حضرت ابراھیمؑ کا کردار اور وقت کا طاغوتی نظام 109

حضرت ابراھیمؑ کا کردار اور وقت کا طاغوتی نظام

شہنواز مصطفوی
(جب معاشرے پر گمراہی کا غلبہ ہوا زندگی کے عملی احوال سے انبیا کے عطا کردہ نظام فکر اور سعمل کا رابطہ کٹ کر چند اعتقادات اور عِبادات تک محدود ہوگیا اور رفتہ رفتہ وہ اعتقادات اور عِبادات بھی اپنی روح سے محروم ہوکر چند ظاہری رسوم میں بدل گئی)
انسانیت کو راہ ھدایت عطا کرنے کے لئے رب ذولجلال نے سلسلہ انبیاءؑ قائم فرمایا یہ وہ عظیم و مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے تاریخ کے ہر نازک موڑ پر گرتی ھوئی انسانیت کو سنبھالا دیا اور اسے پھر سے منزل کی طرف رواں دواں کردیا ۔اس طرح انسانیت کے عروج کا یہ سفر جاری رہا ۔یہ ہماری ملی تاریخ کا المیہ ہے کہ آج ان انبیاءؑ کی تاریخ کو صرف مذہبی تاریخ سمجھا جاتا ہے حالانکہ وسیع تر معنوں میں یہ تاریخ فلاح و بہبود انسانی (Human Amelioration) کی درخشاں تاریخ ہے کیونکہ یہ مبارک اور بابرکت ہستیاں سسکتی ھوئی انسانیت کی ذندگی کے ہر گوشے کو انقلاب آشنا کرنے کے لئے آتی رہی ۔انہوں نے مذہبی اصلاح کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کو ایک نظام، فکر وعمل بھی دیا مگر ان معنوں میں نہیں جو آج کل ہمارے معاشرے میں مروج ھو چکے ہیں بلکہ انبیاءؑ کا دیا ھوا نظام فکر وعمل توحیدورسالت کی بنیادوں سے اٹھنے والا ایسا نظام حیات عطا کرتا ہے جو عدل اجتماعی (Social Justice) پر مشتمل اور سماجی امتیاز(Social Discrimination) سے پاک و مبّرا ہے یہ نظام پوری نسل انسانی کے لئے ابدی فلاح کا ضامن اور محافظ بھی ہے ۔حضرت ابراھیمؑ بھی انہی مبارک ہستیوں میں سے ایک عظیم رسول اور پیغمبر ہیں حضرت ابراھیم ؑ اولولعزم رسولوں میں سے ایک رسول ہیں آپ انبیاء کرام میں نہایت جلالت شان کے حامل پیغمبر ہیں ۔آپ کو نہ صرف جدالانبیاء ھونے کا شرف حاصل ہے بلکہ آپؑ کے اکثر شعائر اور عبادات کو رب ذولجلال نے امت محمدی ﷺ کے لئے بھی لازمی قرار دیا (قد کانت لکم اسوة حسنة فی ابراھیم والذین معه)۔
اور تمہارے لئے تو ابراھیم اور اس کے ساتھیوں (کی ذندگی )میں ایک اعلی نمونہ موجود ہے۔
Indeed in Ibrahim and his companions there is an excellent example for you (to follow)
آپ ؑ کی بعثت کا مقصد بھی وہی تھا جو باقی انبیاء کی بعثت کا مقصد تھا توحید ورسالت اور آخرت جیسی بنیادی تعلیمات آپ کے مقصد بعثت کے بنیادی مشمولات تھے ۔قرآن کریم نے نہ صرف ان کی تفصیل بیان کی بلکہ آپؑ کی زندگی کے ابتدائی مراحل کے دوران تلاش حق کے لئے غور وفکر کو بھی بیان کیا کہ آپ کس طرح ترک آفل سے معبود حقیقی تک پہنچے اور آپ کی یہ تلاش حق کی یہ ساری جدوجہد اہل بصیرت اور راہ حق کے متلاشیان کے لئے اپنے اندر رہنمائی کا ان گنت سامان رکھتی ہے۔آپ کی قوم بتوں اور ستاروں کی پجاری تھی چچا آزر بھی بتوں کا پجارج بلکہ بیوپاری تھا دوسری طرف وقت کے طاغوتی نظام کا علمبردار حکمران وقت نمرود بھی خدائی کا دعوا کرتا تھا اور لوگوں سے اپنی عبادت کرواتا تھا گویا کہ قوم کے اندر عقائد اور اعمال دونوں میں ایک تغیر اور فساد برپا ھو چکا تھا ۔آپؑ نے اپنے چچااور قوم کو تبلیغ و نصیحت فرمائی اور بہت آسان اور خوبصورت فہم و دلائل سے سمجھایا کہ اللہ عزوجل ہی معبود برحق اور خالق وقادر ہے جبکہ تمہارے یہ خدساختہ خدا بے بس ولاچار ہیں ۔حضرت ابراھیمؑ نے وقت کے طاغوتی اور باطل نظام زندگی اور نظام بندگی کی بے بسی اور لاچاری کو ظاہر کرنے کے لئے کئی حکمت بھرے اقدامات بھی اٹھائے آپ کے ان بصیرت اور حکمت آموز اقدامات کو قرآن مقدس نے تقریبًا تیرہ سورتوں کی ایک سو ترہتر آیات میں بیان فرمایا ہے۔
حضرت ابراھیمؑ نے تبلیغ و نصیحت کا سلسلہ شروع فرمایا تو سب سے پہلے اپنے گھر سے ابتداء فرمائی آپ نے چچا آزر سے فرمایا۔
(واذ قال ابراھیم لابیه آزر اتتخذ اصناما الھة انی ارؠک وقومک فی ضلل مبین )
And recall when ibrahim said to his father Azar (He was in fact his paternal uncle and is called father according to Arabic usage) :Do you take the idols as Gods? indeed i find you and your people (engaged) in manifest error
آپؑ نے چچا آزر سے فرمایا کیا تم لوگ بتوں کو اپنا معبود بناتے ھو ۔بے شک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ھوں ۔اس کے بعد آپؑ نے قوم کے سامنے بڑے آسان انداز میں توحید باری تعالی کے دلائل بیان فرمائے تاکہ وہ غور وفکر کرکے یہ نتیجہ نکال سکیں کہ جب سارا جہاں عدم سے وجود میں آنے والا بھر ختم ھونے والا ہے تو پھراس جہان کی چیزوں یا افراد میں سے تو کوئی معبود نہیں ھو سکتا ہے کیونکہ سارا جہاں بذات خود کسی وجود میں لانے والی ذات کا محتاج ہےجس کے قدرت واختیار سے اس میں تبدیلیاں ھوتی رہتی ہیں ۔آپ نے دیکھا کہ قوم سورج،چاند اور ستاروں کی پرستش کر کے اپنے آپ کو ضلالت اور گمراہی کی انتھک گہرائیوں میں ڈبو رہی ہے تو آپ نے ان کے ڈوبنے کا ذکر فرماکر انہیں سمجھایا کہ یہ سب چیزیں ذوال پزیر ھونے والی ہے اور جس کے مقدر میں زوال ھو وہ رب نہیں ھو سکتا آپؑ سے اعلان حق اور توحید باری تعالی کا بیان سن کر قوم بحث کرنے لگی اور ان کے خلاف سف آرا ھوگئی ۔ بت پرستی قوم میں ایسی رچی بسی تھی کہ شروع میں تو انہیں یقین بھی نہیں آرہا تھا کہ ان کا بتوں کی عبادت کرنا کوئی گمراہی ہے جس کا اظہار انہوں نے حضرت ابراھیمؑ سے کیا بھی اور حضرت ابراھیم سے مخاطب ھو کر کہنے لگے کہ کیا یہ بات واقعی اسی طرح ہے جیسے آپ کہہ رہے ہیں یایونہی ہنسی مذاق کر رہے ھو جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا۔
(قالوااجئتنا بالحق ام انت من اللعبین ) بولے کیا تم ہمارے پاس حق لائے ھو یا یونہی کھیل رہے ھو؟
They said :Have you (alone) brought the truth ;or are you (just) one of the entertainers?
اس کے جواب میں آپؑ نے اپنے عظیم پروردگار عالم کی ربوبیت اور واحد ویکتا ھونے کے دلائل پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ تمہاری عبادت کے مستحق یہ بناوٹی مجسمے نہیں بلکہ وہ میرا عظیم پروردگار ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا رب ہے اور انہیں کسی سابقہ مثال کے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔
اقامت دین کھ عظیم کام کی انجام دہی کے لئے حضرت ابراھیمؑ نے حکمران وقت کے سامنے بھی دعوت حق رکھی اور اسے متنبہ کیا کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ بادشاہی کے زعم میں خدائی دعوے نہ کرے کیونکہ زندگی وموت اور کائنات کا نظام اللہ عزوجل کے اختیار میں ہے اللہ تعالی کی توحید کا انکار ظلم ہے اور ظلم ھدایت سے محرومی کا سبب ہے۔
(الم تر الی الذی حاج ابراھیم فی ربه ان اته اللہ الملک اذ قال ابراھیم ربی الذی یحی ویمیت قال انا احی وامیت قال ابراھیم فان اللہ یاتی باشمس من المشرق فات بھا من المغرب فبھت الذی کفر واللہ لا یھدی القوم الظلمین )۔
کیا آپ نے اس (شخص یعنی نمرود )کو نہیں دیکھا جس نے ابراھیم سے اس کے پروردگار کے متعلق بحث کی ۔ اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کو سلطنت عطا فرمائی تھی ْ(حضرت ابراھیمؑ نےجب عام لوگوں کی طرح اسے سجدہ نہ کیا اس نے حیرت سے پوچھا تیرا رب کون ہے اس کے جواب میں ) جب حضرت ابراھیم نے کہا میرا پروردگار وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے تو اس نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا ھوں اور مارتا ہوں ۔ابراھیمؑ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اب تو اسے مغرب کی طرف سے نکال دے ۔تو یہ سن کر وہ کافر (نمرود)حیران رہ گیا(لاجواب ھو گیا مگر ایمان نہ لایا)اور اللہ بھی ایسے ظالموں کو سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔
آپؑ نے نہ صرف نمرود لعین کے سامنے دعوت حق رکھی بلکہ اس دور کھ شرک ،بت پرستی اور احکامات الہی سے بغاوت پر مبنی نظام زندگی ،نظام بندگی،اور نظام سیاست وقیادت سے بھی ٹکر لی ۔آپ نے نہ صرف وقت کے باطل خداووں کی بندگی کرنے سے انکار کیا بلکہ طاغوتی نظام سیاست کی اطاعت کو بھی مسترد کردیا ۔
جہاں حج کرنا قربانی کرنا اللہ کے گھر کا طواف کرنا ابراھیمؑ کی سنت ہے وہاں اللہ عزوجل کی بغاوت پر مبنی نظام زندگی ،نظام بندگی اور نظام سیاست سے انکار وبیزاری کااظہار کرنا بھی ابراھیمؑ کی سنت ہے ۔آپؑ نے اپنی قوم کو بتوں کی پرستش چھوڑنے اور ایک خدا کی عبادت کی تلقین کی اور عملًا بھی ان کے بتوں کو توڑ پھوڑ کر ان پر ان کی حقیقت اور بے بسی عیاں کردی ۔اتنے بڑے اقدام پر قوم کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آنا لازمی امر تھا سو آپ کی قوم نے آپْؑ کو سزا دینے اور اپنے چھوٹے خداووں کا بھرم قائم رکھنے کے لئے آپ کو سزا کے طور پر نذر آتش کرنے کا فیصلہ کیا۔
قالو حرقوه وانصروا الھتکم ان کنتم فعلین(انہوں نے آپس میں کہا کہ بحث مباحثہ سے تو فائدہ نہیں اس نوجوان نے ان بتوں کو توڑا ہے اس کو یہ سزا ملنی چاہئے کہ اس کو آگ میں جلا دو اور اس طرح اپنے ان معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کرنا ہے۔
They said burn him and support your gods if you are to act
حضرت ابراھیم علیہ سلام نے دعوت حق کی انجام دہی کو منتہاے کمال تک پہنچا کر باطل اور طاغوتی نظام کی پیخ کنی کی اور کفر و شرک کے معاشرے کو توحید حق اور اطاعت کےنگاہِ معاشرے میں بدلنے کے لئے آگ تک میں جلنا گوارا کر لیا۔
تاریخ کے زوال سے جاری رخحان کے تحت وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ انبیاے کرام عطا کردہ فکر اور ان کے مقاصد بعثت نظروں سے اوجھل ہوتے گئے ہر دور میں جب معاشرے پر گمراہی کا غلبہ ہوا زندگی کے عملی احوال سے انبیا کے عطا کردہ نظام فکر اور سعمل کا رابطہ کٹ کر چند اعتقادات اور عِبادات تک محدود ہوگیا اور رفتہ رفتہ وہ اعتقادات اور عِبادات بھی اپنی روح سے محروم ہوکر چند ظاہری رسوم میں بدل گئی بقولِ حکیم الامت
رہ گئی رسمِ ازاں پر روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گيا تلقینِ غزالی نہ رہی
دین کے اس جزوی تصور نے عملی زندگی کو دین کے قواعد اور ضوابط سے لا تعلق کر دیا اور بد قسمتی سے یہی حال بلکہ المیہ اسلام کو درپیش ہے پچھلی دو صدیوں سے عالمِ کفر کے مقابلے میں مسلمان سیاسی، معاشی، معاشراتی اور عملی پستی نے نے جب انہیں جب زہنی اور فکری طور مضمحل کردیا تو ان کی سوچ ہر لحاظ سے نا امیدی کا شکار ہوئی جس نے قومی اور ملی زندگی کو مزہب اور سیاست میں تقسیم کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مزہبی امور مولیوں اور سیاسی امور سیاستدانوں کا کام متصور کیا جانے لگا اور یہ حقییقت کہ سیاست کارِ پیغمبراں ہے ایک افسانہ بن گيا ہے جس کے سنگین نتایج آج پوری امت کے سامنے ہے۔������

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں