افسانچے 0

افسانچے

رئیس صدیقی

فدیہ

رمضان کا مہینہ آ گیا تھا۔ بیوی نے اپنے شوہر سے فی کس دو ہزار روپے کے حساب سے چار ہزار روپے طلب کیے۔ شوہر نے وجہ پوچھی تو بیوی نے بتایا کہ ہم دونوں بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے، اس لیے مولوی صاحب کو فدیہ کی رقم دینی ہے۔ اس پر شوہر نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہاں، سورہ بقرہ میں بیان ہے کہ اگر کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے ہو تو فدیہ کے طور پر کسی مسکین کو کھانا کھلانا چاہیے۔
لیکن مولوی صاحب کو تواپنے کام کی تنخواہ ملتی ہے۔وہ بچوں کو قران پڑھا کر بھی اچھے خاصے پیسےکما لیتے ہیں۔ خاص موقعو ں پر سورہ بقرہ پڑھ کر، قرآن مجید کی تلاوت کسی مرحوم کو بخش کر اور زکات وغیرہ سے اضافی رقم بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے چھ بچوں کی تعلیم کے لئے محلے کے صاحب ثروت کسی نہ کسی طرح مسلسل مالی مدد بھی کرتے رہتے ہیں۔ لہذا کسی مسکین کو تلاش کرو۔مگر ہمیشہ کی طرح شوہر کی بات بیوی کی سمجھ میں نہیں آئی اور وہ تلملاتے ہوئے بولیں۔
ایک مولوی صاحب نے عظمیٰ باجی کو ہدایت کی تھی کہ ہمیشہ فدیہ کی رقم مسجد کے مولوی صاحب کو ہی دینی چاہیے۔ سو میں اپنے محلہ کی مسجد کے مولوی صاحب کو ہی فدیہ کی رقم دوں گی ۔

زکوۃ

رمضان کا مہینہ آتے ہی بیگم صاحبہ
زکوۃ نکالنے کے لیے حساب کتاب کرنے لگتی ہیں۔ پھر زکوۃ کی رقم تقسیم کرنے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے ۔ رضوان نے مشورہ دیا کہ سب سے پہلے اپنے غریب رشتہ داروں کو تلاش کرو ۔اس پر وہ یاد دلاتی ہیں کہ سید زادوں کو زکوۃ نہیں دی جاتی ہے ۔
اچانک انہیں ایک غریب بیوہ خاتون کی یاد آجاتی ہے جو کسی گھر میں صاف صفائی کا کام کرتی ہے لیکن وہ اپنی اولاد کو ایک مہنگے بڑے پبلک اسکول میں پڑھاتی ہے۔ کئی لوگ اس کی بھاری بھرکم فیس کی سہماہی قسط زکوۃ سے ادا کرتے ہیں ۔ بیگم بولیں کہ ایک سہمائی کی فیس میں دوں گی لیکن رضوان کا دوسرا نظریہ ہے ۔ اس نے کہا کہ اس خاتون کو اپنی اولاد کو بڑے پبلک اسکول میں پڑھانے کی کیا ضرورت ہے ۔ وہ سرکاری اسکول میں بھی اپنی اولاد کو پڑھا سکتی ہے ۔ مڈل کلاس کا طبقہ بھی اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں پڑھاتا ہے اور ہندوستان کی سب سے بڑی سروس ، انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس میں سرکاری اسکول کے بچے بھی منتخب ہوتے ہیں۔ اس خاتون کو اپنے پیر اتنےہی پھیلانے چاہئے ، جتنی بڑی اسکی چادر ہو۔
لہذا ہمیں اپنی زکوۃ کی رقم ایسے بے سہارا ،لاچار ،غریب ،مسکین ، یتیم اور بیواؤں کو دینی چاہیے جو واقعی زکوۃ کے مستحق ہوں ۔
با الفاظ دیگر ، جو زکوۃ کی رقم کا صحیح استعمال کریں۔
زکوۃ زندگی کے بہت سےضروری اور لازمی مالی مسلہ حل کرنے کے لئے ہوتی ہے ،!نہ کہ معیار زندگی بلند کرنے کے لیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں