شمشاد کرالہ واری
9/ دسمبر 2024 صبح ساڈھے آٹھ بجے میں سرینگر سے جموں کی طرف روانہ ہوا اور سوا بجے کے قریب جموں پہونچ جانے پر ایسا محسوس ہوا کہ وہی بیچاری زندگی جو وادی کشمیر کے شب و روز میں مایوسی اور افسردگی کا مجموعہ لگتی ہے امید اور انبساط کا گلدستہ لگتی ہے۔ یہ احساس تو رامبن پل پار کرنے کے فورا بعد سے ہونے لگا تھا ادھم پور میں جوان اور جموں میں نگروٹہ چونگی کو یچھے چھوڑ تے ہی اپنی بہار دکھانے لگا۔ ایک ہی ریاست کے دو صوبے زیادہ دور نہ ہوتے ہوئے بھی ہر حساب سے مختلف المزاج اور مختلف النوع ہیں ۔ شاید قدرت نے ان دو صوبوں کو ایک سکے کے دو رخ بنا دیا ہے جو دونوں مساویانہ اہمیت کے حامل ہیں لیکن جب سے کاروباری سیاست نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں اس سوچ کو بدل کر مرگ مفاجات کے طور طریقے رائج کیے گئے اور یک رخی سکے کے چلن کو عوامی مصرفے کی خاطر اور دو رخی اہمیت والے پکے سکے خواص کے لئے رکھے گئے ۔ اسی نظام حکومت کو بدلنے کے لئے 47 سے پہلے دونوں ہی نہیں بلکہ تینوں خطوں بشمول لداخ کے تمام لوگوں نے یک جہتی کے ساتھ لڑا اور کامیابی حاصل کی ۔ تانا شاہی حکومت نے جموں کے لوگوں کو ہی پہلے تختہ مشق بنا کر کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے اور اپنی ناکامی کو دیکھ ان کو اپنے لئے نہ جائے گفتن نہ پائے ماندن کی حالت دکھی ایک دم ملک کے دیگر حصوں میں آزادی کی نوید ملنے کے ساتھ ہی جو تانڈو انگریزوں کے ساتھ جنگ میں منافقانہ طرز عمل اپنانے والوں نے شروع کیا تھا حفظہ ما تقدم کے طور شروع کیا تھا جموں کو بھی خون کی ہولی کھیل کر مکدر کرکے رکھ دیا اور اپنی طرح کی انگریزوں کی چاٹوگری کرنے والوں کےلئے نہ صرف گزر بسر کیلئے جگہ ملنے کی گنجائش پیدا کی بلکہ حکمرانی کے لئے بھی راستہ ہموار کیا کیونکہ خون کی ہولی میں اسی انتظامیہ نے بھرپور ساتھ اور ہتھیار اور گولہ بارود مذہبی تفریق پیدا کرنے کے لئے دئے جو لوگوں کے ایک جذبہ آزادی کے ساتھ میدان میں آنے سے پامال ہو چکے تھے ۔ میرا موضوع اس پر بات کرنا نہیں ہے کیونکہ کرشن دیو سیٹھی اور وید بھسین جیسے معتبر لوگوں نے ان حالات و واقعات کے مشاہدات اور زمدار انتظامیہ کی پول کھول کر رکھ دی ہے اور ان زخموں کو کریدنے کا نہ کوئی حاصل ہے نہ ضرورت ۔ البتہ اس وجہ سے بر سبیلِ تذکرہ بات چلی کہ اگر ان حالات کو بھڑکایا نہیں ہوتا تو جموں میں جو شدید گرمی کی لمبی مدت لوگوں کے لئے باعث پریشانی ہوتی ہے اسکا سد باب جموں واسیوں نے کشمیری کے خوبصورت اور قابل برداشت موسم گرما میں ڈھونڈ کر فرحت محسوس کی ہوتی اور آگے بھی کرتے ویسے ہی جیسے کشمیریوں نے شدید سردیوں میں جموں کی عارضی رہائش گاہوں کی پناہی میں رہ کر سردیوں کا سد باب ڈھونڈا ہے۔ دونوں صوبوں کے رہنے والوں میں انسانی رشتوں کی بھاگ ڈور اتنی مضبوط ہوئی ہوتی کہ آج کی منافرتی سیاست میں جو خدشات ، تحفظات اور امکانات دو صوبوں کے لوگوں کے لئے اختراع کیے جاتے ہیں انکی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہوتی لیکن آزادی کے بعد جب افراتفری کی گرد جم گئی اسکے بعد بھی لوگوں میں دوریاں بڑھانے کے لئے ہی کام کئے گئے نہ کہ دوریاں پاٹنے کے لئے حالانکہ کشمیریوں نے یہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی کہ جموں کے لوگ 47 کے دھنگے فسادات سے پہلے جسطرح کھنڈے میٹھے تھے ویسے ہی اس کے بعد سے بھی ہیں اور وہ سب باہر سے آئے ہوئے بدماشوں کی کارستانی تھی اسی وجہ سے بعد ازاں بھی اگر کوئی دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی وہ اوچھی سیاست کاری کا نتیجہ تھی نہ کہ عوامی سوچ میں کسی بدلاو کا عندیہ اور ماضی کی سیاست کاری کے برے عوامل بھول کر اکثر مسلمانوں نے چاہیے وہ وادی چناب سے تعلق رکھتے ہیں یا کشمیر سے سبھی نے سردیوں میں جموں کے اندر اپنی دوسری رہائش گاہوں کا انتظام کیا ۔ یہ سلسلہ جموں کے لئے ہر اعتبار سے سود مند رہا اور جموں کی ترقی اور رنگارنگی میں اضافہ ہوا ۔اس سے آپسی رشتے مضبوط ہوئے کاروباری تعلقات مستحکم ہوتے گئے ۔ کروڈوں روپیہ کشمیری خرچ کرتے ہیں اسی وجہ سے 2019 کے بعد سے جو سرکاری دفاتر کی منتقلی کا دیرینہ اور خرچیلہ سلسلہ بند کیا گیا تھا موجودہ اصل پاورفل انتظامیہ کے ساتھ منسلک عوامی سرکار والے حصے نے پھر سے بحال کرنے کا اعلان کیا اور اگلے سال سے کلی طور پر لاگو کیا جائیگا جسکی مخالفت میں گورنر صاحب کے انتظامی مشیروں نے بھی مخالفت میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔ جموں کے عام لوگوں بالخصوص کاروباری لوگوں میں اس فیصلے سے سرشاری پیدا ہوئی۔ کاش کہ اسی طرز پر جموں کے لوگوں میں بھی روجحان پیدا کرنے کے اقدامات کیے جاتے جس کے تحت وہ تپتی گرمیوں میں کشمیر کی اپنی دوسری رہائش گاہ کا رخ کرتے تو کئی مسائل کا خود بخود حل نکل آتا۔ لیکن سیاست کاری جب مرگ مفاجات کی کی جاری ہو تو مثبت اور پر امن راستوں کی بجائے نا ہموار راستوں کو تلاشا اور فروغ دیا جاتا ہے ۔ یہ لوگوں کی سوجھ بوجھ ہے کہ ابھی تک عوامی سطح پر یگانگت کی فضا قائم ہے۔
خیر میں نے لگ بھگ چار مہینے جموں کے خوشگوار ماحول میں گزارے اور جموں اور کشمیر کے حالات زندگی میں فرق نے مجھے یہ تصور کرنا مشکل بنادیا کہ کیا کشمیر میں کبھی کوئی وقت تھا جو لفظ “کا فکاسکیت” کے بغیر رہا ہے اس اصطلاح کا بالکل بھی کوئی اور مطلب نہیں ہے کہ جب کسی بھی زندہ شخص کے لیے کشمیر کے جیسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو اس کو فرانز کافکا یاد آتا ہے۔ میں، خود کافکا بھی 1883 میں پراگ میں پیدا ہوئے سخت مایوس کن حالات کی چکی میں بے کسی زنجیروں میں پھنسے والد کی زیر نگرانی پلا بڑھا۔ پھر کالج سے گزر کر کچھ کمانے کی فکر میں سرگرداں رہا پہنچتے پہنچتے ورکرز ایکسیڈنٹ انشورنس انسٹی ٹیوٹ میں اینٹری ملی لیکن وہاں بس امید پر آگے بڑھتے ہوئے “طویل گھنٹے بلا معاوضہ بلکہ اوور ٹائم کرنا میں خرچنے پڑے۔ لمبی کاغذی کارروائیوں کی بے حد مشغولیت، مضحکہ خیز، پیچیدہ نوکر شاہی نظام” کے تابع رہنا پڑا ۔ وہ لیکن سخت مطا لعہ کرتے رہے اور سوچتے رہے کہ انسان کیسے اپنے جیسے انسان کو محکوم بنا کر دکھوں بھری زندگی گزارنے پر نت نئے طریقے اپنا کر تجربات سے دباتے رہتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و بربریت کے داغ انہی لوگوں کو مسخ کرتے ہیں جو اپنی دمن کاری قوت پر ناز کرتے ہوئے اپنا جیسا ذہین کسی دوسرے کو سمجھتا ہی نہیں۔ کافکا نے بےحد مطالعے کے بعد “پرسوٹ آف ونڈر” ویڈیو کے راوی کے کہنے کے مطابق۔” اسی دور میں دی ٹرائل، دی کیسل اور امریکہ ” قلم پارے لکھ ڈالے لیکن عوام کے سامنے نہیں رکھے۔
اس کی کئی وجوہات تھیں۔ کافکا اپنے لکھنے پر بے حد تنقید کرتے تھے اور اکثر اپنی تحریروں کے معیار پر شک کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی کتابوں کو نامکمل اور بغیر نظر ثانی شدہ سمجھا، مزید یہ کہ ان کے لکھنے سے معاشرے میں کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ انہیں شائع کرنے سے باز رہے۔ مزید یہ کہ، کافکا نے اکثر اپنے آپ کو تنہا اور کچھ نہ کر پائے والے جذبات سے مغلوب پایا ،اسی مایوسی میں انہوں نے چاہا تھا کہ انکی تحریریں کبھی شائع ہی نہ کی جائیں لہٰذا اپنی موت سے پہلے، 1924 میں، کافکا نے اپنے نہایت ہی قریبی دوست اور ادبی سرپرست میکس بروڈ کو التجا کی تھی کہ وہ ان کی تمام غیر شائع شدہ دستاویزات کو آگ کی نذر کرکے تباہ کر دے۔ خوش قسمتی سے، بروڈ نے یہ درخواست نظر انداز کی اور ان کتابوں کو بعد میں شائع کیا، جس سے غریب ،مفلوک الحال کافکا کی قابل تعریف نگارشات اسکی میراث کے طور محفوظ ہو گئیں.آپ کی یاداشت کو تازہ کرے کے لئے یہاں پر ان کتب کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کرتا ہوں۔
1. “دی ٹرائل” ( The Tial): یہ ناول جوزف نامی ایک بینک کلرک کی کہانی ہے، جسے ایک غیر واضح جرم کے لیے گرفتار کراور پراسیکیوٹ کیا جاتا ہے۔ کہانی بیوروکریسی، جرم، اور وجودی خوف جیسے موضوعات کو بیان کرتی ہے، جدید دور کے انسان کی بے بسی کو اجاگر کرتے ہوئے۔ یہ اکثر ظالم اداروں اور انسانی زندگی کی بے معنویت پر تنقید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
2. “دی کاسل” ( The Castle): کہانی کے مرکزی کردار “کے” ایک گاؤں پہنچتے ہیں جسے ایک پراسرار اور ناقابلِ رسائی اقتدار کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ “کے” قلعہ کے عہدیداروں کی پہچان اور قبولیت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کی کوششیں بے شمار رکاوٹوں اور ابہام سے دوچار ہوتی ہیں۔ یہ ناول علیحدگی، بیوروکریسی، اور انسان کے معنی اور تعلق کے تلاش کو بیان کرتا ہے۔
3. “امریکہ” ( The America): جو کہ “دی مین ہو ڈِس ا یپئیرڈ” (The Man Who Disappeared) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ ناول کارل روسمین کی کہانی بیان کرتا ہے، جو ایک نوجوان یورپی مہاجر ہے اور امریکہ کی زندگی میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کہانی میں مختلف کرداروں اور اداروں کے ساتھ کارل کے تجربات، علیحدگی، بے بسی، اور نئی دنیا میں ڈھلنے کے چیلنجز کو نمایاں کرتے ہیں۔ امریکہ کی تصویر یہاں بجائے حقیقت پسندانہ کے ،زیادہ علامتی ہےجو کافکا کے وسیع تر موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
یہ کتابیں ادب میں جدیدیت کی بہترین مثالوں میں شمار ہوتی ہیں اور انسانی وجود اور سماجی ڈھانچوں کو سمجھنے میں گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ان کتابوں کو بر سر اقتدار لوگوں کو بھی پڑھایا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی فرسا ذہنیت کو عوامی بہبود کے لئے بروئے کار لائیں ۔ لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہمیشہ سے رنگ لاتی ہے نہ کہ پتھر پر پتھر مارنے سے۔ نظریاتی اختلافات کو بحث اور دلیل سے دور کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر کی تاریخ میں ایسی بہت ساری مثالیں ہیں ۔ میں ذاتی زندگی میں مین سٹریم میں رہنے کی بھگت چکا ہوں اور بھگتا ہوں لیکن اپنے ملک کی تہذیب اور ثقافت ہی ایسی ہے کہ کچھ بھی بلا معاوضہ قربان کرنے والے کو فرحت محسوس ہوتی ہے ۔ میں نے کئی ایسے لوگ اقتدار کے قریب دیکھے جو ہمارا گلا کاٹنے کے لئے کوئی کثر نہیں چھوڈتے ۔جب ان پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے جب ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے تو اس عوام کو “کافکاسیت ” سے نکلنے کیوں نہیں دیا جائے جو کھل کر سرکاری منشاء کی تائید کرتے ہیں جسکی مثال حالیہ الیکشن میں بڑھی چڑھ کر حصہ لینے سے مل گئی ۔ مجھے پچھلے انتخابات میں جب کوریج کرنے کے لئے جانا پڑتا تو جان کو جوکھم میں ڈھالنا پڑتا اور پھر مایوسی ہوتی کہ جب بڑی مشکل سے صفر فیصد سے تین چار فیصد ووٹنگ کے لئے اتنے اخراجات اور افرادی قوت کو جھونکنا پڑتا۔ اور سبھی کو اندر سے مایوسی پھیلنے کے باوجود باہری خوشی میں جھومنا پڑتا۔ ہم ان چیزوں کے گواہ ہیں تو ماحول میں میں جب اس قدر بلاؤ دیکھنے کو ملے کیوں نہ اس کو لوگوں کو سہولیات کے ان کے دلوں کو اپنے حق میں پھیرنے کے لئے استعمال کیا جاوے ۔ لوگوں کو لگنا چاہیے کہ وہ کالونیل سیٹ اپ میں نہیں بلکہ دشمنوں کے کے بہکاوے سے نکل کر جمہوری فضا میں اہم حصہ داران ہیں ۔
کئ لوگ اس وقت بھی کافکا کی طرح ہی کشمیر میں بھی لکھ رہے ہونگے کبھی کوئی میکس بروس ان کو منظر شہود پر لائیگا اس وقت” من میں چھری بگل میں رام رام ” کے مصداق چلنے والوں کو کوئی ننگا ہونے سے بچا نہیں پا ئیگا۔ مجھے حالیہ انتخابات کے دوران لوگوں کی بھاری شرکت سے میرے ساتھ ایک انٹرویو میں سورگیہ جان فرناڈس کی کہی ہوئی بات یاد آئی ” کوئی سخت کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ پرولانگ کرنا ہے۔ لوگ خود بخود تھک جائیں گے اور پھر مین اسٹریم میں جڑ جائیں گے ، لیکن اسکی پالیسی کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے “کشمیر ایفئرس” چارج سے فارغ کیا گیا ۔۔ اگر اس وقت سخت اقدامات کو ضروری سمجھا گیا اب تو کشمیر میں بھی جموں جیسی کھلی فضا میں رہنے دیا جائے نہ کہ جموں کو دوہزانوے کا کشمیر بنا کر مندمل ہوئے
زخموں کو کردیا جائے ۔ کمال یہ نہیں ہے کیکہ کاٹ کیسے کی جائیگی بلکہ کمال مردے میں نئی جان کیسے پھونکی جائیے گی اس کے لئے ہر کسی کو تعمیر کاری میں نہ کہ تخریب کاری میں اپنا بھر پور اور صدق دلانا رول ادا کرنا ہوگا۔ ۔مجھے اس معاملے میں کشمیر میں ہر شعبے میں کافکاسیت دیکھنے کو ملتی ہے
جس نفسیاتی تکلیف کا مشاہدہ کافکا کی نگارشات کراتی ہیں، ہم سب نے کسی نہ کسی طریقے میں، کسی نہ کسی حد تک محسوس کرتے ہیں۔ ہر معاملے میں اپنے آپ کو ٹیکس گزیدہ پانا، ہوائی اڈے کی سیکیورٹی لائنوں میں انتظار کرنا، کسی معاملے میں پلیس چوکی پر جانے غلطی کرنا۔ ٹیک سپورٹ کو کال کرنا۔ بجلی کے بل اداکرنا یا شادی اور غمی کے مواقع پر، ہم “کافکاسیت” کی اصطلاح سے دو چار ہو جاتے ہیں، جو سرمایہ دارانہ، عدلیہ اور حکومتی نظام کی بیوروکریٹک نوعیت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس طرح کے پیچیدہ، غیر واضح عمل جس میں کسی فرد کو کبھی بھی جامع گرفت نہیں ہوتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے، اور نظام کو واقعی کوئی پرواہ نہیں ہو وہی حالات کافکا کے عام مرکزی کرداروں کو درپیش آتے ہیں”اچانک، مضحکہ خیز حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی وضاحت نہیں ہوتی، اور آخر میں، ان پر قابو پانے کا کوئی حقیقی امکان نہیں ہوتا۔”
لیکن چند سال بعد یہ کردار ” ان من مانی، بے ہودہ رکاوٹوں کے جن کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے جزوی طور پر واقفیت ملتی ہے کیونکہ وہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے کار گزار اپنی سمجھ سے کراپاتا ہے لیکن اسکی بھنک کو کنٹرول نہیں کر سکتاہے۔” کیونکہ اقتدار میں کسی کو دوام نہیں ہوتا ہے ” جرم، مضحکہ خیزی، اور مصائب و اضطراب کے وجودی مسائل پر فتح حاصل کرنے کے لیے جوابات کی غیر متزلزل خواہش، جو مسائل کے منبع تک تجسّس والے کو پہونچانے ہیں لاکھ کوئی شتر مرغ کے پروں میں اپنا سر چھپاتا رہے اپنی ناکامی کی گرفت میں اجاتا ہے۔” “مضحکہ خیز، مایوس کن حالات کے باوجود، کافکا کے کردار ہمت نہیں ہارتے اسی طرح سے کشمیری بھی مین اسٹریم میں آکر اپنا مقام پانے کی کوششیں جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں گے تاکہ اپنے حالات کے خلاف لڑتے رہتے ہیں، استدلال کرنے، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، یا بے حسی سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، جس طرح کافکا کے کردار کرتے ہیں لیکن آخر کار اگر ان کو کا فکا کے کرداروں کی طرح اس کا کوئی فائدہ ملتا ہوا نہیں دکھے گا۔” تو نتائج کی زمداری ان مشیران پر ہوگی جو صدقدلانہ طریقے پر انتظامیہ کو سرکاری فلاحی اسکیمیوں کو چور بازاری میں زاتی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوں ورنہ کیوں نہیں یہاں ایسا لگنے دیا جاتا ہے جسکی تشہیر کی جاتی ہے لوگوں کے پاس اس سے زیادہ طاقتور صفت کون سی ہے جس کو تلاشا جائے تاکہ دائمی عتاب سے لوگوں کو نجات ملےگی اور چاپلوسی اور خصوصی مفاد رکھنے والوں کی فتنہ پرور چالوں سے بچا جائے ۔ لیفٹیننٹ گورنر اور عوامی مینڈیٹ سے سی ایم کی کرسی پر بیٹھے دونوں معتبر اشخاص کو اپنی سیاسی شعبدہ بازی بازیوں کو طاق پر رکھ کر کبھی تخلیہ میں مل بیٹھ کر غور کرنا چاہیے کہ ملکی مفاد کےلئے کیا بہتر ہے اسی کے لئے کام کر کے ہمیں ناکردہ گناہوں کی سزا سے نجات دلائی جائے ۔ دونوں کی سوجھ بوجھ پرکھنے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ آخر پر دونوں کے لیے غالب کا شعر عرض کرتا چلوں کہ اس اسٹیشن کو آنے نہ دیا جائے جب ہر کشمیری زبان حال کہتا ہو کہ
رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آسان ہوگئیں
0
