پہلگام کا زخم — میرے دل کی پکار 0

پہلگام کا زخم — میرے دل کی پکار

شاہ زبیر
زگی پورہ چرار شریف

زمین پر کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں روح کو سکون ملتا ہے۔ جہاں ہوا پرانی کہانیاں سناتی ہے اور پہاڑ تمہیں یوں تھامتے ہیں جیسے ماں اپنی اولاد کو گود میں لیتی ہے۔ پہلگام بھی ایسی ہی جگہ ہے کشمیر کی گود میں چھپا ہوا ایک جنت۔ مگر کل، اُس جنت نے خون بہایا۔
میں یہاں بیٹھا لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں، مگر میرے الفاظ کانپ رہے ہیں۔ یہ غم میں بھیگے ہوئے ہیں — نہ صرف اُن جانوں کے نقصان پر جو اس دہشت گردی کی وحشیانہ کاروائی میں ضائع ہوئیں، بلکہ ایک اور گہرے درد کے لیے: اعتماد کی دھوکہ دہی۔ وہ اعتماد جو ہم اپنی سرزمین پر کرتے ہیں، اس کی خوبصورتی پر، اس کی ہمیں محفوظ رکھنے کی طاقت پر — ایک پل میں ٹوٹ گیا۔
میں کیسے بیان کروں وہ لمحہ جب ایک ماں نے اپنے بچے کو کھو دیا اُس جگہ پر جسے وہ جنت سمجھتی تھی؟ کیسے کہوں اُن دوستوں کی بربادی کا حال جو ہنستے ہوئے درختوں کے سائے میں گولیوں کا نشانہ بن گئے؟ اُن سیاحوں کا جنہوں نے خوشی تلاش کی، مگر موت پا لی؟
یہ صرف ایک “واقعہ” نہیں ہے۔ یہ محض ایک بریکنگ نیوز کا حصہ نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی روح پر لگا ایک گہرا زخم ہے۔ یہ ہر اُس دل کی چیخ ہے جس میں ابھی انسانیت باقی ہے۔
آج، میں وادی کو الزام نہیں دیتا۔ میں اس کے ساتھ سوگ منا رہا ہوں۔ میں پہاڑوں کی خاموشی پر سوال نہیں اٹھاتا — لیکن اب اُس خاموشی میں مجھے چیخوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ جہاں کبھی شاعری گونجتی تھی، آج وہاں فضا غم سے بوجھل ہے۔
اُن لوگوں سے جو اس جرم کی ذمہ داری لیتے ہیں — تمہاری گولیوں نے صرف جسموں کو نہیں مارا۔ تم نے خواب چیر دیے، گھروں کو اجاڑ دیا، کہانیاں چھین لیں جو اب کبھی سنائی نہیں جائیں گی۔ مگر تم جیتے نہیں۔ اور کبھی نہیں جیتو گے۔
کیونکہ ہم غم میں بھی تمہاری نفرت سے زیادہ انسان ہیں۔
میں وقت کو واپس نہیں لا سکتا۔ نہ ہی ان مسکراہٹوں کو واپس لا سکتا ہوں، نہ بے جان جسموں میں سانس ڈال سکتا ہوں۔ مگر میں لکھ سکتا ہوں۔ میں رو سکتا ہوں۔ میں یاد رکھ سکتا ہوں۔ اور اُسی یاد میں، میں یہ وعدہ کرتا ہوں — تمہاری دہشتگردی ہماری سچائی کی پہچان نہیں بنے گی۔
اے وادیٔ کشمیر — تم ایک دن پھر مسکراؤ گی۔ مگر ہم تمہارےیہ آنسو کبھی نہیں بھولیں گے۔ اور ہماری خاموشی بھی ایک دن چیخ بن جائے گی — انصاف کے لیے، امن کے لیے، اُن تمام معصوم جانوں کے لیے جو اب تمہاری مٹی میں آرام کر رہی ہیں۔
ہم اُن کے نام دل میں لیے پھرتے ہیں۔ تمہارا زخم ہماری روح کا حصہ بن چکا ہے۔
����
اصل مضمون انگریزی میں شحنواز نذیر کا لکھا ہوا ہے اور اردو میں ترجمہ شاہ زبیر نے کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں