غزل
کوثر منظور خان
بٹہ گنڈ قلم آباد ماور کشمیر
حُسن کی پریوں کو دیکھے ہر گلی پھرتا رہا
آرزوئے زیست میں ہر روز ہی مرتا رہا
میرے دل میں جو تیری تصویر تھی خوں سے نقش
اور اجاگر کرتے کرتے میں اسے مٹتا رہا
میں کسی کے عشق میں ہوں مبتلا اک عمر سے
پوچھنے پر میں مگر انکار ہی کرتا رہا
برف بھی گرتی رہی نامہ ربانی کی تیری
دامنِ دل میں مگر اک آگ میں بھرتا رہا
آخر اس نے قید مجھ کو کر ہی ڈالا دام میں
ذلف کی زنجیر سے میں عمر بھر ڈرتا رہا
جب کہا میں نے اسے اپنے دل کا حال تو
وقت تھا وہ آخری کوثر آہ بھرتا رہا
