گوشہ اطفال
کہانی پرویز مانوس
نوٹ :- پرویز مانوس جموں کشمیر کے معتبر شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور ترجمہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے بھی کافی ادب لکھ چکے ہیں ،اس وقت تک وہ مختلف اصناف میں بیس سے زیادہ کُتب لکھ چکے ہیں، انہیں بہترین ادب تخلیق کرنے کے عوض چار مرتبہ سرکاری اعزازات سے بھی نوازہ جا چکا ہے اس کے علاوہ کئی غیر سرکاری اداروں کی طرف سے اعزازات سے نوازا گیا ہے، وہ جموں کشمیر میں واحد ادبی تنظیم “کاروانِ شعرائے اردو” کے سرپرست اعلی بھی ہیں، آج کے شمارے میں بچوں کے لئے پیش ہے ان کی لکھی کہانی _۔۔۔۔
ساجد ایک غریب کسان تھا۔ پورا سال محنت کرنے کے بعد جس وقت وہ اناج کو سنبھالنے لگتا تو اُسی وقت گائوں کا زمیندار اپنے قرضے کے عوض آدھے سے زیادہ غلہ اٹھالے جاتا اور اس طرح ساجد بے چارہ وہیں رہ جاتا، جہاں وہ پہلے تھا۔ اس میں بھی وہ خدا کا شکر ادا کرتا اور جیسے تیسے اپنے عیال کو پا لتا۔ آج کے زمانے میں چار بچے کم نہیں ہوتے۔ اُن کی پڑھائی لکھائی اور کپڑے لتے کا بندوبست کرنا ساجد کے لئے بہت ہی مشکل کام تھا۔ پھر بھی وہ کوشش کرتا تھا کہ سبھی بچّوں کو خوش رکھ سکے۔ ہر سال وہ سوچتا کہ اس سال زمیندار کا قرضہ ادا کر کے کچھ روپے اکٹھے کرے گا کیونکہ اُس کے گھر میںجوان بیٹی مہندی کے لئے ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھی تھی لیکن اتنی محنت کرنے کے باوجود بھی ہر سال اُس کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا تھا۔ زمیندار کا قرض وہیں کا وہیں ٹِکا ہوا تھا۔ ساجد بے چارہ تو صرف سود کی رقم چکا پاتا تھا۔ وہ بولے بھی تو کس کو؟ اس کی کون سنتا… ایک سال فصل بہت کم ہوئی اور ہر بار کی طرح اس بار بھی زمیندار عین وقت پر پہنچ گیا۔ ساجد کے پاس کھانے کے لئے بہت کم اناج تھا۔ اسی دوران رمضان کا مبارک مہینہ بھی آگیا۔ ساجد اور اس کے گھر والے نماز اور روزوں کے بہت پابند تھے۔ وہ روکھی سوکھی کھا کر بھی رب کا شکر بجا لاتے تھے۔ نصف سے زیادہ روزے گزرچُکے تھے کہ ایک روز ساجد کی بیوی اُس سے کہنے لگی ’’ اَجی سنتے ہو، آج کا دن مشکل سے گزر سکے گا کل کہیں سے مکی یا گندم لے کر آنا ،نہیں تو فاقے کی نوبت آجائے گی۔ اوپر سے رمضان کا مہینہ چل رہا ہے‘‘۔ ساجد کہنے لگا ’’ اَری تو مت گھبر،ا جس رب نے ہمیں پیدا کیا ہے ،اُس نے ضرور کوئی نہ کوئی بندوبست کر رکھا ہوگا۔ خدا تو دیتا ہے پر بندہ بے صبرا ہوتا ہے۔ اذان کی آواز سنتے ہی ساجد اور اس کے گھر والوں نے روزہ افطار کیا۔ نماز ادا کرنے کے بعد سارے دسترخوان بچھا کر کھانا کھانے لئے بیٹھ گئے۔ نوراں نے باری باری سب کے برتن میںکھانا پروسا لیکن اُس کے اپنے کھانے کے لئے کچھ نہیں بچا ، اس نے کسی کو بھی نہیں بتایا کیونکہ وہ بہت عقلمند اور صبر والی عورت تھی۔ ساجد نے کہا’’ نوراں! اپنے لئے بھی پروسو، اکٹھے کھاتے ہیں۔ نوراں بولی، آپ سبھی آرام سے کھائو، میں بعدمیں کھالوں گی، ویسے بھی ابھی بھوک نہیں ہے‘‘ ’’اچھا تمہاری مرضی‘‘ کہہ کر ساجد نے روٹی کا ٹکڑا کاٹا ہی تھا کہ باہر سے کسی کی آواز آئی۔ ساجد روٹی وہی چھوڑ کر درازے تک پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ ایک بزرگ آدمی ،سفید داڑھی اور سبز رنگ کے لمبے کرتے میں ملبوس۔ ایک ہاتھ میں عصا تو دوسرے میں کاسہ لیئے کھڑا تھا۔ ساجد نے پوچھا ’’بابا جی کیا حکم ہے؟ آپ کو کیا چاہیے؟ ‘‘اللہ ہو اکبر بابا کو بھی افطار کروا دو‘‘ بزرگ نے سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ساجد بیوی کے پاس لوٹ آیا اور کہنے لگا ’’ نوراں! باہر ایک بزرگ کھڑا ہے۔ کچھ روٹی اور سبزی ہو تو دے دو۔ کسی کو افطار کرانا ثواب کا کام ہے‘‘’’وہ تو میں بھی جانتی ہوں لیکن یہ دیکھو‘‘ نوراں نے ساجد کو روٹی کی ٹوکری دکھاتے ہوئے کہا۔’’ اُسے کہہ دو معاف کردے۔ ہم اُس کے آگے بھی سچے ہیں اور رب کے آگے بھی۔ ٹوکری خالی دیکھ کر ساجد کی سمجھ میں آگیا کہ نوراں نے خود کے لئے تھالی کیوں نہیں پروسی۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اتنے میں باہر سے ایک اور آواز آئی…’’اللہ کے نام پر کچھ دے دو‘‘ آواز سن کر ساجد اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ سارے بچّے نوالہ بھر چکے تھے۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اُس نے اپنی تھالی اٹھائی اور دروازے کی طرف چل دیا۔
’’بابا جو کچھ ہے، یہی ہے۔ کھا لیجئے‘‘ اُس بزرگ نے ایک نظر روٹی کی تھالی پر اور دوسری ساجد کے چہرے پر ڈالتے ہوئے کہا ’’ وہ بڑا کار ساز ہے۔ وہ بے نیاز ہے‘‘ پھر اُس بزرگ نے روٹی کھائی اور اپنی لمبی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔’’خدا تجھے اور زیادہ عطا کرے اور تمہاری سب مرادیں پوری ہوں‘‘
یہ سن کر ساجد کہنے لگا ’’ اس طرح سے مرادیں پوری ہونے لگیں تو پھر کوئی غریب ہی نہ رہے‘‘اُس بزرگ فقیر نے زور سے کہا ’’ اللہ اکبر، نادان انسان !رب کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا چا ہیے۔ وہ بڑا رزاق ہے‘‘ ساجد سے رہا نہ گیا……… وہ بول پڑا ’’ بے شک وہ رزاق ہے لیکن کیا فائدہ؟ ہمارے گھر میں توسحری بنانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ یہ کیسی رزاقی ہے؟‘‘ بزرگ فقیر نے پھر گرجدار آواز میں کہا’’اللہ اکبر، وہ رحیم وکریم ہے، وہ چاہے تو مٹی کو سونا اور سونے کو مٹی بنا دے اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنا چا ہیے‘‘ ساجد جل بھُن کر بولا ’’ بابا…! میں تب مانوںَ اگر میرے گھر میں بھی دس من مکئی اور دس من چاول ہوں‘‘یہ سن کر بزرگ فقیر بولا’’بڑا ہی خود غرض ہے انسانَ یہی مراد ہے تمہاری؟‘‘ ساجد مسکرائے بولایہی پوری ہو جائے تو بڑی بات ہے‘‘ بزرگ فقیر نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا پھر اپنے کاسہ میں سے مٹی کی ایک ڈلی نکال کر ساجد کو دیکھتے ہوئے کہا’’،یہ لے جا تمہاری مراد ضرور پوری ہو جائے گی‘‘ ساجد نے مٹی کی ڈلی کو دیکھتے ہوئے کہا’’یہ کیا؟ مٹی؟ ‘‘بزرگ نے کہا’’ہاں وہی مٹی ہے،جس سے رب نے انسان کو بنایا‘‘ آخر سب کو ایک دن اسی مٹی میں جانا ہے۔ اللہ اکبر…اکبر… ‘‘کہتے ہوئے وہ بزرگ فقیر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ ساجد بھی گھر کے اندر چلا آیا اور اس نے وہ مٹی کی ڈلی غصے سے پیتل کے ایک گلاس میں رکھ دی اور بڑ بڑانے لگا،،مراد پوری ہو جائے گی… یہ فقیر لوگ بھی نہ عجیب وغریب باتیں کرتے ہیں… اندھیرا گھنا ہو چکا تھا۔ رات اگلے پڑائو کی طرف بڑھ رہی تھی گھر کے سارے افراد یہ سوچ کر سو گئے کہ سحری کے وقت پانی کی گھونٹ پی کر روزدار رہیں گے۔
سحری کے وقت نوراں نے سب کو جگایا، سب نے پانی کی ایک ایک گھونٹ پی کر صبر شکر اداکیا تو ساجد بھی پانی پینے کے لئے گلاس اُٹھانے لگا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جس گلاس میں اس نے بزرگ فقیر کی دی ہوئی مٹی کی ڈلی رکھ دی تھی… وہ گلاس سونے کا ہو گیا تھا۔ ساجد کو اس بزرگ فقیر کی ساری باتیں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں… وہ بہت خوش ہوا اور سب کو گلاس دکھاتے ہوئے کہنے لگا…’’ یہ دیکھو گلاس سونے کا بن گیا… گلاس سونے کا بن گیا‘‘ ساجد سوچنے لگا واقعی خدا چاہے تو ایک ہی لمحے میں مٹی کو سونا اور سونے کو مٹی بنا دے۔ وہ بڑا رزاق ہے… وہ بزرگ فقیر ضررور خدا کا کوئی فرشتہ ہوگا…
نصیحت:۔ پیارے بچّو! یہ سچ ہے کہ خداکی راہ میںدیا ہوا کبھی ضائع نہیں جاتا اسلئے سخاوت ضرور کرنی چاہئے۔
