اظہار عقیدت 94

لگائے دل کو کسی کے لگاؤ میں رکھنا

غزل

( ذکی طارق بارہ بنکوی )

لگائے دل کو کسی کے لگاؤ میں رکھنا
فقط ہے خود کو ہمیشہ تناؤ میں رکھنا
جو سب کو کھینچ لے دیوانہ کرکے اپنی طرف
وہ حسن اپنی غزل کے رچاؤ میں رکھنا
بڑا عجب ہے زمانہ ہے کہتا عشق اسے
کسی کے دل سے دل اپنا ملاؤ میں رکھنا
ہے میرا مشورہ تھوڑی سی نرمی اے ہمدم
تم اپنی جنسِ محبت کے بھاؤ میں رکھنا
پتہ ہے، جس میں ہے اخلاق قیمتی ہے بہت
مگر یہ پلڑہ ہمیشہ جھکاؤ میں رکھنا
نہ جھومر اور نہ گلدان کی ضرورت ہے
مجھے تو اس کو ہے گھر کے سجاؤ میں رکھنا
اس اپنے حسن کے جاہ و جلال کے دم پر
تمہیں تو صرف ہے آتا دباؤ میں رکھنا
تو جس کو فیصلہء ترکِ قرب کہتا ہے
یہ تو ہے سیلِ لہو کو جماؤ میں رکھنا

( ذکی طارق بارہ بنکوی )
سعادت گنج،بارہ بنکی، اترپردیش

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں