ہائے پہلگام !!! قیامت خیز المیہ 0

ہائے پہلگام !!! قیامت خیز المیہ

ش م احمد سری نگر
7006883587

ٍٍٍٍٍٍ

اے قاتلانِ بے لگام
غارت گرانِ پہلگام
جنت ہوئی لہو لہاں
سارا جہاں ہے نوحہ خواں
اے مردہ دل مردہ ضمیر
اے دشمنانِ کاشمیر
صد حیف تیرے کام پر
تیرے برے انجام پر

۲۲؍ اپریل سہ پہر۔ پہلگام کی وادی ٔ بیسرن یعنی خطۂ مینونظیر کا سوئزرلینڈ۔ حسین وجمیل پہاڑیوں ‘ سر سبز وشاداب پیڑ پودوں ‘ وسیع وعریض میدانوں اور بل کھاتی مدھر گیت گاتی ندی نالوں سے گھری سکوت وسکون میں مدہوش وادی۔۔۔ یہاں سینکڑوں سیاح جنت کی آغوش میں بے فکری کی چند ساعتیں گزارنے آئےہیں‘ یہ ذی عزت مہمانان ِ کشمیر ہیں جو اپنے گھربار اور نجی مصروفیات ٹال کر دل میں قدرت کے حُسن ِ کرشمہ ساز سے حظ اٹھانے کا شوق لئےکچھ چندروزہ چھٹیاں منانے اورکچھ اپنے علاقوں میں گرمیوں کی شدت سے تھوڑا سی راحت پانے کا خواب لئے ہوئے ہیں اور یہ سوچ کر چلو جنت کشمیر ہوآئیں ‘ ڈل جھیل‘ مغل باغات‘ گلمرگ‘ سونہ مرگ کا سیر سپا ٹا کریں ‘ سبک رفتارڈل جھیل میں شکارے کی سواری اورہاؤس بوٹ میں قیام وآرام کا لطف اُٹھائیں ‘ جب واپس گھر لوٹیں تو ہاتھ میں کشمیری شال ‘ کشمیری دست کاری مصنوعات اور مقامی تحفے تحائف اور کشمیریوں کی گرمجوشانہ مہمان نوازی کی یادوں کا انبار اپنوں سے بانٹیں گے ‘ کشمیر میں گزرے یادگار لمحات پر مبنی فوٹو البم بھی یاردوستوں کو دکھائیں ‘ مذکورہ وادی میں بسیرہ ڈالے تھے۔
آج ۲۲؍اپریل کی تاریخ ہے ‘دن کا آغاز خوشگوار ہوا مگر کس کو پتہ تھا کہ میرےدن کا اختتام کسی منحوس اور ڈرؤانے المیےپر یا خون آشام حالات وحوادث کا عینی گواہ بننے پر ہونے والا ہے ۔ یہ کوتاہ نصیب لوگ کشمیر کی سیاحت سے جڑے اپنے سہانے سپنوں کا سودا سر میں سمائے وادی ٔ بسیرن میںاپنی ہی دُھن میں ہیں ،کھلے میدان میں پاؤں پسارے خوش گوار موسم کا مزا اور قدرت کے پُر کیف نظا روں کا لطف اُٹھارہے ہیں‘ لوگ مسکر ارہے ہیں‘ خوشیاں منارہے ہیں‘ بچے بچیاں اُچھل کود میں مصروف ہیں‘ غرض سارے لوگ بے فکری کے عالم میں راحت کی تازہ سانسیں لے رہے ہیں‘ کوئی گھڑ سواری ‘کوئی خوش گپی ‘ کوئی خرید وفروخت ‘ کوئی کچھ اور کوئی کسی مصروفیت میں مگن۔ مردوزن‘ بچے بزرگ ‘مرکبان‘ دوکاندار ‘ ہوٹل والے ‘ راہ گیر ‘ مقامی رہائشی سب اپنی مشغولیات میں مست ومحو ہیںکہ یکایک نامعلوم وحشت ودہشت کے خفیہ شیطانی کارندے یعنی انسان نما درندے‘ خون کے پیاسے ‘ امن و بھائی چارے کے ازلی دُشمن ‘ انسانیت کے ماتھے کے کلنک ‘کشمیریت اور کشمیری روایات کےمخالف ‘ انسانیت کے چہرے پر کالک پوتنے والے بزدل نہ جانے اپنے کس دوزخی کمین گاہ سے نکل کر یہاں دفعتاً نمودار ہوئے۔۔۔ من میں بارُود کی بدبو ‘ دل میں نفرت کا آتش فشاں‘ ذہن میں بے ہنگم انتقامی جذبات کا لاوا ‘ آنکھوں میں خون ِناحق بہانے کا جنون ‘ دماغ میں انسانی لاشیں گرانے کی نامراد پیاس ‘ ایجنڈا یہ کہ نہتوں کو گو لیوں کی دندناہٹ میں مار گراؤ اور کائروں کی طرح رفوچکر ہوجاؤ ۔ ان کے اندر انسانیت ‘ خدا خوفی اور مردانگی نام کی چیز یں ہوتیں توکیا ذرا سا بھی اس امر بلیغ پر غور وفکر نہ کرتے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور نہتوں پر دھاوا بولنا نامردی کی بدترین مثال ہے ۔ ان کے تاریک من میں لطیف انسانی احساسات کی جگہ سیاہ بختی اور دماغ پر ہلاکت خیز سوچ کا سیاہ پردہ پڑا ہواہے جو اُن کے ضمیر کی آنکھ کو ہمیشہ ہمیش کے لئے بند کر چکاہے‘ یہاں تک کہ یہ کور باطن اپنے بدانجام تک سے بھی غافل ہیں ۔ ان کے فتنہ پرور دماغ پر چھٹی سنگھ پورہ اور پلوامہ کی خونی کہانیاں دوسری باردہرانے کا پاگل پن سوار ہے مگر انہیں کیا پتہ کہ قدرت کا بدترین انتقام ( بطش شدید) ان کا منتظر ہےاور قانون کے لمبے ہاتھ اُنہیں آج نہیںتو کل دھر دبوچ کراپنے منطقی انجام تک پہنچاکر ہی دم لیں گے ۔
وادی بسیرن کےایک وسیع میدان میں غیر متوقع طور اچانک فائرنگ کا شور سناگیا تو ظاہر ہے کہ سب لوگ گھبرا گئے‘ اُنہیں محسو س ہوا کہ چاورں اطراف موت کے فرشتےکا تعاقب اور خطرات اُن کے درپے آزار ہوکر ان کی طرف دوڑے چکے آرہےہیں۔ ان کی حالت غیر ہوئی اور بزبان حال جان کی اَمان پانے کے لئے ان کی بے بس زندگی کی سانسیں بے رحم موت کے سامنے ہاتھ جوڑے گویا منت سماجت کررہی تھیں خدا راہمیں چھوڑدو‘ ہمارا قصور کیا ہے؟ ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ ہم ٹورسٹ ہیں‘ ہم نے کشمیریوں کی مہمان نوازی اور انسان دوستی کا بہت سنا تھا مگر یہاں تم ہمارے جان کے دشمن بنے ہمارے گلے پڑے ہو مگر ان کی بندوقیں نہ رکیں ۔ آسمان والا بھی یہ قیامت خیز خوں ریزی دیکھتے ہوئے جنونیوں کی ابلیسیت پر سوچ رہاہوگا کہ جب دہشت گردی کا جادو کسی کے سر چڑھ کر بولتا ہے تواس سنگ دل وحشی کا دل پتھر اور دماغ ماؤف ہوجاتاہے۔ ورنہ سوچئے ان قاتلوں کا ہدف کون ہیں؟ نہتے سیاح ‘ یعنی کشمیر یوں کے عزیزمہمان اور اُن کی معاشی شہ رگ کے باغبان۔ بہر صورت کھلے میدان میںاپنی آگ اُگلتی بندوقوں کے دہانے نہتے سیاحوں پر کھولنے سے یہاںقیامت ِ صغریٰ بپا ہوگئی‘ سکوت آور وادی میں جنگ کا سماں بندھ گیا‘ مانئے یہاںمنی غزہ کا منظر عالم ِ وجود میں آگیا۔۔۔ خوف زدہ دلوں کی چیخ وپکار‘ آہ بکا ‘‘ شور وغوغا‘ آنسو ؤں کی دھارائیں اور خشک ہونٹ‘گونگی زبانیں ‘بھاگم بھاگ۔۔۔ سب کے اوسان خطا ہوئے ‘ کہاں جائیں‘ جائے پناہ کہاں پائیں‘ کس کا دامن پکڑیں‘ کس کے سائے تلے قاتلوں سے روپوشی اختیار کریں ۔قتل ِناحق کے ان سیاہ کار فرستادوں نے اندھا دُھند آتش وآہن کی بارش سے کربلا جیسی صورت حال کو آناًفاناًجنم دیا۔ اُف!چاروں طرف گولیاں ‘ لاشیں اور زخم زخم انسانی وجود۔ ان وحشی درندوں نے اپنا ہدف پہلے ہی مقرر کیا ہوگا کہ ہمیں یہ سب شرم ناک دھماچوکڑی کر کے اپنی بے ضمیری اور حیوانیت وبربریت کی دھاک بٹھانی ہے تاکہ جموں کشمیر کے امن پسندوں کے دل میں دردوکرب کی ٹییسںاُٹھیںاور ہمارے خونی مشن کا بہادرانہ توڑ کر نےو الے فی الحال نہتے اور معصوم سیاحوں کی لاشیں گن کر اور زخمیوں کا شمار کر کے اپنے کف ِ افسوس ملیں مگر یہ اُن کی بھول ہے کہ انہیں کچھ زیادہ دن اپنے کئے کی سزائے سخت بھگتنے سے بچنے کا موقع ملے گا ۔ آج نہیں تو کل انہیں کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے گا ۔ اللہ خونِ ناحق کے متوالوں کو وقتی طور ڈھیل دیتا ہے مگر بالآخرانہیں اپنے کئے کا عبرت ناک نتیجہ دیکھنا ہی دیکھناپڑتا ہے ۔
گزشتہ تین چار سال سے کشمیر میں سیاحتی سیزن میں پھر سے جان پڑ تی دِ کھ رہی تھی مگر قاتلوں کا نامعلوم گروہ جان بوجھ کر پھر سے سیاحت کی صنعت کو جان کنی کی حالت میں پہنچانا چاہتا ہے تاکہ کشمیر میں نہ صرف معاشی بدحالی کا دور دورہ قائم رہے بلکہ بحالیٔ امن کی تمام حکومتی کاوشیں سبوتاژ ہوںاور عوام پچھلے چند سال سے امن اور اطمینان سے جینے کا جو خواب دیکھ رہے ہیں وہ بھی چکنا چور ہو کر رہے۔ لگتا ہے کہ قاتلوں کی کثیرالمقاصد اسٹریٹجی یہی ہے کہ ہم دہشت گردانہ واقعات کا قاتلانہ سلسلہ کبھی جموں شفٹ کریں اور کبھی کشمیر میں گگن گیر کنگن اور پہلگام جیسے بزدلانہ حملوں سے امن کو دھچکا پہنچائیں ‘ جب کہ ہمار حکمران میٹنگیں طلب کرتے رہیںاورسیاست دان مذمتی بیانات کی گردانیں کرنے پراکتفا کریں ۔ ان کی یہ سوچ سراسر احمقانہ ہے ۔ جموں کشمیر میں سیکورٹی نظام کو اب عوام کی طرف سے کماحقہ تعاون مل رہاہے کیونکہ حالات و واقعات کی لمبی گردش کے بعد کشمیری عوام جان چکے ہیں کہ امن اُن کے بقا کی پہلی ضرورت بلکہ یہی شہ رگِ حیات ہے۔ بہر حال قاتلوں کی خونی حکمت عملی کا حکام اور سیاست دان کا کیا توڑکرتے ہیں ‘وہ طے کرنا اُن کا کام مگر جموں کشمیرنے ۲۳؍ اپریل کی ہمہ گیر ہڑتال سے لوگوں نے صرف متاثرہ سیاحوں کا دکھ درد ساجھا ہی نہ کیا بلکہ ان خونیوںقاتلوں کو برمحل پیغام دیا کہ جموں کشمیر بیک زبان تم سے کہہ رہاہے کہ تمہارے دن گنے جاچکے ہیں ‘ ہم سب تمہارے گن کلچر کو عقل وبصیرت کی بنیادپر مسترد کرتے ہیں ‘اسے تھوکتے ہیں‘ اپنے معاملات ومسائل کاحل سیاسی افہام وتفہیم کے راستے سے ممکن العمل ہےاور آئین وقانون کی بالادستی کی قبولیت میں یقین رکھنا جمہوریت اور انسا نیت کی جیت مانتے ہیں۔ یہ بھی ذہن نشین کرناتم قاتل جو کوئی بھی ہو‘ اپنے برے انجام کو زیادہ دیر ٹال نہیں سکتے‘نیز تمہارے خلاف جموں کشمیر میںہر دل میں نفرت اور ہر ذہن میں غم وغصے کا لاوا پھوٹ رہاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں