افسانہ ۔۔۔سیدھا سادہ آدمی 0

افسانہ ۔۔۔سیدھا سادہ آدمی

ڈاکٹر نذیر مشتاق

وہ گھر سے عید گاہ کی طرف روانہ ہوا تاکہ قربانی کے لئے ایک بھیڑ خریدے رستے میں ایک جگہ اس نے دیکھا کہ ایک آدمی پنجروں میں بند طوطے بیچ رہا ہے ۔۔۔۔وہ اس کے نزدیک گیا اور اس سے پوچھا ۔۔۔۔۔کتنے طوطے ہیں
چھ ۔۔۔
اس آدمی نے پنجروں کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
ایک طوطے کی قیمت کیا ہے ۔۔۔۔۔
تین ہزار ۔۔۔۔۔
کیا یہ طوطے اڑ سکتے ہیں۔
جی ہاں اگر کھلے چھوڑ دئے جاہیں تو یہ بھی اونچی اڑان بھر سکتے ہیں ۔۔۔۔
میں یہ سارے طوطے خریدنا چاہتا ہوں۔
شوق سے خریدیے مگر قیمت میں کوئی کٹوتی نہیں ہوگی ۔۔۔
اس نے جیب سے اٹھارہ ہزار روپے نکال کر طوط فروش کے حوالے کیے ۔۔۔۔۔۔اور خود پنجروں کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔وہ آدمی روپے جیب میں ٹھونس کر جانے ہی والا تھا کہ اس نے اسے روکا ۔۔۔۔اس نے ہر پنجرے کا درواہ کھولا اور طوطوں کو ازاد کیا ۔۔۔اور پھر کھڑے ہوکر کہا ۔۔۔یہ پنجرے تمہارے کام آئیں گے۔
طوطا فروش اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
وہ اسے حیرت میں ڈال کر عید گاہ کی طرف چل پڑا
وہ قربانی کے بھیڑ کے بارے میں دو تین بیچنے والوں سے بات کرچکا تو معلوم ہوا کہ بھیڑ خریدنے کے لیے روپے کم پڑ رہے ہیں ۔۔۔۔ اب کیا کیا جائے وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اس کی نظر سڑک کے دوسرے طرف پڑی ۔۔۔ اس نے جلدی سے سڑک پار کی ۔۔۔ آسمان آگ برسا رہا تھا ۔۔اور عید گاہ کے اطراف لوگوں کی بھیڑ تھی ۔ لوگ قربانی کی رسم ادا کرنے کے لیے جانور خرید رہے تھے ۔۔۔۔وہ سڑک کے اس پار پہنچا۔۔۔
ایک چیل نیم مردہ حالت میں گرد وغبار میں لت پت پڑی تھی ۔اس نے فوری چیل کو اٹھایا اور اس کے پر صاف کیے اور نزدیک ہی ایک نل پر لےجاکر چیل کو پانی پلانے کی کوشش کی اور اس کی ٹانگیں اور پر دھولیے ۔۔۔۔ لیکن چیل کی آنکھیں بند تھی۔
لگتا ہے مرجائے گی اس نے سوچا ۔۔۔۔نہیں نہیں میں اسے مرنے نہیں دوں گا ۔۔۔۔اس نے ادھر ادھر دیکھا۔
عید کی وجہ سے سڑکوں پر سرکاری ٹرانسپورٹ نظر نہیں آرہا تھا اس نے چیل کو بڑی احتیاط سے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور تیزی سے قدم بڑھائے لگا ۔۔۔اس کی خوشی کی کوئی حد نہیں رہی جب اس کی نظر ایک خالی آٹو پر پڑی ۔۔۔وہ دوڑتا ہوا آٹو کے نزدیک گیا اور آٹو والے سے کچھ کہے بغیر آٹو میں بیٹھا۔
مجھے جلدی ہے پلیز مجھے ویٹرنری اسپتال لے چلو۔
آٹو والے نے اس کا سر تا پا جایزہ لیا اور پھر اس کے ہاتھوں میں نیم مردہ چیل کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔ اس جانور کا علاج کروانا ہے ۔۔۔پھر وہ ہنستا ہوا آٹو میں بیٹھ گیا اور تیزی سے سڑک پر آٹو دوڑانے لگا ۔
ویٹرنری اسپتال پہنچ کر اسے معلوم پڑا کہ پرندوں کا علاج کرنے والا عملہ عید کی چھٹیاں منارہا ہے
اس کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے۔۔۔۔ وہ چیل کو دونو ں ہاتھوں میں لیے واپس گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔دکانیں بند ۔۔۔۔سڑک سنسان ۔۔۔۔وہ چلا جارہا تھا ۔۔۔۔کہیں کوئی آٹو نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔اچانک آسمان پر بادل چھاگئے۔۔۔چند لمحوں بعد بجلی چمکی اور زور دار بارش شروع ہوئی۔۔اس نے نیم مردہ چیل کو قمیض کی آستین سے ڈھانپ لیا اور تیزی سے ایک دکان کی چھت کے نیچے سیڑھی کے ایک پایہ پر بیٹھ گیا ۔۔۔اس نے چیل کے پروں پر آہستہ سے ہاتھ پھیرا۔۔ چیل کی آنکھیں نیم وا تھیں اچانک اس کی نظر چیل کی گردن کے نچلے حصے پر پڑی ۔۔۔ایک گہرا زخم ۔۔۔اوہ اسے کتنا درد ہوا ہوگا ۔۔۔۔پرندے بھی انسانوں کی طرح درد محسوس کرتے ہیں مگر وہ اظہار نہیں کرسکتے ۔۔۔
کہیں یہ مر نہ جائے۔۔۔اس کے دل میں خیال آیا۔وہ تڑپ اٹھا ۔۔۔نہیں نہیں میں اسے مرنے نہیں دوں گا۔
میں اس کی زندگی ہر صورت میں بچاؤں گا ۔۔۔ اتنی دیر میں موسلا دھار بارش تھم چکی تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور گھر کی طرف روانہ ہوا۔
گھر پہنچ کر اس کی بیوی نے قدرے غصے سے کہا
اتنی دیر لگا دی ۔۔ قربانی کا جانور لائے۔۔۔۔ اور یہ یہ تمہارے ہاتھوں میں کیا ہے ۔۔۔۔
یہ بیچاری ایک نیم مردہ چیل ہے شاید یہ کتوں کی زد میں آئی ہوگی بے چاری نیم مردہ ہے میں اس کی زندگی بچانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
اس کی بیوی نے دایاں ہاتھ ماتھے پر دے مارا ۔۔ہائے رے میری قسمت۔ کس بھلا کے ساتھ مجھے زندگی گزارنی پڑتی ہے ۔۔میں کیا کروں ۔۔۔ اب کھڑے کھڑے کیا کر رہے ہو لے جاؤ اور اسے کہیں پھینک دو ۔۔۔۔اسے بچا کر تمہیں کیا ملے گا۔۔۔اور چلو ہاتھ منہ دھولو اس گندے جانور کو ۔پتہ نہیں کہاں سے اٹھا کر لائے ہو۔
بیوی کچن کی طرف چل پڑی ۔اور وہ باہر آنگن میں آیا اور چیل کو مرغوں کے ڈربے میں رکھا ۔۔۔ اور واش روم جاکر ہاتھ منہ دھو کر بیوی کے سامنے بیٹھ گیا۔
ان کے دو چھوٹے بچے عید منانے ننہال گئے تھے
بیوی نے کھانا اس کے سامنے رکھ دیا اور چاول کا لقمہ منہ میں رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔تمہاری ان ہی حرکتوں کی وجہ سے ہمیں تمہارے باپ نے گھر سے نکال دیا ۔۔یاد ہے اس دن وہ زخمی کتا گھر لے آئے اور چار دن اس کی تیمارداری کی وہ صحت یاب ہوا اور تم اسے گھر میں رکھنا چاہتے تھے ۔مگر تمہارے باپ نے غصے میں آکر کہا ۔ ہمارے مذہب میں کتا گھر میں رکھنا اور پالنا جایز نہیں ہے جس گھر میں کتا ہو اس گھر میں فرشتے قدم نہیں رکھتے ۔لے جاؤ اس کتے کواور اپنے رہنے کا کہیں اور بندوبست کرلو ۔۔اور دوسرے دن ہم کرایہ کے اس مکان میں آگئے ۔۔ اب اگر مالک۔ مکان دیکھے گا کہ ایسے جانور کو گھر میں لایا جارہا ہے تو وہ ہمیں یہاں سے نکال دے گا ۔۔۔۔
وہ ایساکچھ نہیں کرے گا اسے اپنے کرایہ سے غرض ہے ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ کھانا ادھورا چھوڑ کر اٹھا ہاتھ دھولیے اور آنگن میں چلا گیا ۔۔۔۔اس نے دھڑکتے دل سے ڈربے کا دروازہ کھولا اور چیل کو احتیاط سے چھوا ۔۔۔۔اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور دل کو یک گونہ سکون ملا ۔۔۔ احتیاط سے اس نےچیل کو ہاتھوں میں پکڑا اور نزدیکی ڈسپنسری کی طرف چل پڑا۔۔۔ وہاں ایک خدمت گزار ڈیوٹی پر تھا ۔۔۔۔۔۔
ہاں جی کیا بات ہے ۔۔
مجھے زخم کی مرہم پٹی کرنی ہے دوائی اور بندیج چاہیے ۔۔۔۔
زخم کہاں اور ۔کیسے۔لگا۔۔۔۔ خدمت گزار نے ڈاکٹری لہجے میں کہا ۔۔۔
زخم مجھے نہیں اس بے چاری چیل کوہے ۔۔۔۔۔
اوہ تو چیل مریض ہے اور آپ اس کا علاج کرنے نکلے ہیں۔
صاحب یہ ۔ڈسپنسری انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے پرندوں کے لیے نہیں ۔۔۔۔یہاں اتنے انسان مرتے ہیں ان کی کسی کو فکر نہیں اور آپ کو اس مردار انسان دشمن جانور کی فکر پڑی ہے ۔جاؤ اور اسے کسی کچرے کے ڈھیر کے پاس پھینک دو ۔۔۔کیسے کیسے لوگ ہیں اس دنیا میں ۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے سگریٹ سلگایا ۔۔۔۔اور ٹہلنے لگا
وہ چیل کو لے کر گھر آیا اور اسے گرم پانی سے نہایا
پھر اس کے زخم کو صاف کیا اور ایک باول میں اس کے لیے پانی رکھا ۔۔چیل پانی پینے لگی۔ اس نے دیکھا کہ چیل کی حالت بہتر ہورہی ہے ۔۔۔ اس کی بیوی بیڑ روم میں سو رہی تھی اس نے چپکے سے کچن میں سے دو چکن پیس لائے اور چیل کے سامنے رکھ دئیے،
اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ چیل چکن ٹکڑوں پر چونچ مارنےلگی۔
چند لمحوں بعد چیل کی جان میں جان آئی اس کی آنکھیں چمکنے لگیں ۔۔۔۔وہ آہستہ سے اپنے محسن کی گود میں بیٹھی اور ۔۔۔اس کے چہرے پر عجیب سی خوشی چھا گئی۔ اسے ایک ایسا سکون ملا جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔۔ چیل اس کے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر تھی اچانک اس نے دایاں ہاتھ زرا اوپر اٹھایا۔
چیل نے اسے پیار بھری آنکھوں سے دیکھا اور پھر سے اڑ گئی ۔۔۔وہ اسے دیکھتا رہا دیکھتا رہا جب تک وہ نظرو ں سے اوجھل ہوگئی ۔۔۔اس کی بیوی کھڑکی سے اسے دیکھ رہی تھی پہلے وہ مسکرائی اور پھر زیر لب بڑبڑائی ۔۔صدقے جاؤں اس پر۔۔کتنا سیدھا سادہ آدمی ہے میرا شوہر ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں