فلسفۂ حیات ‘ دُستور ایسے کوتاہ نصیب انسانوں کے مصائب سے خود کو لاتعلق رہ سکتا ہے۔ ایسے مفلسوں کی کماحقہ مالی معاونت کرنے سے اوراُنہیں سر چھپانے کے لئے کوئی ٹھکانہ دینے سےنہ فلاحی ریاست نظریں موندھ سکتی ہے ‘ نہ آمریت نہ جمہوریت نہ بادشاہت اور نہ عام انسانی معاشرہ۔ غرض فرش ِ زمین پر رہنے والاکوئی بھی ذی ہوش انسانی سماج اور نظمِ حکومت ان مسائل ومصائب سے کلی طورلاتعلق یا بے نیاز نہیںرہ سکتا ۔
بے شک یہ کل یُگ ہے مگر ا س کے باوجود انسانی ہمدردی ‘ مواسات اورجذبہ ٔ ترحم کے اہم ترین انسانی فریضے سے عہدہ برآ ہونے کے ضمن میں اس وقت دنیا کے اندر سب کے سب خونی نیتن یاہُو اور اُس کے بے رحم چیلے چانٹے ہی نہیں بلکہ ہر ملک ہرقوم ہر خطے ہر معاشرے اور ہرمذہب میں آج بھی بڑے بڑے فرشتہ صفت سخی رحم دل اور ہمدرد انسان بھی فوج در فوج نظر آتے ہیں‘ نیک نام خیراتی ادارے بھی سرگرمِ عمل ملتے ہیں‘ متاعِ اخلا ص کا انمول خزانہ رکھنے والی بین الاقوامی چیریٹی اُنجمنیں بھی مصروفِ کار دکھائی دیتی ہیں ‘ہاں کہیں کہیں چندے کادھندا چلانے والے نفس پرست بھی ایکٹیو نظر آتے ہیں۔ اگرچہ جنیون ادارے محتاج ومساکین کی حاجت روائی اور دین دُکھیوں کی دل جوئی میں اپنے طور کوئی کسر نہیں چھوڑتے‘تاہم ہر اچھے اور نیک کام کو اپنے اصل ہدف اور حقیقی مقصدیت کی راہ سے بھٹکانے کے لئے شیطان بھی کہاں نچلے بیٹھتا ‘ وہ آگے بڑھ کر انسانی دل ودماغ میں لالچ کی بیماری‘ مال وزَر کی ہوس ‘ خود غرضی کا بُت‘ مکروفریب کی پھپھوند اور بلامحنت کما نے کی بے حمیتی کا سرطان پیوندکر کےمفت خوروں اور بے غیرتوں کے لشکر کسی نہ کسی صورت پیدا کر تاجاتا ہے ‘ یہ مشتنڈے اور بے ضمیر لوگ خیرات اور ہمدردی کے اصل مستحقین کو محرومی کے حاشیے پر دھکیل کر خود بھک منگوں کا رُوپ دھارتے ہوئے اپنا پیٹ جہنم کے انگاروں سے بھرتے ہیں ۔ ایسے کم بخت لوگ ہر جگہ ‘ہر زبان ، ہر عقیدے ‘ ہر قوم ‘ ہر علاقے میں سر کی آنکھوں سے دیکھےجاتےہیں ‘ آئے روز ہم اُن کی کارستانیاں بھی سنتے ہیں کہ یہ غیر مستحق لوگ’ بناکرفقیروں کا ہم بھیس ‘کے مصداق غریبوں کا کھلے عام حق مارتے پھررہے ہیں ۔ یہ ایسے نقلی فقیر ہوتے ہیں جن کے پاس خیرات دینے والوں کے مقابلے میںکافی زیادہ بنک بیلنس ‘ مکانات‘ قیمتی فلیٹ ‘ دوکانیں ‘ املاک بھی کیوں نہ ہوں مگر عادت سے مجبور بھیک مانگ مانگ کر اپنے مال وجائیداد بڑھانے کے ناقابل ِ علاج دماغی مرض میں ہمیشہ مبتلا رہتے ہیں ۔ مثلاً چند برس پہلے بہار پٹنہ کا ۳۳؍ سالہ پپو کمار بڑے چرچے میں رہاکہ وہ کروڑوں کی جائیداد کا مالک ہے‘ کوٹھی بھی رکھتا ہے ‘ لوگوں کو سود پر قرضہ بھی دیتا ہے مگر ہاتھ پھیلا نے کی لت میں اس قدر گرفتار ہے کہ میلے کچیلے کپڑے پہن کر غربت کا ڈھونگ رچانا اُس کی مجبوری ہے اور جھولی پھیلانا ا س کی فطرت ِثانیہ ۔ اسی طرح ممبئی کا بھارت جین نامی بھکاری بھی کبھی شہ سرخیوں میں آگیا کہ لکھ پتی ہے ، بھیک کے پیسوں کو پس انداز کرکرکے ایک اہم مارکیٹ میں دوکان خرید لی ہے ‘ جسے ایک جوس والے کو کرایے پر دے کر خوب کمائی کررہاہے مگر اس کے باوصف کسی بھی قیمت پر بھیک مانگنا چھوڑنے پر تیار نہیں ۔ کرشنا کمار نامی ایک اور فقیر نما امیر مہاراشٹر میں اپنا کام دھندا چلا کر روزانہ ہزاروں کی بھیک جمع کرتا ہے ‘ ا س کے پاس ذاتی گھر کے ساتھ ساتھ ہر وہ جد ید سہولت بشمول قیمتی گاڑی موجود ہے جو موجودہ دور میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی انسان کو خواب وخیال میں بھی میسر نہیں مگر یہ فقیر نما صاحب ہے کہ بھیک مانگنے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے اپنے بہی کھاتے کی دیکھ ریکھ اور مالی لین دین کے لئے اپنے بھائی کو اپنا سیکرٹری مقرر کیا ہواہے ۔ سروایتا دیوی نامی بھکارن اتنی مالدار ہے کہ سالانہ بیمے میں خطیر رقم بیمہ کمپنی کو ادا کرتی ہے ‘ پھر بھی بڑے چاؤ سے ممبئی شہر میں بھیک مانگنے کا ریکارڈ توڑنے سے گریز نہیں کرتی ۔ بھک منگا ماسو مالانا کو جو نہیں جانتا وہ پیشہ ور بھکاریوں کے بارے میں آدھا ہی سچ جانتا ہے ۔ پورا سچ اس کے کام دھندے کا نرالا انداز دیکھ کر پتہ چلتا ہے ۔ یہ ساؤتھ انڈیا میں رہتا ہے ‘ صبح سویرے اپنی قیمتی گاڑی کو کار پارکنگ میں رکھ کر مقررہ سپاٹ پر جھولی پھیلاتا ہے اور دان دکشنا جمع کرکے شام ڈھلے ٹھاٹھ کے ساتھ واپس گاڑی میں گھر چلا آتا ہے ۔اس کے پاس کتنی ساری دولت جمع ہے ‘کسی کو پتہ نہیں چلتا ۔ کرسٹوفر ٹرنر برطانوی ایک گداگر ہے جو لندن میں اپنے شاندار ذاتی فلیٹ سے تھوڑی دور سڑک پر پلے کارڈس لئے فقیرانہ بھیس میں ڈیرا جماتا ہے اور ’’ مجھ پر ترس کھاؤ‘ میری امداداوپر والے کا ارشاد‘ میں بے گھر بے سہارا بھوکا ہوں‘ پلیزمجھے بچائیں‘ جیسے جملے لکھ کر لوگوں سے خیرات وصولتا ہے۔ تھامسن بھی لندن کے مالز اور گلی کوچوں میں جاکر اپنی غربت کی دہائیاں دے کر بھر پور خیرات بٹورتاہے ‘ حالانکہ جان کار کہتے ہیں کہ اس کی جائیدا د یں لاکھوں ڈالر مالیت کی ہیں مگر بھیک مانگنا اس کا بزنس بن چکا ہے ۔
لندن میں چیریٹی کا کام بے حد وحساب ہوتا ہے ۔ دو تین سال قبل مجھے اور میری اہلیہ کو فیملی وزٹ ویزےپہ انگلستان جانے کا موقع ملا تھا ۔ میری سمجھ میں یہاں کی دُنیا ہماری دنیا سےایک الگ مقام ہے ‘ زندگی جینے کا ڈھنگ ہم سے با لکل مختلف ہے ‘ سوچ الگ ہے‘ ترجیحات جدا ہیں‘ پسند وناپسند متفرق ۔ میں نے دیکھا کہ وہاں بھیک منگے نہ ہونے کے برا بر ہیں ۔ کبھی کبھار آپ کو کسی مال کے باہر‘ کسی بھیڑ بھاڑ والے علاقے یا کسی مصروف بازار میں کوئی ایک آدھ گداگرضرورنظر آئے گا جوسڑک کنارے چپ چاپ بیٹھا ہو گا ، اپنے سامنے دو ایک فٹ چکور گتے کا بورڈ رکھا ہوگا جس پر سیاہ یا نیلے چاک سے اپنی بپتا چند جملوں میں لکھ رکھی ہوگی ‘ راہ گیر اُس کی جھولی میں اپنی اپنی استطاعت کے مطابق خیرات ڈالتے ہیں ۔ لندن کے بازاروں میری نظروں سے کئی بار یہ منظر بھی گزرا کہ کوئی بھکاری یا بھکارن ہاتھ میںگٹکار لئے کھڑا ہے ‘ کان کاپردے پھاڑنے والی آواز میں پبلک ایڈریس پر انگریزی گیت گانا بجاتا ہے ‘ پہلی نظر میں مجھ جیسے انجان راہ گیر کو محسو س ہوتا ہے کہ گداگر اتنی میٹھی رسیلی آواز میںخود گاتابجاتاہے مگر حقیقت یہ ہوتی ہے کہ یہ فلمی اداکاروں کی مانند صرف اپنے ہونٹوں کو ہلاتے ہیں ‘ نغمہ ٹیپ ریکارڈر پر اونچی ترین وآلیوم پر آن رہتاہے ۔ ایک موقع پر شام کے اندھیرے لندن کے اہم بازر میں اسی منظر سے آنکھیں دوچارہوئیں ۔۔۔ چند لوگ فٹ پاتھ پر ایک گدا گر کے اردگرد جمع ہیں ‘ انگریزی گانا بآواز بلند بج رہاہے ‘ چہل قدمی کو نکلی ایک فیملی کے چھوٹے بڑے گانے کی دُھن پر ناچ ناچ کر دیوانہ ہوئے جارہے ہیں ۔ تماشہ گیر جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنی حیثیت کے مطابق کوئی نہ کوئی رقم بھکاری کے کشکول میں خوشی خوشی ڈالے آگے چلتے ہیں ۔ دوسرا منظر میٹرو میں دیکھا کہ کچھا کھچ بھرے ڈبے میںکوئی ایک گداگر سواریوں سے بہت ہی درد بھرے الفاظ میں سر کا صدقہ مانگتا ہے۔۔۔میں بھوکا ہوں‘ بے گھر ہوں ‘ بے آسرا ہوں‘ خدا کے نام پر میری مدد کیجئے۔ کوئی اُس کے ہاتھ میں کچھ تھماتا ہے ‘ کوئی اس کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا ۔ گداگری کی یہ تصویر یں نظروں کے سامنے یہ گزریں کہ بھکاری فلائی آور کے نیچےیا کسی سرنگ کے اندر ڈیر اڈالے ہوئے ہے ‘ اپنے سامان ِ زندگی کے بیچ میں وہ ایسے بیٹھا ہے گویا چند فٹ پر مشتمل یہ گوشہ ا ُس کا گھر بار یا کل کائنات ہے ‘ اس کے اردگرد چند اٹیچیاں وہ در و دیواریں ہیں جہاں یہ رات دن بے گھری کی حالت میں گزارتا ہے ۔ مجھے پتہ چلا ایسےاشخاص بے خانماں ہوتے ہیں اور چوبیسیوں گھنٹے اسی طرح مست مولا بنے گزار نے کے عادی ہوتے ہیں ۔ ایک طرف فلک بوس عمارتیں اور رواں دواں زندگی کی چہل پہل ‘دوسری طرف غریبی و بے کسی کی یہ محرومیاں!!! ایسے ہی ایک بے گھر شخص کو میں نے کئی دن ایک مسجد کے بالکل قریب سرنگ کے اندر سویا پڑا دیکھا ۔ یہاں پاس کی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کا کئی بار موقع ملا تھا اور ہر مرتبہ دیکھا کہ اس غریب کو نماز کے لئے آنے جانے والے مسلم کمیونٹی کے لوگ مقدور بھر کر کچھ دے دلا کر ہی آگے بنتے۔ اس مسجد میں باضابطہ طور نمازِ جمعہ کے موقع پر چندہ کیا جاتا ‘ چندے کی یہ رقم خانہ ٔ خدا کے دیگر انتظامات کے کے علاوہ ہفتے میں ایک مخصوص دن مقررہ وقت پر ایسے بے گھر غریبوں کو مسجد کے اندر بٹھاکر بھر پیٹ کھاناکھلا نے پر صرف کی جاتی ۔ یہ ایک نیک کام تھا کیونکہ بے گھر بھکاری واقعی نان ِ شبینہ کے محتاج ہوتے ہیں‘ مجھے معلوم ہوا کہ یہ غربا اُس دن کا بے تابانہ انتظار کرتے رہتے ہیں جب انہیں خیراتی بھوجن کا لطف اُٹھانا نصیب ہو۔ یہ بھی پتہ چلا کہ ان غربا میں ننانوے فی صد غیر مسلم ہواکرتے ہیں اور اجتماعی طعام کا اہتمام باقاعدگی کے ساتھ مسجد کی طرف سے کئی سال سے بڑے شدومد سے چندے یا چیریٹی کے پیسے سے ہوتا چلا آرہاہے۔
ّ( باقی باقی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں