ڈاکٹر تنویر طاہر
پل میں تمام رونقِ محفل اتر گئ
تم کیا گۓ کہ دل پہ قیامت گزر گئ
آخر یہ میرے عشق کی معراج ہی تو ہے
محفل میں ذکرِ یار چھڑا آنکھ بھر گئ
سوچا یہی تھا بھیڑ میں کھو جاۓ گے مگر
تنہائی دیدنی تھی جہاں تک نظر گئ
غم کی خزاں نے رنگ لہو یوں چڑھا دیا
برگِ چنار سی مری دنیا بکھر گئ
میں دار پہ بھی چین سے لٹکوں گا عمر بھر
گر مجھ کو مار کر تری دنیا سنور گئ
آمد پہ جس کی گرم تھا بازار رنگ و بو
تتلی وہ اب کے باغ میں آتے ہی مر گئ
بجھنے دیا نہ تا بہ سحر شمعِ طاق کو
شاید شبِ فراق بھی یادوں سے ڈر گئ
طاہر عجب تھا حال وہ ‘جب سامنا ہوا
آنسو رواں تھے جوش میں ‘دھڑکن ٹھر گئ
