گُل تنویر بانڈی پورہ
غم کی آندھیوں میں پلے ہیں کدھر جائیں
نم ہیں آنکھیں اور تمنا ہے کہ سدھر جائیں
یہ خدوخال ہے اپنا جو بکھرا ہوا آئینہ ہے
کب اس چمن میں اے باغبان سنور جائیں
خاموش سمندر کی طرح دل کو کیا ہے قابو
ڈر ہے لہروں کی طرح نہ کہیں بکھر جائیں
وہ بانکپن وہ ادائیں وہ مسکرانا اور وہ گنگنانا
تیر نیم کش کی طرح دل میں نہ اتر جائیں
ہو تیرا ساتھ تو ہے زندگی کی بہاریں ہماری
ورنہ ویرانی کی راہوں میں ہم کدھر جائیں
جل رہا ہوں میں اگر شمع کی طرح آہستہ
بجھ اگر جائے تنویر پروانے کدھر جائیں
