لیکھہا 109

نہ سوز دل کبھی نہ آرام جان ملا

خاموش رفیق

نہ سوز دل کبھی نہ آرام جان ملا
جب ملا بھی کچھ تو بس الزام ملا

وہ سکوت شب آہستہ سکتہ بن گیا
جس میں نہ اُن سے کوئی پیغام ملا

رہی ہر دم کشتی میری در اضطراب
وفا کا مجھے بھی کیا خوب انجام ملا

ہوئے ہیں کمر بستہ غم مجھے ڈھانے کو
وہ اور تھے جنہیں ساقی سے جام ملا

کوئی ہمدم نہیں اس شہر ویران میں
اب اپنا نام بھی ملا تو وہ بھی بدنام ملا

تلاطُم اُٹھ گیا تھا بزم میں جب ہم آئے
گُل سمجھے تھے ہم اُن کو جنکو گُل اندام ملا

آوردہ من ہمیشہ سر گوشیوں میں خاموشؔ
اس کار سازِ دنیا میں ہمیشہ ناکام ملا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں