وحشی سعید کی افسانچہ نگاری 0

وحشی سعید کی افسانچہ نگاری

ڈاکٹر فیض قاضی آبادی

سعادت حسن منٹو اردو کا پہلا افسانچہ نگار ہے اور “سیاہ حاشیے ” اُردو افسانچوں کا پہلا مجموعہ ہے جو ۱۹٤۸ء میں شائع ہوا ۔ اُردو افسانچہ کی یہ بدقسمتی ہے کہ اسے پچاس سال تک کوئی ایسا ناقد نہیں ملا جو اس کے خاکوں میں رنگ بھرتا۔ اس پر طرا یہ کہ “سیاہ حاشیے” کے افسانچوں پر تنقید اور تجزیہ کرنے کے بجائے ناقدین نے اس کتاب کے مقدمہ جو محمد حسن عسکری نے “حاشیہ آرائی” کے عنوان سے لکھا تھا کو موضوع بحث بنایا۔ منٹو اردو فکشن میں ایک نیا تجربہ کر رہے تھے انہوں نے فکشن کو ایک نیا آہنگ دیا اس پر بات ہونی چاہیے تھی مگر ان کی اس کتاب کو ناقدین نے خاطر میں نہیں لایا۔غلطی منٹو کی اپنی ہے۔خواجہ احمد عباس نے صحیح کہا ہے:۔
“کاش منٹو نے یہ دیباچہ لکھوا کر عسکری کے ہاتھوں اپنا خون نہ کرایا ہوتا”۔
(سیاہ حاشیے اورحاشیہ آرائیاں۔محمد اسم پرویز۔ص۔۔١١٦)
ڈاکٹر طاہر عباس رقمطراز ہیں :۔
“ترقی پسند تحریک اور اس کے نظریات سے ہم آہنگ ناقدین و ادباء اور شعراء نے منٹو کی “سپاہ حاشیے” کی مخالفت اس پر “حاشیہ آرائی” کرنے والے محمد حسن عسکری کی وجہ سے کی”۔
دراصل حسن عسکری اس ادب کو کسی خاطر میں نہیں لاتے تھے جو انسان کو تقسیم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ترقی پسند تحریک سے وابستہ لوگوں سے اختلاف ہو جاتا تھا ۔ منٹو خوامخواہ شکار بن گئے ۔ داستان طویل ہے اس پر الگ سے کبھی لکھوں گا فی الحال وحشی سعید کے افسانچوں کے حوالے سے بات کرنی مطلوب ہے۔
جموں کشمیر میں اردو افسانچہ کی بنیاد کس نے ڈالی ہے، یہ تحقیق طلب ہے البتہ عمر مجید، نور شاہ اور وحشی سعید نے تقریبا ایک ہی زمانے سے افسانچہ لکھنے شروع کئے ہیں۔ اردو افسانچہ کے اس مثلث نے منٹو کے لگائے گئے اس پودے کی دیکھ بال کی اور کچھ عرصے کے بعد یہ پودا تناور درخت کی شکل میں جب نمودار ہوا تو یہاں کے کئی لوگ اس کی طرف لپک گئے ۔ ایک طرف کئی ناقدین افسانچہ کو صنف ماننے سے ہی انکار کر رہے تھے تو دوسری طرف ہمارے یہاں کے بعض افسانہ نگار، منٹو، رتن سنگھ اور جو گندر پال کے نقش قدم پر چل کر اس صنف کی آبیاری کرتے رہے۔
وحشی سعید 1965 ء سے افسانے لکھ رہے ہیں اور اسی زمانے سے افسانچے بھی تحریر کر رہے ہیں ۔ دراصل انہوں نے اپنے افسانوں کے مجموعوں میں ان کو الگ الگ catagorise نہیں کیا ہے۔ اس زمانے میں اس کا رواج بھی نہیں تھا۔ ان کے وہ افسانے جو ایک یا دو صفحات پر مشتمل ہیں کو میں نے افسانچہ کے ذیل میں رکھا ہے۔
وحشی سعید کے افسانوں کا ایک اہم مجموعہ ” کنوارے الفاظ کا جزیرہ” ہے اس میں کل پندرہ افسانے اور چھ افسانچے ہیں ۔ اس کتاب کے بارے میں معروف نقاد پروفیسر حامدی کشمیری رقمطراز ہیں:-
” یہ مجموعہ ان کے پہلے مجموعہ سے بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ یہ غیر روایتی افسانوی تکنیک ، ہیت کاری اور لفظ شناسی، فنی برتاؤ، کردار نگاری، معنی آفرینی اور جدت طرازی کی تابندہ مثال ہے ۔ یہ چھوٹے چھوٹے افسانے (وافسانچے) جو تخلیقیت کے اسرار و رموز سے کاری کو حقیقت سے آگاہ کر کے فن کے طلسمی دنیا میں لے جاتے ہیں ظاہری طور پر یہ مقصدیت یا خارجی حقیقت سے منحرف نظر آتے ہیں لیکن بغور دیکھا جائے تو یہ افسانے ( وافسانچے) اپنے خالق کے نظریاتی موقف ، سماجی نشیب و فراز، حسن و عشق، جنس و رومان، سیاسی چنگیزیت ، فرد کی گمشدگی، خوابوں کی شکست ، محرومی اور آذردگی کے رمز و ایماء کے امین ہیں”۔ ( وحشی سعید ایک منفرد فکشن نگار از سیفی سرونجی۔ ص۔۔۔٢١)
کنوارے الفاظ کا جزیرہ کا اسلوب علامتی و استعاراتی ہے ۔ کئی قرأتوں اور کوششوں کے بعد قاری معنی و تفہیم کی تہہ تک پہنچے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ افسانچے حیرت و استعجاب میں بھی ڈالتے ہیں اور گم شدہ تاریخ کے دریچوں کو وا بھی کرتی ہے۔شمس الرحمن فاروقی وحشی سعید کے تمثیلی و علامتی اسلوب کے سلسلے میں رقمطراز ہیں:۔
“تمثیل سے میری مراد یہ ہے کہ افسانوں میں جو بنیادی بات کہی گئی ہے اس کے لئے کسی اور بات کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔ بادشاہ فوجی، افسر، صوفی، فقیر ناگ، دیوتا ، راون ، فرعون ، موسی وغیرہ۔ اس طرح کے فرضی یا حقیقی کرداروں کے ذریعے بات کو ذرا پردے میں رکھ کر بیان کیا گیا ہے ۔لیکن یہ پردے اتنے بھاری نہیں ہیں کہ قاری انھیں اُٹھا نہ سکے یا کم از کم ان کے پیچھے جھانک نہ سکے۔ کچھ افسا نے(و افسانچے )علامتی اور تجریدی انداز کے ہیں ۔ یہاں بات کو ذرا اور پیچیدہ کرکے کہا گیا ہے۔ لیکن افسانہ نگار کے مافی الضمیر تک پہنچنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی” ۔
(آسمان میری مٹھی میں۔ ص۔۔۔٥)
اس کتاب کا ایک خوب صورت افسانچہ “آتش بیاں “ہے۔ شہر کو جب کالی آندھی نے اپنی گرفت میں لے لیا تو ایک مرد مومن ان کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے اور لوگوں کو خود اعتمادی کا درس دیتا ہے ۔ ان کی شعلہ بیانی سے لوگوں میں امید جاگ جاتی ہے کہ بہت جلد یہ کالی آندھی ان کے شہر سے بھاگ جائے گی اور شہر میں امن و امان لوٹ آئے گا۔ لیکن لوگوں میں خود اعتمادی پیدا ہونے کے بجائے آتش بیاں خود تھک ہار جاتا ہے اور آزادی کی امنگ اپنے دل میں بسا کر منوں مٹی کے نیچے چلا جاتا ہے۔ افسانچے کا یہ آخری جملہ:۔
” ہم اندھیرے میں ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے رہے اور کہتے رہے ۔۔۔وہ درویش صفت لوٹ آئے گا ! ”
(کنوارے الفاظ کا جزیرہ۔ص۔۔۔١٨)
اس قوم کی سوچ پر ایک سوال کھڑا کرتا ہے، جو ہمیشہ امام مہدی صفت انسان کی آمد کی امید میں رہتے ہیں مگر خود کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
اس مجموعہ کے باقی پانچ افسانچے یعنی پہچان، خودسری ، گمراہی ، آدھے ادھورے ، کنوارے الفاظ کا جزیرہ علامتی و تجریدی اسلوب میں لکھے گئے ہیں ۔
“ماضی اور حال” حصہ دوم ۲٠۱۵ ء میں شائع ہوئی ہے افسانوں کے اس مجموعے میں کل نو افسانچے شامل ہیں۔ یہ سارے افسانچے ایک سے دو صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان افسانچوں کے عنوانات یہ ہیں ۔ پٹھان، پیر صاحب، گستاخی معاف ، جلتی آتماء، قلم، قصہ دراصل یہ ہے(٧)،دھن نہ دے،جرم، پیار کی چھاؤں ۔
افسانچہ “پیر صاحب” میں وحشی سعید نے ایک طرف پیر صاحب کو سراہا ہے کہ ان کی عملیات سے وہ بیمار صحت یاب ہو جاتے ہیں جو جناب یا بھوت پریت کے شکار ہوئے ہوتے ہیں ، لیکن دوسری طرف ان کو آڑھے ہاتھوں بھی لیا ہے کہ وہ سب کے سامنے مریض سے کبھی کبھی وہ راز بھی اگلواتے ہیں جس سے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ جن کو اپنے وش میں کرنے کے بعد یہ جن گویا ہو گئے :-
“جناب اس عورت نے ہمارے مقدس تالاب کو گندہ کیا ۔ میں اس تالاب کی رکھوالی کرتا تھا ۔ میں اس کو کیسے برداشت کروں گا ۔ جناب یہ عورت ایک دن ایک غیر مرد کے ساتھ ہمارے باغ میں گھوم رہی تھی پھر اس نے اس غیر مرد کے ساتھ اپنے جسم کو نایاک کیا اور ہمارے مقدس تالاب میں نہا لیا ”
اس افسانچہ کا یہ جملہ دیکھئے:۔
“یہ سنتے ہی وہاں موجود سارے لوگ ایک دوسرے کا منھ دیکھ رہے تھے۔ اس نوجوان کا چہرہ شرم سے جھک گیا”۔
علم کے ساتھ اگر حکمت نہ ہو تو یہ خجالت اور شرمندگی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ شوہر کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن پیر صاحب کی بے حکمتی نے اس نوجوان کو شرمسار کیا ۔
” قلم” وحشی سعید کا ایک اور خوب صورت افسانچہ ہے ۔
قلم ہی وہ چیز ہے جس سے ہم اپنا مافی الضمیر قرطاس پر لاتے ہیں ۔ ہر ایک کہانی کار اور مصنف کو قلم کے ساتھ لگاو ہوتا ہے کیونکہ یہی قلم اسے عزت و رفعت عطا کرتا ہے۔ لیکن اگر یہی قلم خیالات کے بہاو میں آڑے آجائے تو حالت دگرگوں ہو جاتی ہے ۔تخلیقی ادب لکھتے وقت ادیب ڈسٹرب نہیں ہو جانا چاہیے اگر کوئی انہیں ڈسٹرب کرتا ہے تو انہیں بہت برا لگتا ہے۔ لکھتے وقت قلم کی سیاہی ختم ہو جائے پا سیاہی ٹپک جائے ، اس کی نب ٹوٹ جائےتو کہانی کار کی کیا حالت ہو جاتی ہے یہ عیاں راچہ بیاں کے مترادف ہے -اس افسانچے کا یہ جملہ دیکھیے :-
” اس نے آگے چلنے سے انکار کر دیا ۔ یکایک اس انکار کی تاب میرے خیالات نہ لا سکے اور منتشر ہونے لگے ۔ میں نے غصے سے قلم کی جانب دیکھا “۔
“ماضی اور حال” حصہ سوم ٢٠١٦ ء میں شائع ہوئی ہے ۔ اس میں صرف دو افسانچے ہیں ۔ ردی کی ٹوکری اور ایک خط ایک داستان ۔
“ردی کی ٹوکری” افسانچہ میں وحشی سعید نے رسائل و جرائد کے ایڈیٹرس کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان کے رسائل میں شائع ہونے کے لئے ادباء و شعراء کی تخلیقات کو بغیر مطالعہ اور چھان بین کے ردی کی ٹوکری کی نذر نہ کریں ۔ نئے لکھاریوں کی تخلیقات اگر معیاری ہوں تو ان کو ضرور جگہ دینی چاہئے۔ ممکن ہے کہ ان کی تخلیقات شاہکار فن پارہ ثابت ہو جائے اور اس تخلیق کار کو جائز مقام مل جائے ۔ افسانچہ نگار نے ان ایڈیٹرس کو آڑھے ہاتھوں لیا ہے جو صرف مخصوص نظر ادباء کی تخلیقات رسالہ کی زینت اور خریداروں کی تعداد بڑھانے کے لئے شایع کرتے ہیں ۔ افسانچہ کے یہ جملے دیکھئے :-
” میں کچھ ہی تخلیقات کا منتظر رہتا تھا جو کہ نامور ادباء و شعراء کی ہوتی تھیں اور رسالے کی زینت بڑھاتی تھیں ۔ باقی تخلیقات اور خطوط بنا پڑھے ضائع کر دئے جاتے تھے”۔
( ماضی اور حال (۳)ص۔۔۔ ٦٠)
ایک دن اس کا ملازم بیمار پڑجاتا ہے اس لئے انہیں خود ردی کی ٹوکری دیکھنے کا موقعہ ملا ۔ اس ٹوکری میں سے ناول کا ایک مسودہ نکل جاتا ہے جس کی ابتدائی سطور ایڈیٹر کو متاثر کرتی ہیں ۔ ایڈیٹر اس ناول کو شائع کرتے ہیں۔ ناول مقبول ہو جاتی ہے۔ ناول نگار کو ملک کا صدر سونے کے تمغے سے نوازتے ہیں ۔ ایڈیٹر کو “ادیب شناس” کا لقب دیا جاتا ہے لیکن وہ اس بات پر افسوس کر رہا ہے کہ اس کی عدم توجہی سے کتنے گوہر نایاب شہرت و مقبولیت سے محروم رہ گئے ہیں:۔
“لیکن میرا ضمیر مجھ پر لعنت کر رہا تھا کہ اس جیسے کتنے گوہر نایاب میری عدم توجہی کے سبب اپنے حق سے محروم رہ گئے” ۔
(ماضی اور حال (۳) ۔۔۔ ص (٦٠)
” خواب حقیقت ” وحشی سعید کا ایک اور افسانوں کا مجموعہ ہے ۔ اس مجموعہ میں کل چار افسانچے ہیں ۔ اپنا عکس اپنا آئنہ ، میٹھا چشمہ اور میں، لمبا آدمی چھوٹا قد اور خواب حقیقت ۔
“میٹھا چشمہ اور میں” وحشی سعید کا بہترین افسانچہ ہے ۔ یہ مختصر کہانی ان کی اپنی کہانی ہے ایک تخلیق کار کی کہانی۔ادبی دنیا میں کہانی کار جب اپنی تخلیق کی بدولت قارئین کے دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے تو اچانک وہ اس دنیا سے سنیاس لیتا ہے اور خاندانی کاروبار کو سنبھالتا ہے۔ ہیروں اور جواہرات کے کاروبار میں مگن رہنا ان کے دوستوں کو پسند نہیں آیا آخر کار کہہ بیٹھے :-
” تم نے اپنی پہچان مسخ کردی۔۔۔۔۔تم دودھ سے نہاتے ہو اور اطلس سے اپنے بدن کو سجاتے ہو ۔۔۔۔۔ تم نے کاغذ پر کتنے بت تراشے ، کہاں گیا وہ تخلیق کار” ۔
کہانی کار کو احساس ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کے خیر خواہ اور محسن ہیں۔ جو میٹھا چشمہ اس سے دور ہو گیا تھا یہ اسے پھر اپنے قریب کر دے گا۔کیا یہ میٹھا چشمہ اب بھی ان سے بہت دور ہے یا یہ اس میٹھے پانی سے سیراب ہوگئے ہیں یہ ایک معمہ ہے۔
” دھن نہ دے ” ایک ہوٹلر کی کہانی ہے جو کام میں اتنا مصروف ہوتا ہے کہ اپنی بیوی اور بچی کو وقت نہیں دے پاتا ۔ دھن دولت کمانا یا امیر بننے کے لئے محنت کرنا کوئی غلط بات نہیں ۔ انسان فیملی کو سکھ پہچانے کے لئے ہی پیسے کماتا ہے لیکن پیسے کے ساتھ ساتھ فیملی کو وقت دینا بھی بہت ضروری ہے۔ اس افسانچہ کے بنیادی کردار رام سنگھ کی اہلیہ بار بار بھگوان سے کیوں یہ پراتھنا کرتی ہے:۔
“ہے بھگوان ہمیں اور زیادہ دھن نہ دے”
شائد اس لئے کہ زیادہ دھن حاصل کرنے کی فکر میں وہ اپنی بیوی کے حقوق تلف کر رہے ہیں ۔ بیوی کی یہ دعا دراصل بدعا نہیں ہے بلکہ اپنے حق کی دہائی ہے۔ رام سنگھ جب اپنی بیوی سے کہتا ہے :-
” تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے جو اس قسم کی پراتھنا کر رہی ہو” ۔
تو وہ جواب دیتی ہے :۔
“رات میں بارہ بجے آتے ہیں اور صبح صبح چلے جاتے ہو ۔ میں اور آپ کی بچی آپ کو دیکھنے کے لئے ترس جاتے ہیں”
(ماضی اور حال(٢) ص۔۔۔١٧٣)
وحشی سعید کے افسانچوں کی کاینات کو explore کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں انہیں اردو کے اہم اور اولین افسانچہ نگاروں میں شمار کرتا ہوں۔
(ڈاکٹر فیض قاضی آبادی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں