Parveez Manoos 0

محبّت کا محور

پرویز مانوس

اُداسیوں کے یہ ذرد موسم
یہ فُرقتوں میں سُلگتے بوٹے
سنہری پتوّ کا ڈھیر اکثر
مجھے دلاتے ہیں یاد اُن کی
کبھی جو برگِ چنار میں وہ
سیاہ مخمل کا فرن پہنے
وہ سُرخ پتوں پہ لڑکھڑاتے
ہماری آغوش میں بال کھولے
چنار کا اک آُٹھا کے پتّا
گھنی لکیروں میں اُس کی کھو کر
یہ مجھ سے کہتی،
سنُو…….! تمہاری ہتھیلیوں کی
لکیروں جیسی ہیں یہ لکیریں
جو نام اُن میں لکھا ہے میرا
وہ ان لکیروں میں بھی چُھپا ہے
یہ دو لکیریں جو مل رہی ہیں
جہاں پہنچ کر ٹھہر گئی ہیں
ہے یہ محبّت کا اپنی محور
سنہری پتّوں کے زرد بن میں
ہیں جس جگہ ہم
مری تمہاری یہی ہے منزل
وہ میرے ہاتھوں کی اُنگلیوں میں
نرم ملائم سی اُنگلیوں کو
پھنسا کے کہتی،
میں آج کرتی ہوں تم سے وعدہ
کبھی نہ چھوٹے گا ساتھ اپنا
تمہارے ہاتھوں سے ہاتھ اپنا
مگر یہ محور وہیں ہے لیکن
گھنے چناروں کے زیرِ سایہ
میں زرد پتّوں کے درمیاں میں
ہوں سر جھکائے کھڑا میں تنہا
ہے دُور تک اک عجب خموشی
ہے چہار جانب عجب اُداسی
میں آج تک بھی وہیں کھڑا ہوں
وہی نہیں ہے ۔۔۔کہیں نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں