تحقیق و ترتیب:معراج زرگر
(قسط اول)
(مضمون کے بیشتر اجزا انٹرنیٹ اور دیگر کتب سے ماخوذ ہیں)
مجنوں کا اصل نام قیس بن الملوح تھا۔ یہ 24 ہجری بمطابق 645 عیسوی کو پیدا ہوا۔ اپنے عصر کا معروف شاعر تھا۔ اس نے ایک مسلمان کے طور پر زندگی گزاری اور حالتِ ایمان میں ہی فوت ہوا۔وہ نجد کا رہنے والا دیوانہ شاعر تھا۔ خلافت مروان بن الحكم وعبد الملك بن مروان اور قرن اول کا زمانہ پایا۔ قیس کا نسب نامہ یوں ہے:
قيس بن الملوّح بن مزاحم بن عدس بن ربيعہ بن جعدہ بن كعب بن ربيعہ بن عامر بن صعصعة بن معاويہ بن بكر بن هوازن بن منصور بن عكرمہ بن خصفہ بن قيس عيلان بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان، العامري الهوازني۔
مؤرخین، محدثین اور اہلِ علم نے مجنوں کے احوال بیان کیے ہیں۔ بعض مؤرخین نے اس کے حج پر جانے اور حرمین میں اس کے قیام کے دوران پیش آنے والے واقعات بھی بیان کیے ہیں۔ چند کتب کے حوالے درج ذیل ہیں:
ابنِ قتيبه، عبدالله بن مسلم، تاويل مختلف الحديث، 1: 319، دار الجيل، بيروت
ابن جوزی، عبدالرحمٰن بن علی، بن محمد، المنتظم، 6: 105، دار صادر، بيروت
ابنِ منصور، ابو سعيد عبدالکريم بن محمد، الانساب، 5: 204، دار الفکر، بيروت
الذهبي، شمس الدين محمد بن احمد بن عثمان، تاريخ اسلام، 5: 217، دار الکتاب االعربي، لبنان
مذکورہ کتب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قیس (مجنوں) کا دور اولین صدی ہجری ہے جوکہ صحابہ کا زمانہ ہے۔ قیس چونکہ مسلمان تھا اور حالتِ ایمان میں ہی فوت ہوا ہے، اگر اس کی کسی صحابی سے ملاقات ہوئی ہے تو وہ طبقہ تابعین میں شمار ہوگا۔ تحقیق کے مطابق قیس (مجنوں) کا تابعی ہونا قرینِ قیاس ہے۔
امام فاضل بریلوی فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں کہ ” حضرت قیس المعروف مجنوں رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک مجنوں بنی عامر اولیائے کرام میں سے تھے آپنے لیلیٰ کے سبب اپنے جنون کے ذریعہ اپنے معاملے کو چھپایا ہوا تھا “۔
قیس کو مجنوں کا لقب ليلى عامریہ سے بے پناہ محبت کی وجہ سے ملا۔ قیس اورلیلی نے ایک ساتھ بچپن گزارا اور قیس اس کی محبت میں مبتلا رہا۔ قیس نے لیلی سے شادی کے لیے گھر کو خیر آباد کہا، وہ محبت کے اشعار گنگناتا اور ویرانوں کی خاک چھانتا رہا، اسے شام ،نجد اور حجاز میں دشت نوردی کرتے پایا گیا۔ حضرت پیر مہر علی شاہ ؒ اپنے ملفوظات میں ایک عجیب بات نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیس کو مجنون کا لقب امام حسن علیہ السلام نے دیا۔ واقعہ یوں درج ہے کہ قیس کی ماں امام حسن علیہ السلام کے دولت خانہ میں خدمت کیا کرتی تھی۔ اور موصوف امام علیہ السلام کے رضاعی بھائی بھی تھے۔
ایک دن امام علیہ السلام بنی امیہ کے عہد امارات میں اونٹ پر سوار کہیں جارہے تھے۔ اور قیس ابن الملوح ان کے ہم رکاب تھے۔ امام حسن علیہ السلام نے قیس کو بھائی سمجھ کر بطور اظہار تاسف فرمایا کہ قیس تو نے دیکھا کہ بنو امیہ نے ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا۔ قیس نے جواب میں کہا کہ بھائی۔۔۔!! اگر سچ کہا جائے تو خلافت نہ تو آپ کا حق ہے اور نہ ہی بنو امیہ کا۔ بلکہ لیلی کا حق ہے۔ اس بات پر امام علیہ السلام نے تعجب فرماکر کہا کہ “انتَ مجنونٌ” یعنی آپ تو دیوانے ہو۔ میں کیا کہتا ہوں اور آپ کیا الاپتے ہو۔ حضرت مہر علی شاہ ؒ لکھتے ہیں کہ چونکہ یہ بات امام علیہ السلام نے فرمائی تھی تو اس وجہ سے قیس جہاں میں “مجنون” کے نام سے مشہور ہو گئے۔
وہ پہلا دیوانہ شاعر تھا اور دوسرا دیوانہ شاعر قيس بن ذريح یعنی”مجنون لبنی تھا۔. قیس بن الملوح نے68 هـ موافق 688ء میں وفات پائی۔ وہ پتھروں کے درمیان مردہ پایا گیا اور اس کی گھر والے اس کی لاش اٹھا کر لے گئے۔
سیر و تراجم کا اس بات پر اجماع ہے کہ قیس لیلی کا چچازاد تھا۔ دونوں کا بچپن ایک ساتھ گزرا دونوں اپنے گھر والوں کے مویشی اکٹھے چراتے تھے اور اکٹھے کھیلتے تھے۔ قیس اپنے شعر میں کہتا ہے:
تعلَقت ليلى وهي ذات تمائم
ولم يبد للأتراب من ثديها حجم
صغيرين نرعى البهم يا ليت أننا
إلى اليوم لم نكبر، ولم تكبر البهم
(لیلیٰ تعویذوں کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی، اور اس کے سینوں کی دھول بڑی نہیں لگتی تھی۔
ہم بہاماس کی دیکھ بھال کے لیے جوان ہیں، کاش ہم آج تک بڑے نہ ہوتے، اور بہاماس بڑے نہ ہوتے)
چنانچہ سيد فالح الحجية اپنی کتاب (الغزل في الشعرالعربي) میں بیان کرتے ہیں:
“لیلی کو اپنے چچا زاد سے محبت تھی۔ دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے ،اکٹھے اپنے والدین کے مویشی چراتے تھے بچپن کا یہ ساتھ ان کی محبت کا سبب بنا۔ حتی کہ دونوں محبت میں وارفتگی کی انتہا کو پہنچ گئے۔ عرب صحرانشینوں کی روایت کے مطابق لیلی جب بڑی ہوئی تو اسے پردہ اختیار کرنا پڑا۔ قیس اپنے ایام گذشتہ کو یاد کر تا اور حسرت کرتا کہ کاش یہ ایام لوٹ آئیں۔ محبت و وارفتگی میں اس کی زباں پر پرتاثیر اشعار غزلیہ جاری رہتے۔ پھر قیس اپنے چچا کے پاس لیلی کا ہاتھ مانگنے گیا، اس وقت تک اس نے مہر کی خطیر رقم جمع کر لی تھی جو 50 سرخ اونٹوں پر مشتمل تھا۔ مجنوں نے اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا کیوں کہ عرب اس محبوبہ، جس کی محبت مشہور ہو چکی ہو، اس سے شادی کرنا باعث عار سمجھتے تھے۔
بعض روایات کے مطابق مجنوں کی گھر چھوڑنے کی وجہ مجنوں اور لیلی کے والدین کے درمیان اختلاف تھا جو میراث کی تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ آخرکار لیلی کی شادی طائف کے ایک شخص سے کر کے اسے طائف بھیج دیا گیا۔
لیلی کے ہجر نے قیس کی محبت کی آگ کو تیز تر کر دیا اور اسی عالم وارفتگی میں وہ فوت ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ قیس کا والد اسے اپنے ساتھ حج پر لے گیا تاکہ لیلی کی محبت کی وجہ سے اس پر جو مصائب آئے ہیں،اللہ تعالی اسے ان مصائب سے نجات دے۔ اس کے والد نے اسے کہا کہ کعبہ کے غلاف کو پکڑ کر دعا مانگو کہ خدا لیلی کی محبت سے نجات دے دے۔ قیس نے کعبہ کے غلاف سے لپٹ کر دعا مانگی:
“اے اللہ میری لیلی سے محبت کو زیادہ کر دے اور مجھے کبھی اس کی یاد سے غافل نہ کر! ”
اسی طرح بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ قیس، لیلی کے شوہر ورد کے پاس گیا۔ یہ شدید سردیوں کے دن تھے، ورد اپنی قوم کے سرداروں کے ساتھ، آگ کے الاؤ کے پاس بیٹھا تھا۔ قیس نے وہاں یہ اشعار فی البدیہہ کہے:
بربّك هل ضممت إليك ليلى قبيل الصبح أو قبلت فاها
وهل رفّت عليك قرون ليلى رفيف الأقحوانة في نداها
كأن قرنفلاً وسحيقَ مِسك وصوب الغانيات قد شملن فاها
(یعنی تجھے رب کا واسطہ۔۔۔۔۔ کیا تو نے صبح ہونے سے پہلے لیلی کو آغوش میں لیا؟ یا اس کا منہ چوما؟ ۔۔۔ یا اس کی شبنمی زلفیں تجھ پر نازک پھولوں کی طرح لہرائیں؟ ۔۔۔ جیسے کہ خوشبوئیں اور مشک اس کے منہ میں درآئی ہوں؟)
ورد نے کہا، جب تم نے مجھے قسم دی ہے تو جواب ہاں میں ہے۔ تو مجنوں نے اپنے ہاتھوں سے آگ کو پکڑ لیا اور اسے نہ چھوڑا یہاں تک کہ بے ہوش ہو گیا۔
لیلی مجنوں کی داستان عشق کو نہ صرف عربی ادب نے جگہ دی بلکہ فارسی ،ترکی اور اردو ادب میں بھی یہ داستان شامل رہی۔ اس واقعہ پر فلمیں اور ڈرامے بھی بنے, گیت بھی لکھے گئے اور اسی طرح اس عشق کے واقعہ کے دو کرداروں سے ہر مسلم تہذیب اور دوسری غیر عرب تہذیبوں کے لوگ صدیوں سے واقف ہیں اور ان دو کرداروں کو سچے عشق کے کردار سمجھتے ہیں اور ان کرداروں سے اپنی محبت اور عقیدت وابستہ رکھتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں لیلی اور مجنون پر کامیاب فلمیں بنی ہیں۔ جو عوام میں بہت مقبول ہوئیں اور ان کے گانے آج بھی مقبول ہیں۔
لیلیٰ مجنوں بنیادی طور پر ایک عربی الاصل داستان ہے۔ اس میں بیان کردہ کردار تاريخی طور پر ثابت مانے جاتے ہیں۔ کہ لیلیٰ مجنوں دو حقیقی شخصیات تھیں اور یہ کہ یہ داستان عشق بھی حقیقی تھی۔ جس کو قلم بند کیا گيا اور بعد میں، صدیوں تک ان پربہت کچھ افسانہ طرازی کی گئی۔ عربی میں سب سے پہلے کس نے اسے لکھا؟ اس کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں البتہ عربی سے فارسی میں اس کو پہلے پہل رودکی نے منتقل کیا۔ اس کے بعد نظامی گنجوی نے اس کو فارسی میں لکھا، جس نے اس کی مقبولیت کو ساری دنیا تک پہنچائی۔ اب تک ہزار سے زیادہ مرتبہ اس داستان کو مختلف زبانوں میں، مختلف لوگ نثر و نظم میں لکھ چکے ہیں۔ مگر ان میں سب سے زیادہ مقبولیت و اہمیت نظامی گنجوی کی لیلیٰ مجنوں کو ہی حاصل رہی ہے۔
لیلیٰ مجنوں کے دو مرکزی کردار ہیں۔ مجنوں لغوی طور پر پاگل، دیوانے اور عاشق کو کہتے ہیں۔ لیلیٰ کا نام لیلیٰ بنت مہدی ابن سعد بیان کیا جاتا ہے۔ عربی و عبرانی میں لیلیٰ یا لیلہ رات کے لیے بولا جاتا ہے۔ عربی میں لیلیٰ مجنوں کی بجائے مجنون لیلیٰ (لیلی کا پاگل) بولا جاتا ہے۔ جب کہ ترکی میں ایک اسم صفت لیلیٰ کی طرح سے مراد محبت کی وجہ سے پاگل، جنونی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کہانی کو قیس اور لیلیٰ، لیلیٰ مجنوں، مجنوں لیلیٰ اور انگریزی میں Laila and Majnu کہا جاتا ہے۔
بعض محققین نے لیلیٰ کے عربی لیلیٰ (رات) سے اس کے معنی سانولی رنگت بھی لیا ہے۔ اور کئی مصنفین نے اپنے قصے میں لیلیٰ کو سانولی صورت والی بنا کر پیش کیا ہے۔ اور عوام میں مشہور ہے کہ لیلیٰ کالی یعنی سیاہ رنگت والی تھی۔ لیکن اگر لیلیٰ کو عربی النسل بیان کیا جاتا ہے تو اس طرح لیلیٰ کا کالا ہونا ایک خلاف واقعہ بات ہوگی۔ مشہور صوفی پنجابی شاعر حضرت بابا فریدؒ نے فرمایا ہے:
لوکاں نوں آکھاں مجنوں کوں
تیری لیلا رنگ دی کالی وے
مجنوں نوں جواب دِتا اے
تیری انکھ نئیں ویکھن والی وے
جے تو ویکھے میریاں انکھاں نال
تے صورت نہ جائی سنبھالی وے
وید وی چٹا تے قرآن وی چٹا
وچوں سیاہی رکھ دتی کالی وے
غلام فریدا جتھے اکھیاں لگیاں
اوتے کیا گوری کیا کالی وے
نظامی گنجوی کے قصے لیلیٰ مجنوں کے مطابق لیلیٰ اور مجنوں بچپن میں ایک ہی مدرسے میں پڑھنے جاتے تھے، تب ہی ان میں باہمی الفت پیدا ہوئی۔ مجنوں کی توجہ تعلیم کی بجائے لیلیٰ کی طرف رہتی، جس پر استاد سے سزا ملتی، مگر استاد کی چھڑی مجنوں کے ہاتھوں پر پڑتی اور درد لیلیٰ کو ہوتا۔ استاد نے یہ بات لیلیٰ و مجنوں کے گھر والوں کو بتائی، جس پر لیلیٰ کے مدرسے جانے اور گھر سے نکلنے پر پابندی لگ گئی۔
بعض قصه گو اس کہانی کو بچپن سے نہیں جوانی سے شروع کرتے ہیں کہ ایک دن اچانک مجنوں، لیلیٰ کو دیکھتا ہے اور اس کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔
بہر حال حقیقت جو بھی ہو، جب دونوں جوان ہوئے تو، ایک دن پھر مجنوں کی نظر لیلیٰ پر پڑ گئی اور بچن کا عشق تازہ ہو گيا۔ مجنوں نے لیلیٰ کا ہاتھ مانگا، مگر لیلیٰ کے باپ نے انکار کر دیا۔ یہاں پر لیلیٰ کا بھائی تبریز کہانی میں شامل ہو جاتا ہے، وہ مجنوں کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر مجنوں اس کو قتل کر دیتا ہے۔ جس پر مجنوں کو کیوں کہ اس نے لیلیٰ سے سرِ عام محبت کا اظہار کیا تھا اور اس کے بھائی کو مار دیا تھا۔ اس لیے مجنوں کو سنگسار کرنے کی سزا سنائی گئی۔
بعض کہانیوں میں تبریز کے قتل کا قصہ نہیں ہے بلکہ، رشتہ دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد لیلیٰ کی شادی کسی دوسرے کے ساتھ کر دی جاتی ہے۔ جس پر قیس، پاگل سا ہوجاتا ہے۔
ليلى العامرية نجد کے النجوع دیہہ میں 28 ہجری کو پیدا ہوئی۔ وہ بھی ایک عربی شاعرہ تھی۔ اس کا تعلق قبيلہ هوازن سے تھا۔ ليلى بنت مہدي بن سعد بن مزاحم بن عدس بن ربيعہ بن جعده بن كعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعه من هوزان بن منصور بن عكرمہ بن خفصه من قيس عيلان ۔ اس کی کنیت ام مالک تھی۔
لیلٰی بني عامر، مجنوں یعنی قيس سے چار سال چھوٹی تھی۔ دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے دونوں ایک ساتھ اپنے مویشی چرایا کرتے تھے۔ جب لیلی بڑی ہوئ تو قیس سے پردہ کرنے لگی۔ لیکن اس سے قیس کے عشق کی آگ اور بھڑک اٹھی۔ ان کی محبت کی شہرت عرب میں پھیل گئی۔ وہ وارفتگی کے عالم میں شعر گنگناتا اور ویرانوں کی خاک چھانتا جگہ جگہ گھومنے لگا۔ کبھی اسے شام، کبھی نجد اور کبھی حجاز میں دیکھا گیا۔ با لآخر اسے پتھروں کے درمیان مردہ حالت میں پایا گیا اور اس کے گھر والے اس کی لاش اٹھا کر لے گئے۔
(جاری اگلے شمارے میں)
لیلی بھی قیس کی محبت کی گرفتار تھی اس کے اشعار اس بات کے گواہ ہیں:
كِلانا مُظهرٌ للناسِ بُغضاً
وكلٌّ عندَ صاحبهِ مكينُ
(ہم دونوں لوگوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور ہر ایک کو اپنے ساتھی پر اعتماد ہے۔)
تبلّغنا العيون بما أَردنا
وَفي القلبينِ ثمّ هَوىً دفينُ
(آنکھیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کیا چاہتے تھے اور دلوں میں پھر جذبہ دفن ہوتا ہے۔)
وَأَسرار اللّواحظِ ليسَ تَخفى
وَقد تغري بِذي الخَطأ الظنونُ
(اور دیکھنے والے کے راز پوشیدہ نہیں رہتے اور غلطی کرنے والا شک میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
وَكَيف يَفوتُ هَذا الناس شيء
وَما في الناسِ تظهرهُ العيونُ
جب لوگوں کی آنکھیں دکھاتی ہیں تو یہ لوگ کیسے کسی چیز سے محروم رہ سکتے ہیں۔)
لَم يكنِ المَجنونُ في حالةٍ
إلّا وَقَد كنتُ كَما كانا
(میرے مجنوں کی حالت نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں ویسی ہی ہوں جیسا کہ وہ تھے۔)
باحَ مجنونُ عامرٍ بهواهُ
وَكَتمت الهَوى فمتّ بِوَجدي
(جذبوں سے بھرے مجنون نے چیخ کر کہا اور میں نے اپنے شوق کو دبا لیا اور اسی وجد میں مرگئی)
فاذا كانَ في القيامةِ نودي
مَن قتيلُ الهَوى تَقدّمت وَحدي
(اگر قیامت کے دن کسی ایسے شخص کو پکارا جائے جو شوق سے مارا گیا ہو تو میں اکیلے ہی آگے بڑھوں گی۔)
نَفسي فِداؤك لَو نَفسي ملكت إِذاً
ما كانَ غيرك يجزيها ويرضيها
(میری جان تیرا فدیہ ہے، اگر میری جان میرے پاس ہوتی تو کوئی اور اس کا بدلہ اور تسلی نہ کرتا۔)
صَبراً عَلى ما قَضاه اللَّه فيك على ضائعُ
(کھوئے ہوئے شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جو حکم دیا ہے اس پر صبر کرو)
أَلا ليتَ شِعري وَالخطوب كثيرةٌ
مَتى رحلُ قيسٍ مستقلّ فراجع
(میری شاعری کی خواہش ہے، اور مصروفیات بہت ہیں، جب آزاد قیس کو رخصتی ملے ، تو لوٹ آنا۔)
بنفسي مَن لا يستقلّ برحلهِ
وَمَن هوَ إِن لم يحفظ اللَه
(مجھے اپنی ذات کی قسم۔۔ جو اپنے شوق میں سفر کرے اور خدا اس کی حفاظت نہ کرے تو عجب ہے؟)
أُخبرتُ أنّكَ مِن أَجلي جُننتَ وَقد
فارَقتَ أَهلك لم تعقل ولم تُفقِ
(مجھے بتایا گیا کہ تم میری خاطر پاگل ہو گئے ہو اور تم نے بغیر کسی وجہ کے اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا اور ہوش میں نہیں آئے۔)
لیلیٰ مجنوں کا عشق و محبت فرضی داستان نہیں ہے، یہ پہلی صدی ہجری کا سچا واقعہ ہے جو عرب کے نجد کے علاقے میں رونما ہوا اور لازوال بن گیا۔ کسی ایرانی نے فارسی میں کیا خوب لکھا,
“خدا مشتی خاک را بر گرفت. میخواست لیلی را بسازد، از عشق خود در آن دمید و لیلی پیش از آن که با خبر شود عاشق شد. اکنون سالیانی است که لیلی عشق میورزد، لیلی باید عاشق باشد. زیرا خداوند در آن دمیده است و هرکه خدا در آن بدمد، عاشق میشود.”
“لیلی نام تمام دختران ایران زمین است، و شاید نام دیگر انسان واقعی!!!!”
“لیلی زیر درخت انار نشست، درخت انار عاشق شد، گل داد، سرخ سرخ، گلها انار شدند، داغ داغ، هر اناری هزار دانه داشت. دانهها عاشق بودند، بیتاب بودند، در انار جا نمیشدند. انار کوچک بود، دانهها بیتابی کردند، انار ناگهان ترک برداشت. خون انار روی دست لیلی چکید. لیلی انار ترک خورده را خورد، اینجا بود که مجنون به لیلیاش رسید.”
“در همین هنگام خدا گفت: راز رسیدن فقط همین است، فقط کافیست انار دلت ترک بخورد. خدا آنگاه ادامه داد: لیلی یک ماجراست، ماجرایی آکنده از من، ماجرایی که باید بسازیش.”
“خدا نے مٹھی بھر مٹی لے لی۔ وہ لیلی کو بنانا چاہتا تھا۔اس نے اس میں اپنی محبت کا دم بھرا اور لیلی کو اس کے علم ہونے سے پہلے ہی پیار ہو گیا۔ لیلی کو اب برسوں سے پیار ہے، لیلی کو پیار ہونا چاہیے۔ کیونکہ خدا نے اس میں پھونک ماری ہے اور جس چیز میں بھی خدا پھونکتا ہے وہ محبت میں پڑ جاتا ہے۔”
“لیلی ایران کی تمام لڑکیوں کا نام ہے، اور شاید ایک حقیقی شخص کا دوسرا نام!!!!”
“لیلی انار کے درخت کے نیچے بیٹھ گئی، انار کے درخت کو پیار ہو گیا، اس نے پھول دیے، سرخ سرخ، پھول انار ہو گئے، گرم گرم، ہر انار میں ہزار بیج تھے۔ بیج محبت میں گرفتار تھے، بے صبرے تھے، انار میں نہ سمائے۔ انار چھوٹا تھا، بیج بے صبرے تھے، انار اچانک پھٹ گیا۔ لیلی کے ہاتھ پر انار کا خون ٹپک رہا تھا۔ لیلی نے پھٹا ہوا انار کھایا، یہیں مجنون اپنی لیلی تک پہنچا۔”
“اسی وقت خدا نے فرمایا: پہنچنے کا راز بس یہی ہے، تمہارے دل میں انار پھوٹنے کے لیے یہی کافی ہے۔ خدا نے پھر جاری رکھا: لیلی ایک مہم جوئی ہے، ایک مہم جوئی سے بھرا ہوا راز ہے، ایک ایسی مہم جوئی ہے جسے آپ کو تخلیق کرنا ہے۔”
(باقی دوسری قسط میں۔۔۔۔!!)
