146

احساسِ تنہائی۔۔۔۔۔کیا چھٹکارہ ممکن ہے؟

تحریر: ڈاکٹر نذیر مشتاق
تنہائی کبھی نعمت ہے تو کبھی مصیبت ۔ ادیبوں اور شاعروں نے تنہائی کو غنیمت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ہروقت انہیں کوئی نہ کوئی خیال گھیرے رہتاہے ،لہٰذاتنہائی کہاں ؟تنہائی کیاہے ؟اس بات کا دارومدار انسان کی سوچ پر ہے ۔بعض لوگ تنہائی کے لمحات ڈھونڈنے میں ساری زندگی صرف کرتے ہیں اور کچھ لوگ تنہائی کی ناگن کے ساتھ لڑتے لڑتے زندگی بتاتے ہیں ۔ تنہائی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انسان دنیامیں تنہا آتاہے اور تنہا ہی دنیا سے چلا جاتاہے ۔ مشہور ومعروف شاعر حکیم مومن خان مومنؔ نے اپنے ایک لافانی شعر سے خود کوہی نہیں تنہائی کو بھی لازوال بنا دیاہے ۔ شعریوں ہے ؎
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
انسان اکیلا ہوسکتاہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ احساسِ تنہائی کا شکارہو۔احساسِ تنہائی اس وقت شروع ہوتاہے جب ایک انسان اپنے آپ کو سماجی طور ٹھکرایا ہو ااور علیحدہ تصور کرنے لگے ، وہ رشتہ داروں ، دوست واحباب کی کمی محسوس کرنے لگے ۔ ایسے انسان کے لئے تنہائی کا مطلب ہوتاہے ، میرا کوئی نہیں ہے اور میں کسی کا نہیں ہوں ۔
جیسے مرزا غالب فرماگئے ہیں ؎
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو
ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو
بے درودیوار سااک گھر بنایا چاہئے
کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
پڑئیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
اور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو
کچھ لوگوں کو نیندکی دیوی سے عشق کرنے کے لئے وسیع وعریض کمرہ ہی نہیں ایک بڑی حویلی بھی کم پڑتی دکھائی دیتی ہے اور کچھ لوگ درودیوار کے بغیر گھروں میں زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایسے لوگ اپنی زندگی کے مخصوص دائرے میں قید رہتے ہیں اور اپنا وقت صرف ’’اپنے ساتھ‘‘ گزارنے میں راحت محسوس کرتے ہیں ۔ جو لوگ احساسِ کمتری کے شکارہوتے ہیں ان میں گھر کی چاردیواری میں قید عورتیں ،عمررسیدہ بے سہارا بزرگ، بچے جن کے والدین صبح سے شام تک گھر سے باہر کام میں مصروف ہوں، تلاش معاش میں گھر یا وطن سے دورلوگ اور طلاق شدہ مرد یاعورتیں شامل ہیں ۔ مشترکہ کنبوں کے بکھر جانے سے احساس کمتری میں مبتلا افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہواہے ۔ ایسے کنبوں میں ایک دوسرے کوسہارا دینے کے لئے دو سے زیادہ افراد موجود ہواکرتے تھے مگر آج کل بڑے بڑے عالیشان مکانوں میں سہارا دینے کے لئے کوئی موجود نہیں ہوتاہے ۔اس لئے احساسِ تنہائی میں مبتلا افراد کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہوتا جارہاہے۔
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ تنہائی کا احساس انسان کی صحت کے لئے ضرررساں ہوسکتا ہے۔ ایک یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو طلباء دوستوں سے ملنے جلنے کی بجائے تن تنہا زندگی گزارنے کی عادی تھے ان کا نظامِ قوتِ مدافعت اُن طلباء کے مقابلے میں بے حد ضعیف تھا جو اپنا وقت دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق ، کھیل کود اور تفریح میں گزارنے کے عادی تھے۔اسی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کچھ طالب علم دوستوں کے درمیان رہ کربھی احساسِ تنہائی کے شکار تھے ، ایسے طلباء میں سے بیشتر نیند میں دائمی خلل کے بھی شکار تھے ۔
احساسِ تنہائی کے شکار لوگ ہر وقت ذہنی دبائو میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ ان کا فشارخون بڑی تیزی سے بلند یوں کوچھوتاہے اور دوائیوں کے استعمال سے بھی کم نہیں ہوتاہے ۔ علاوہ ازیں ان کے جسم میں کولیسٹرول اور سیٹرس ہارمون (Stress Hormone) کورٹیزول کی سطح نارمل سے زیادہ ہوتی ہے ۔محققین کا کہناہے کہ ایسے لوگ پریشانی ، مایوسی اور افسردگی جیسے نفسیاتی مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں ۔ مگر محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سماجی علیحدگی اور احساسِ تنہائی میں فرق واضح کرنا لازمی ہے ۔ اپنی مرضی سے سماجی علیحدگی اختیار کرنے کامطلب یہ نہیں کہ فرد احساسِ تنہائی کا شکارہو۔ سماجی زندگی سے کنارہ کشی کا مطلب نہیں کہ فرد کو احساسِ تنہائی بھی ہو۔سماجی زندگی سے دُوری اختیار کرنا فرد کا اپنا فیصلہ ہوتاہے جبکہ احساسِ تنہائی ایک مخصوص ذہنی کیفیت ہے ۔ کچھ لوگ ’’لوگوں کے سیلاب‘‘ سے دور اپنی ایک الگ دنیا بسا کر اطمینان کا سانس لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں ۔ مسٹرنیکم کا کہناہے ’’میں کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ تفریح کے لئے جانا چاہتاہوں لیکن اگر کسی وجہ سے میں نہ جاسکاتو میں اپنے گھر میں تنہا کمرے میں اپنے آپ کو مختلف مثاغل میں مشغول رکھتاہوں اور بالکل تازہ ، توانا اور مسرور رہتاہوں ‘‘۔
احساسِ تنہائی میں مبتلا ہونے کامطلب’’اکیلا‘‘ ہونا نہیں ہے ۔مثال کے طور پر ایک شخص کسی بھیڑ یا جشن میں بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتاہے اور کوئی شخص اکیلا ہونے کے باوجود بھی تنہائی کے احساس کا شکار نہیں ہوتا۔
احساسِ تنہائی ایک ایسی درد بھری ذہنی کیفیت ہے جس میں مبتلا شخص اپنے آپ کو سماجی زنجیرسے ’’کٹا ہوا‘‘ حلقہ محسوس کرکے یہ سوچنے لگتاہے کہ اس کی بنیادی اور ضروری خواہشات کو پورا کرنے میں کوئی بھی شخص دلچسپی نہیں لے رہاہے ۔ اس لئے یہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے ۔ جب احساسِ تنہائی کسی بھی شخص کو اپنی گرفت میں لیتاہے تو……
٭ وہ محسوس کرتاہے کہ اسے ’’محفل ‘‘ سے نکالا گیا ہے ۔
٭ اس کا کوئی چاہنے والا نہیں ہے۔
٭ وہ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو بیگانہ محسوس کرتاہے ۔
٭ اسے یوں لگتاہے کہ ایسا کوئی شخص نہیں جس کے ساتھ وہ اپنے تجربات ، احساسات اور دکھ درد بانٹ سکے ۔
٭ اسے دوست بنانے میں دشواری پیش آتی ہے ۔وہ کسی اجنبی کے ساتھ دعا سلام کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتاہے ۔
اور پھر اِن کے منفی اثرات یوں ظاہرہوتے ہیں ۔
٭ احساسِ تنہائی کا شکار فرد احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتاہے ۔
٭ اسے ہر وقت یہ خیال ستاتاہے کہ ’’یہاں کسی کو بھی میری ضرورت نہیں ہے‘‘۔
٭ وہ دعوتوں اور محفلوں میں جانے سے گھبراتاہے ۔
٭ وہ ’خودپسندی‘ اور ’خودآگہی‘ کے وہم میں مبتلا ہوجاتاہے ۔
٭ وہ کوشش کے باوجود بھی اپنے جذبات اور احساسات بیان نہیں کرسکتاہے ۔
٭ وہ دوسروں سے ہم کلام ہونے سے کتراتاہے ۔
٭ وہ اپنے مسائل ومشکلات کسی دوسرے سے بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتاہے ۔
٭ وہ ایک مخصوص اور تنگ دائرے میں مقید ہو کے رہ جاتاہے ۔
اور پھر وہ ’موجودہ جگہ‘ یا ماحول سے راہِ فرار اختیار کرتاہے ۔ مثلاً اگر وہ والدین کے ساتھ رہتا ہو تو اچانک کسی وقت بناء سوچے سمجھے گھر سے بھاگ کرکسی اور جگہ پنا ہ لیتاہے ، اس وقت وہ یہ بھی نہیں سوچتا کہ اُسے مستقبل میں کن مشکلات ومسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ، اسی لئے گھر سے دُور رہ کر ایسے نوجوان ایسی غلطیوں کے مرتکب ہوجاتے ہیں جن کا خمیازہ انہیں عمر بھر بھگتنا پڑتاہے ۔
احساسِ تنہائی سے چھٹکارا پایا جاسکتاہے لیکن یہ فرد کی اپنی ذات پر منحصر ہے ۔ اپنے بارے میں اچھی اور مثبت رائے قائم کرکے اپنی خود اعتمادی کو بڑھاوا دیا جاسکتاہے ۔ ایک نوجوان ڈاکٹر کا اپنے بارے میں یوں کہنا ہے ۔
’’جب میں اپنا وطن چھوڑکر،ایران چلا گیا تو وہاں کے نئے ماحول میں ہر لمحہ مجھے اپنی ذات عجیب اور بیگانہ سی لگتی تھی ۔ چونکہ میں وہاں کے لوگوں کی زبان سے واقف نہیں تھا، اس لئے مجھے ہروقت یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں گونگا ہوں اور کسی کے سامنے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار نہیں کرسکتا ۔ میرا دَم گھٹنے لگا اور میں ہر وقت راہِ فرار تلاش کرنے لگا لیکن ایسا ناممکن تھا …اچانک میں نے اپنے بارے میں ایک مثبت رائے قائم کرلی اور میں نے سوچا کہ مجھے کسی بھی طرح احساسِ تنہائی سے چھٹکاراپانے کی سعی کرنی چاہئے ۔ مجھے خیال آیا کہ ایک انسان صرف اپنی زبان سے اپنے خیالات ،احساسات اور جذبات کا اظہار کرسکتاہے ، اسی لئے میں نے چند ملازموں کی مدد سے صرف تین ماہ میں فارسی زبان سیکھی اور میں نے ہرایک کے ساتھ تبادلۂ خیالات کرنا شروع کیا اور جب میں نے ’’زبان کی ‘‘ مدد سے اپنے اندر کے انسان کے احساسات اور جذبات کو ظاہر کیا تو میں نے احساسِ تنہائی سے چھٹکارا پالیا ‘‘۔ اسی نوجوان ڈاکٹر کی طرح آپ کو بھی ایک لائحہ عمل مرتب کرکے احساسِ تنہائی سے نجات حاصل کرنی ہوگی ۔ آپ کو یہ جاننا اور سمجھنا ہوگا کہ آپ احساسِ تنہائی کے شکار کیوں ہو چکے ہیں اور جب آپ کو ’’وجہ‘‘ معلوم ہو تو کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا ۔ آپ اپنی منفی سوچ کو مثبت انداز میں بدلنے کیلئے کوشش شروع کریں …صبر و ہمت کا دامن مضبوطی سے تھام کر سماجی ، ماحولیاتی ،ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا شروع کریں ۔اس میں کافی وقت لگ سکتاہے۔آپ حوصلہ برقرار رکھئے ، کسی معجزہ کی توقع نہ کریں ، راتوں رات کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے ۔
اپنے آپ پر قابو رکھیں اور احساسِ تنہائی سے چھٹکاراپانے کے لئے …
٭ سب سے پہلے اپنی بنیادی ضروریات ، دلچسپیوں اور چاہتوں کی شناخت کرلیں… محترمہ فاطمہ جی کہتی ہیں ۔’’شادی کے ایک برس بعد مجھے پتہ چلا کہ میں کبھی ماں نہیں بن سکوں گی ۔ زندگی میں مجھے اگر کسی چیز سے جنون کی حد تک عشق تھا تو وہ’’بچے ‘‘ تھے اور میں اسی نعمت سے محروم ہوگئی تھی ۔میرے شوہر نے مجھے طلاق دی اور میں زندگی کے لق ودق صحرامیں تنہا بھٹکنے لگی ۔ احساسِ تنہائی کا زہر میری رگوں میں سرایت کرنے لگا اور میں ڈپریشن میں مبتلا ہونے لگی ۔ ایک ماہر سماجیات اور مشیر نے مجھے مشورہ دیا کہ میں کسی سکول میں نوکری کرلوں اور میں نے یہی کیا…سکول میں نوکری کرنے کے بعد میں بچوں کے درمیان سب کچھ بھول گئی اور احساسِ تنہائی کی قید سے آزاد ہوگئی ‘‘۔
)جاری)
(سلسلہ صفحہ 8سے جاری)
٭اگر آپ کے سینے میں درد بھرا دل ہے اور دوسروں کے ساتھ دُکھ درد بانٹنے کے لئے تیار ہیں تو کسی غیر سرکاری تنظیم کو بلامعاوضہ اپنی خدمات پیش کرکے احساسِ تنہائی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں ۔ دوسروں کی مدد کرنے سے آپ کو بے پناہ مسرت کا احساس ہوگا اور آپ کی خود اعتمادی بڑھ جائے گی ۔
٭کچھ لوگ حد سے زیادہ حساس ہوتے ہیں ،وہ دوسروں کی ذرا سی تنقید یا ’’چوٹ‘‘ سے دل برداشتہ ہو جاتے ہیں ۔ دوسروں کے ہدفِ تنقید بن جانے کے بعد گھبرائیے مت ،اپنے آپ کو الگ تھلگ نہ کریں ۔ صرف یہ دیکھیں اگر تنقید میں سچائی ہے تو اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کریں اور اگر تنقید بے جا ہے تو اُسے بھول جائیں ۔٭ جب احساسِ تنہائی کا زہر آپ کی روح کوتڑپانے لگے تو اپنے مسائل اور مشکلات کے بارے میں سوچنے کی بجائے کوئی کام کرنا شروع کریں۔عبادت کریں ، مطالعہ سے دل بہلائیں ، کوئی فلم یا ٹی وی سیریل دیکھیں ، کسی آشنا کو خط لکھیں یا ای میل کریں…یاگھر سے نکل کر کوئی ورزش کریں ۔
٭ ایک ڈائری پربنا سوچے سمجھے اپنے منتشرخیالات قلمبند کرلیں…جو کچھ بھی آپ کے ذہن میں آتاہے اسے صفحہ قرطاس پر بکھیر تے جائیں ۔ ایسا کرنے سے آپ اپنی تنہائی کے الجھے ہوئے جال سے باہر آنے میں کامیاب ہوںگے ۔ ماہرامراض نفسیات کہتے ہیں کہ ہر روز ڈائری لکھنے والے افراد بہت سار ے نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہونے سے بچ سکتے ہیں کیونکہ ڈائری میں اپنے خیالات ’’ظاہر‘‘ کرنے سے دل کا درد کاغذ کے صفحوں پر اُمڈ آتاہے اور دل و دماغ سے تنہائی کے بادل چھٹ جاتے ہیں ۔
٭ زندگی سے لطف اندوز ہونے کے لئے کسی ’’فن‘‘ میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ آج کل انٹرنیٹ یا’’ ڈسٹنس ایجوکیشن ‘‘کے ذریعے شخصیت نکھارنے کے کورسز دستیاب ہیں، ان سے استفادہ حاصل کریں ۔
٭ اگر آپ کسی دوسرے شخص کو پسندیدہ نظروں سے دیکھنے لگے تو اس انتظار میں وقت ضائع نہ کریں کہ وہ آکر آپ کے ساتھ گفتگو شروع کرے …آپ پہل کریں ، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرائیں اپنا تعارف کراکے اس سے باتیں شروع کریں ۔
٭ اختلافِ رائے قبول کرنا اپنی عادت بنالیں…اگر کوئی آپ کی رائے سے اتفاق نہ کرے تو اس سے بددل یا بدظن ہوکر اپنی ذات کے مخصوص دائرے میں مقید نہ ہو جائیے ۔ ہر انسان کا اپنا ایک الگ انداز ہوتاہے ، اس لئے کسی بات پر تضاد کی وجہ سے کسی کو ردّ کرنا نادانی ہے ۔ اپنے دل ودماغ کے دریچے ہروقت کھلا رکھیں اور دوسروں کی آراء کا احترام کرنا سیکھیں ۔ اس سے آپ کے ذہن کا افق ایک نئی روشنی سے منّور ہوجائے گا اور آپ کا طرزِفکر بدل جانے سے آپ کی شخصیت میں نکھار آجائے گا ۔ اور آپ احساسِ تنہائی کی قید سے رہائی پانے میں کامیاب ہونگے ۔
٭ دوسرو ں کے بارے میں آپ صرف’’اندازہ‘‘لگاسکتے ہیں کہ وہ کیا ہیں اور کیا چاہتے ہیں مگراپنے بارے میں آپ کی رائے حتمی ہوگی ۔ اس لئے اپنے اندر کے انسان کو جگا کر ، اسے دوسروں سے ملنے جلنے کے لئے آمادہ کرلیں…یہ کام ذرا مشکل ہے مگر بار بار ایسا کرنے سے آپ مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوںگے اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ احساسِ تنہائی کی پرچھائیاں بھی آپ کو چھو نہ سکیں گی ۔
دورِ جدید میں ٹیکنالوجی نے کرہ ارض کو سمیٹ کے رکھ دیا ہے ۔ٹی وی ، کمپیوٹر، سل فون وغیرہ نے سماجی علیحدگی کو بڑھاوا دیا ہے ۔ اکثر لوگوں کو یہ جدید ترین سہولیات میسر ہیں اس لئے سبھی اپنی دنیا میں اپنی زندگی کے دائرے میں اپنی ذات میں گم ہیں ۔ وہ زمانہ گیا جب مشترکہ کنبے ایک ساتھ کھاتے ، پیتے ،ہنستے اور روتے تھے ،ایک دوسرے کا سہارا بنتے تھے ، وہ تو اب ماضی کی باتیں ہیں۔اس لئے دورِ حاضر میں یہ ضروری ہے کہ آپ خود اپنی دنیا بسا لیں مگر اس میں اوروں کو بھی شریک کرلیں، کوئی آپ کی طرف قدم نہیں بڑھاتا تو آپ ہی پہل کریں تاکہ تنہائی کا زہر آپ کی روح کو ناکارہ نہ بنا سکے کیونکہ روح کی تنہائی نہایت خطرناک ہے ۔ پوری زندگی میں خلاء کا احساس ہوتاہے ۔ روح کے گوشے میں نہ کوئی سائنس دان پہنچ سکتاہے نہ ماہرنفسیات ۔ صرف آپ اپنی روح کے مالک اور جانکار ہیں ، اس لئے اس کا خیال رکھیں…اگر آپ کا احساسِ تنہائی کسی بھی طرح آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتاہے تو کسی ماہر امراضِ نفسیات سے رجوع کریں کیونکہ لگتا ہے اب یہ احساس آپ کے لئے ایک نفسیاتی مسئلہ بن چکاہے جس کے لئے علاج کروانا ضروری ہے ۔
آخر میں ایک بات تنہائی میں سن لیجئے ، میں نے یہ مضمون تن تنہا تنہائی میں لکھا ہے ۔ آپ بھی اسے تن تنہا تنہائی میں پڑھ لیں…مگر پڑھنے کے بعد تنہائی کے دائرے سے نکل کردیکھ لیں کہ کہیں آپ ، یا گھر کا کوئی فرد ، کوئی دوست ، رشتہ دار احساسِ تنہائی کے بوجھ تلے دبا ہوا تو نہیں …اس کی مدد کریں …اس کی تنہائی کے ساتھ ساتھ آپ کی تنہائی بھی دُور بھاگ جائے گی ۔
اگر آپ تنہائی کا شکار ہیں تو آپ خود اپنی دنیا بسانے کی کوشش کریں مگر اس میں دوسروں کو بھی شامل کریں ۔ کوئی آپ کی طرف قدم نہیں بڑھاتا تو آپ پہل قدمی کریں تاکہ تنہائی کا زہر آپ کی روح کو ناکارہ نہ بنا سکے۔ روح کے نہاں خانوں میں نہ کوئی سائنس دان پہنچ سکتاہے اور نہ ماہرنفسیات۔ آپ اپنی روح کے مالک ہیں اور اسے صرف آپ ہی ٹٹول سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں