سبزار احمد بٹ
قسط 1
کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس ملک کا سب سے اہم وسیلہ یعنی انسان کتنے قابل، ذہین اور ہنر مند ہیں کیونکہ اگر ملک کے لوگ خاص کر نوجوان قابل، ذہین اور ہنر مند ہونگے تو وہ ملک کے باقی ماندہ وسائل کا بہترین استعمال کر سکتے ہیں اور کم سے کم وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ملک کے نوجوانوں کو ذہین قابل اور ہنر مند ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ ملک کی تعلیمی پالسی کیسی ہے۔اگر تعلیمی پالیسی بہتر ہو تو قوم کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کا ابھرنا یقینی ہے اور اگر تعلیمی پالسی بہتر نہ ہو تو قوم کے نوجوانوں کا ذہن قند ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔تعلیمی پالسی کے دوررس نتائج ہوتے ہیں اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ تعلیمی پالیسی کے واضح اور بہتر نہ ہونے سے ملک کے نوجوانوں میں پہلے سے موجود صلاحیتوں کا معدوم ہونا طے ہے بقولِ علامہ اقبال
یوں بچوں کے قتل سے وہ بدنام نہ ہوتے افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
بھارت نے بھی وقتاً فوقتاً مختلف تعلیمی پالیساں بنائیں اور وقت کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ان میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں لیکن قومی پالسی برائے تعلیم۔۔۔ 2020 ایک ایسی تعلیمی پالسی ہے جو پچھلی تمام تر تعلیمی پالسیوں کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہے اس پالیسی کو پڑھ کر بلا جھجھک یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک منفرد تعلیمی پالیسی ہے اور جدید تقاضوں کو پورا کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے قومی پالسی برائے تعلیم 2020 کا مقصد نوجوانوں کو عالمی سطح کے مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی طور تیار کرنا، طلاب میں غوروفکر کو فروغ دینا،اعلیٰ انسانی اقدار کی پاسداری کے ساتھ ساتھ بھارت کی روایات اور اقدار کی حفاظت ہے۔ قومی پالسی برائے تعلیم۔۔۔2020 کے چند اہم اور منفرد نکات یوں ہیں
اس تعلیمی پالسی کا مقصد ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے تعلیمی ڈھانچے کے تمام پہلوؤں کو ازسر نو ترتیب دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ یہ تعلیمی پالیسی اب تک کی بہترین تعلیمی پالیسی ثابت ہو۔
بنیادی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے آنگن وارڑی اساتذہ جن کی تعلیمی قابلیت 2+10ہو کو ECCE میں چھ ماہ کا کورس کرایا جائے گا اور جن اساتذہ کی تعلیمی قابلیت اس سے کم ہو انہیں اس سال کا کورس کرایا جائے گا۔
* آنگن وارڑی سینٹروں کو کھیل کود کا سامان فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے ڈیزائن اور ہوا دار عمارات کا بھی انتظام کیا جائے گا ۔
ECCE *
نصاب تیار کرنے کی ذمہ داری HRD کو ہوگی تاکہ تعلیم کے بنیادی پہلوؤں پر توجہ مزکور کی جا سکے۔اور اس کے تحت آنگن وارڑی سینٹروں کے لیے باضابطہ تعلیمی فریم ورک مرتب کیا جائے گا ۔
* نصاب کا ذکر کریں تو بنیادی خواندگی اور اعداد کے علم کے ساتھ ساتھ پڑھنے، لکھنے، بولنے، گننے اور حساب کی سوجھ بوجھ پر خصوصی توجہ دی جاتی گی۔
*اساتذہ کی خالی اسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے گا خصوصاً ان علاقوں میں جہاں شاگرد اور استاد کا تناسب PTR زیادہ ہے ۔
* طالب علم کی صلاحیتوں کو فرداً فرداً پہچاننے اور تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان صلاحیتوں کو فروغ دینے پر زور دیا جائے گا۔
امتحان کی تیاری اور رٹنے سے زیادہ سوچنے، سمجھنے اور غوروفکر کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔
*سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے طلبا کے آپسی جوڑ peer tutoring والے طریقہ کار کا اپنایا جائے گا۔اس طریقہ کو کھیل سرگرمی کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ بچے آپسمیں میں زیادہ سیکھتے ہیں ۔
*لسانی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ درس و تدریس میں ٹیکنالوجی کا وسیع اور بہترین استعمال کیا جائے گا۔
اسکولوں میں رائج 2+10 نظام کو تبدیل کر کے 4+3+3+5 پر مبنی ہوگا۔
ای ی سی ای( ECCE)کو فعال اور آفاقی بنانے کے لیے آنگن واڑی سینٹروں کا ڈھانچہ مضبوط کیا جائے گا۔ آنگن واڑی مراکز اور اسکولوں کا تال میل مظبوط کیا جائے گا۔
*بچوں میں تغزیہ کی کمی کو دور کرنے اور انہیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔اور انہیں تغذیہ سے بھر پور کھانا فراہم کیا جائے گا۔
* اسکول چھوڑنے والے طلاب کو دوبارہ اسکول لانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔۔اور اسکولوں میں بہتر ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ دوبارہ سے اسکول نہ چھوڑیں ۔
*اسکولی تعلیم اور درس و تدریس کے نصاب کو نئے سرے سے ترتیب دیا جائے گا۔ ایسا نصاب تیار کیا جائے گا جو طالب علموں کو سوچنے سمجھنے پر مجبور کرے نہ کہ رٹنے پر اور جو 21ویں صدی کے جدید تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔
*ہر مضمون میں نصاب کم کر دیا جائے گا۔اتنا ہی نصاب رکھا جائے گا جو تنقیدی نظرئیے، ہمہ گیر سوالات، ایجاد، بحث و مباحثے اور تجزیے پر مبنی ہو۔اور مختلف مضامین میں آپسی ربط اور تال میل کو یقینی بنایا جائے گا۔
* کھیل سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا ملک کے گھریلو کھیلوں کی مدد سے تعلیمی سرگرمیوں کو انجام دیا جائے گا۔ تاکہ ملک کے بچے صحت مند رہ سکیں
*طلبا کو مضامین کے انتخاب میں مکمل آزادی دی جائے گی خصوصاً ثانوی سطح کے اسکولوں میں ۔تاکہ آرٹ، سائنس اور دیگر تعلیمی شعبوں میں حدبندی کو کم کیا جائے ۔تاہم کچھ مضامین ایسے ہونگے جن کا انتخاب سب کے لیے لازمی ہوگا۔
*چھٹی سے آٹھویں جماعت کے ہر طالب علم کو ہر سال ایک ہلکا پھلکا کورس کرایا جائے گا جس میں وہ محظوظ ہوگا یہ کورسز نہ صرف آن لائن بلکہ چھٹیوں میں بھی جاری رکھے جائیں گے
*بچوں کو مختلف زبانیں سکھائیں جائیں گی خاص کر ابتدائی جماعتوں میں کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں بچے زبانیں بہت جلد سیکھتے ہیں لیکن زور مادری زبان پر ہی ہوگا کیونکہ مادری زبان میں انسان بہتر انداز میں سیکھتا ہے بہ نسبت کسی اور زبان کے ۔خاص کر جب بات مشکل نظریات کی ہو تو انہیں اپنی مادری زبان سے بہتر کسی اور زبان کی نہیں سمجھا جا سکتا
*”ایک بھارت سریشٹھ بھارت ” کے تحت طلاب مختلف زبانوں میں منعقد کیے جائیں جانے والی سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔تاکہ ان کو پتہ چلے کہ بھارت کے کس خطے میں کون سی زبان بولی جاتی ہے۔
* اگر چہ دسویں اور بارہویں جماعت کے لیے بورڈ امتحانات کا سلسلہ جاری رہے گا تاہم بورڈ اور داخلہ امتحانات کے موجودہ نظام میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ کوچنگ کلاسز کی ضرورت کو کم کیا جا سکے۔اور بورڈ امتحانات کو آسان بنایا جا سکے۔
* قومی پالسی برائے تعلیم ۔۔2020 میں اس بات گنجائش رکھی گئی ہے کہ بہترین کارکردگی کرنے والے اساتذہ کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی۔اس کے لیے اور واضح اور میرٹ پر مبنی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا ۔
2030 تک کثیر مضامین والے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کو اعلیٰ اور معیاری ٹریننگ فراہم کی جائے گی ۔ان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے اساتذہ کو B. Ed, M. Ed اور ph. D کی اسناد بھی فراہم کی جائیں گی ۔
* مزکورہ پالسی میں معذور بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جانے کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے لیے خصوصی تربیت یافتہ اساتذہ بھی فراہم کئے جائیں گے۔
* ایسے مقامات جہاں بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے دور سے آنا پڑتا ہے پر جواہر نوودیالیہ طرز پر رہائشی اسکول تعمیر کئے جائیں گے۔
*سرکاری اور نجی اسکولوں میں تال میل بڑھایا جائے گا تاکہ یہ اسکول اپنے تجربات ایک دوسرے سے بانٹیں گے ان تجربات کو دستاویزی شکل بھی دی جائے گی تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
* سرکاری اسکولوں اور اساتذہ کے وقار کو بحال کیا جائے گا۔اسکولوں کے یوم تاسیس کے موقع پر مختلف پروگرام منعقد کرائے جائیں گے ان تقریبات میں معاشرے کے لوگوں کو مدعو کیا جائے گا۔اور فارغین کی فہرست آویزاں کی جائے گی ۔
�����
جاری ۔۔۔
سبزار احمد بٹ
اویل نورآباد
