127

بصارت چھیننے والو….!!!!

پرویز مانوس

 

مجھے سب یاد ہے اب تک میں کتنی خوبصورت تھی
سُنہری بال تھے میرے، گلابی ہونٹ میرے تھے
مرے رُخسار کو کشمیر کا سب سیب کہتے تھے
مرے ماں باپ نے مجھ کو بڑے نازوں سے پالا تھا
سبھی کہتے تھے بچپن میں سُہانی ہیں میری آنکھیں
سحر انگیز کہتا تھا، کوئی تھا جھیل سا کہتا
شفقت میں کوئی بادام سے تشبیہہ دیتا تھا
سبھی کہتے تھے یہ آنکھیں خُدا کی ایک نعمت ہیں
تھا گرویدہ ہر اک کاجل بھری ان میری آنکھوں کا
نظر بھر کر جو کوئی دیکھتا مبہوت رہ جاتا
میرے گھر میں نہیں تھا آئینہ میں دیکھتی خود کو
مجھے احساس ہوپاتا میں کتنی خوبصورت ہوں
مگر ایسا ہُوا اک دن سکھی کے گھر میں جا پہنچی
بڑے سے آئینے میں خود کو میں نے جس گھڑی دیکھا
خُدا کا شکر کرنے کے بجائےخود پہ اِترائی
نظر خود ہی کی شاید لگ گئی ان میری آنکھوں کو
تکبر میں کوئی الفاظ شاید لب سے نکلے تھے
اُسی اک بھُول پر مجھ سے خُدا بے زار ہو بیٹھا
شکاری آ گئے اک دن اچانک شہر میں میرے
مچایا اسقدر تانڈو، بنایا شہر کو جنگل
انہیں معلوم تھا جنگل میں اُن کو کون پوچھے گا
اُنہی کا راج تھا، قانون بھی تھا ہاتھ میں اُن کے
چلائے تیر سارے شہر پر، برسا دئیے چھرے
کئی چھرے ہوئے پیوست میرے پھُول چہرے پر
شکاری ہو گئے مسرور میری پھوڑ کر آنکھیں
میں اُن سے پوچھتی ہوں بس مجھے اتنا بتا دو تم
اندھیری زندگی کر کے مری اب کیا ملا تم کو
خطا میری کوئی ایسی بتا دو جس کے بدلے میں
سزا سنگین دینے کی ہوا فرمان یہ جاری
خطا اتنی سی تھی میری، تھی میں فطرت کی دلدادہ
فلک کی وسعتوں میں دیکھتی تھی اپنے خالق کو
مچل اُٹھتی پرندوں کی قطاریں دیکھ کر اکثر
فنا ہوتے میں شبنم دیکھتی تھی گُل کے دامن میں
ہرے میداں میں چونچیں مارتا میں دیکھتی ہُد ہُد
میری آنکھوں کو منظر جھیل کا کتنا لُبھاتا تھا
کبھی گھنگھور بادل سے بھی آنکھیں میں ملاتی تھی
بڑھا کر ہاتھ راتوں کو نکلتی چاند چھُونے کو
خیالوں میں بناتی اوڑھنی ان کہکشاؤں کو
میرے دل میں بھی تھی خواہش بہت سے خواب تھے میرے
مگر اب کیا بتاؤ. زندگی اک بوجھ لگتی
تمہیں کیسے بتاؤں میں اندھیرے کا کرب کیا ہے
اگر تم پرکبھی گُزرے تمہیں احساس ہو جائے
کسی سے چھیننا آنکھیں جلادی کام ہوتا ہے
خُدا کی نیک بندوں سے بصارت چھیننے والوں
خُدا کے سامنے تم کون سا مُنہ لے کے جاؤ گے
لگا ہے خون دامن پر اُسے کیسے مٹاؤ گے
اگر تم دے نہیں سکتے کسی کو روشنی تو پھر
تمہیں کیا حق پہنچتا ہے کسی کی چھین لو آنکھیں
ہے میری بد دُعا تجھ کو اے میرے شہر کے حاکم
تیری اولاد بھی گُزرے کبھی ایسی اذیت سے
لگیں جب ٹھوکریں اُس کو تجھے احساس ہو جائے
بصارت سے جنہیں محروم تم نے کردیا اک دن
اندھیرا دیکھ کر دن میں بھی ان پر کیا گُزرتی ہے
گزارش ہے مری تم کبھی پھر طیش میں آ کر
کسی معصوم بچےّ کی بصارت چھین مت لینا
اُسے کھانے کو ٹھوکر راہ میں پھر چھوڑ مت دینا
سجے ہیں اُس کی آنکھوں میں جو سپنے توڑ مت دینا
سجے ہیں اُس کی آنکھوں میں جو سپنے توڑ مت دینا
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر ۔۔۔۔۔۔9622937142

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں