ڈیسک
جموں وکشمیر میں ٹورازم کو ریڈھ کی ہڈی کا نام دیا گیا ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح سیاحت کی غرض سے کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ وادی کشمیر کیلئے پہلگام، گلمرگ اور سونہ مرگ انمول ہیروں سے کم نہیں ہے ان کو وادی میں سیاحت کے سرپر لعل و جوہر سے تعبیر کیا جاتا ہے ان کی برکت سے وادی کا حسن و جمال برقرار ہے۔ اور اس کو روئے زمین پر جنت ہونے کا درجہ عطا ہوا ہے۔ سرینگر سے 100کلو میٹر کی دوری پر واقع پہلگام کو وادی کشمیر میں سیاحت کا سرتاج کہا جائے تو بے جا نہیں۔ آج پہلگام کا حسن و جمال پھیکا پڑ رہا ہے اگر صورتحال یہی رہی تو یہ جگہ سیاحوں کی توجہ سے ہٹ کر آوارہ مویشوں کی پسند کی چراگاہ بن جائے گی۔ پہلگام حسن کا ایک بے مثال نمونہ تھا۔
لیکن آج اس کے چہرے پر داغ ہی داغ ہیں۔ 30برس قبل جب پہلگام کا رخ کیا جاتاتھا تو اننت ناگ سے ہی ایک حسین وادی میں داخل ہونے کا احساس دل کو چھولیتا تھا۔ حالانکہ اننت ناگ سے آگے پہلگام تک 45کلو میٹر کا فاصلہ ہے مگر آج پہلگام تک پہنچنے کیلئےرُکاوٹوں کی ٹنل میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ گنجان آبادیوں کو چیر کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ کئی جگہوں پر دائیں بائیں مکانوں کی قطار میں درمیانی راستہ اتنا تنگ ہے کہ گاڑیوں کو رک رک کر چلنا پڑتا ہے پہلگام سے آگے پہاڑوں کی چٹانوں پر برف کے پگھلنے سے جو پانی بہتا ہے وہ ایک نالہ کی شکل میں بل کھاتے ہوئے بہت دور تک چلا جاتا ہے۔ نالہ لدر کے نام سے پانی کا یہ چلتا پھرتا زخیرہ کسی زمانے میں آنکھوں کو فرحت اور کانوں کو سنگیت کا احساس دلاتا تھا ۔ لیکن آج کل یہ نالہ بے شمار مقامات پر نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے جس طرح گھنے بادلوں میں سے کبھی کبھی چاند نظر آتا ہے اسی طرح دوکانوں مکانوں اور بے ترتیب ڈھانچوں اور دیواروں نے اس نالہ کو اپنے حصار میں لیکر سیاحوں کو اس کی طرف دیکھنے سے پوری طرح محروم رکھا ہے۔ پہلگام پہنچ کر بھی یہ نالہ بڑے بڑے اور اونچے اونچے ہوٹلوں کے سایہ میں گم ہوگیا ہے۔ اور ستم ظریفی تو یہ ہے کہ کناروں پر ہوٹلوں اور دکانوں سے برآمد ہونے والا کوڈا کرکٹ اسی نالہ کی نذر ہوتا ہے پہلگام میں جب ٹورسٹ گاڑیاں اور سومو پہنچ جاتی ہے تو سیاحوں کو ان میں سے اتر کریہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی صحت افزا مقام پر نہیں پہنچے ہیں بلکہ کسی بازار میں بھٹک گئے ہیں۔
پہلگام میں نالہ لدر ہی اس کا سرمایہ ہے اسی کے سبب اس مقام کو عظمت کا درجہ ہے یہی وہ نالہ ہے جس کے کناروں پر بیٹھ کر یا چہل قدمی کرکے ایک سیاح کو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی وہ اس سرزمین پر جنت کے کسی ٹکڑے پر کھڑا ہے۔ یہی وہ نالہ ہے جس کے شور سے شاعر تو کیا ایک عام راہ گیر بھی لطف سے سرشار ہوتا ہے۔ اس نالہ کی اپنی ایک تاریخی اہمیت اور حیثیت ہے دنیا میں بے شمار علاقے ہیں جہاں پہلگام سے زیادہ خوبصورتی اورپر کشش مناظر ہیں۔ مگر وہاں آبشاروں کی کمی نے انہیں نامکمل بنا کے رکھ دیا ہے۔ پہلگام ایک خوبصورت وادی کا کا نام ہے جہاں چاروں طرف پہاڑوں کے سلسلہ کو دیکھ کر قدرت کی کاری گری کی انتہا کا احساس ہوتا ہے نالہ لدر کی روانی ، اس کا رقص اس کے بدن سے اچھلے سفید و شفاف پانی کی چھینٹیں دیکھنے والے کو مسرور بنا کے رکھ دیتی ہیں۔ مگر یہ سب ماضی کی باتیں ہیں۔ آج اس کے گندی نالی میں تبدیل ہونے کے آثار دور سے ہی نظر آتے ہیں یہ نالہ متعلقہ حکام کی لاپرواہی کے سبب اپنی جوانی کھو رہا ہے۔ پہلگام سے چندن واڑی کے کنارے ہوٹلوں کی موجودگی نے اس وادی کا حسن چھین لیا ہے۔بے تاب ویلی کے حسن کو بھی ماحولیاتی آلودگی رفتہ رفتہ نگل رہی ہے۔ ایک سیاح آرام اور سکون سے اپنی چھٹیوں اور سیر و تفریح کے دن گذارنا چاہتا ہے۔ سیاح ہمارے مہمان ہیں۔ اور اکی میزبانی کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہوٹل پہلگام، ہوٹل ہیون، ہوٹل پائن اینڈ پیک کو سینکڑوں فلمی ستاروں کی مہربانی کا اعزاز حاصل ہے حال ہی میں عمران ہاشمی جب شوٹنگ کی غرض سے کشمیر آئے تو انہوںنے اپن یفلم کی شوٹنگ کیلئے پہلگام کا انتخاب کیا۔ جبکہ 80کی دہائی میں معروف اداکار اجندر کمار کے بیٹے کمار گورو کی فلم کی شوٹنگ پانی سرن پہلگام میں ہوئی۔
برسوں قبل راقم کی ملاقات پہلگام میں آنجہانی ونود کھنہ اور راج ببر سے ہوئی۔ جون کے مہینے میں فلم اداکار عامر خان کی اہلیہ بھی پہلگام میں موجود تھیں۔ حاجی خضر محمد ڈار کا کہنا ہے کہ 50سے 70کی دہائی میں ان کے والد ٹورسٹ گائیڈ تھے وہ اکثر غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ پہلگام کے دور دراز مقامات پر جاتے تھے۔ غیرملکی سیاح ان مقامات پر خیمے نصب کرکے چیڑیوں کی چہچہاٹ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ جموںوکشمیر کےایک معروف ادیب، شاعر اور براڈ کاسٹر زاہد مختار کا کہنا ہے کہ اب پہلگام کے حسن میں وہ نزاکت کہاں ۔ آج سے چند برس قبل لارکی پورہ میں رہائش پذیر 120برس کے ولی محمد نے راقم کو بتایا کہ اس نے وصیت کی ہے کہ مرنے کے بعد اس کی لاش لدر میں بہا د ی جائے کیونکہ لوگ اب پہلگام کے قبرستان کو بھی رہائشی بستی میں بدلنا چاہتے ہیں۔
128
