دہائیوں سے بستہ خاموشی میں پڑے مسائل کو حل کرنے کیلئے مزید وقت درکار/منوج سنہا
ڈیسک
عوام کو مشکلات سے چھٹکارا دلانا ان کے مسائل کو حل کرنا، راحت و آرام پہنچانا سرکار کی اصل بنیادی اور منصبی ذمہ داریوں میں سرفہرست ہے ۔ مقبول سرکار وہی کہلاتی ہے جسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو۔ اور جو عوامی توقعات پر پورا اترنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرے۔ کسی بھی حکومت کیلئے لازمی اور بنیادی ذمہ داری ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات و سہولیات میسر ہوں۔ اُن کے مشکلات دور ہوں اور اُن کی جائز شکایات کا بلا تاخیر ازالہ ہو۔ اس سلسلے میں انتظامہ کا فعال، متحرک، جوابدہ، ہر کام ہر چلینج اور ہ مسئلے کو خوش اسلوبی اور عوامی توقعات کے عین مطابق حل کرنے کیلئے مستعد ہونا ضروری ہے۔حالیہ کئی میٹنگوں کے دوران لیفٹنٹ گورنر نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ زمینی سطح پر لوگوں سے جڑیںتاکہ ان کے مسائل کو بلاتاخیر و تامل حل کیا جاسکے۔ لیفٹنٹ گورنر کو یقین ہے کہ افسران و اہلکار تن دہی، لگن، ایمانداری ، احساس ذمہ داری، فرض شناسی اور خلوص نیت کے ساتھ اپنے فرائض منصبی انجام دیں تو عوامی فلاح و بہبود کو یقینی نہ بنانے کی کوئی وجہ نہیں۔ انہوں نے پھر یقین دلایا ہے کہ وہ عوام کو شفاف ، جوابدہ ، فعال و متحرک انتظامیہ فراہم کریں گے اور حکمرانی کو یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموںوکشمیر کو برسوں بلکہ دہائیوں سے جو مسائل درپیش ہیں اُن کی جانب بر وقت اور مناسب ضرورت ، توجہ مبذول نہ کرنے، اُن مسائل کو سردخانے کی نذر کرنے سے ان کی مدت اور بروقت اور حسب ضرورت توجہ مبذول نہ کرنے، ان مسائل کو نظر انداز کرنے سے ان کی شدت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ان کو راتوں رات حل نہیں کیا جاسکتا۔ ماہ و سال گزرنے ساتھ ساتھ شہر و قصبہ جات اور اب دیہی علاقوں میں بھی مسائل و مشکلات بڑی تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ موجودہ دور میں بجلی کے مسائل نے لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے ۔ دہائیاں گزرنے کے باوجود بجلی کے سنگین مسائل کو حل نہیں کیاجاسکتا ہے۔ اکتوبر کے مہینے سے ہی وادی میں غیر اعلانیہ بجلی شیڈول پر عمل درآمد جاری ہے ۔ چیف انجینئر کا کہنا ہے کہ وادی میں بھی ابھی بجلی کٹوتی کا شیڈول جاری نہیں کیا گیا ہے اس کے باوجود وادی میں دن رات بلا وجہ بجلی کی سپلائی روک دی جاتی ہے یہاں تک کہ چیف سیکریٹری کو بھی بجلی بحران پر بیان جاری کرنا پڑا۔ ہر سال موسم سرما کے آغاز پر حکومت کی طرف سے بیان جاری کیا جاتا ہے کہ اب کی بار عوام کو 24گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنادی جائے گی۔ جبکہ اکتوبر ے آغاز سے ہی لوگوں کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے بجلی فیس کی ادائیگی کرتے ہیں تو انہیں بلا وجہ پریشان کیوں کیا جاتا ہے ۔ نہ صرف بجلی کی عدم موجودگی سے گھریلو مسائل بڑھنے میں بلکہ اس سے عوام کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
