اس جہاں میں جانے کتنے آدمی کے چہرے ہیں 85

انعام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوشہ اطفال
کہانی پرویز مانوس

دانش اپنے گائوں کے ایک سرکاری اسکول میں پانچویں کا طالب علم تھا، وہ پڑھنے لکھنے کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں بھی ہوشیار تھا۔ وہ بہت ہی سمجھدار ہور دانش مند تھا، شاید اسی لئے اس کے گھر والوں نے اس کا نام دانش رکھا تھا۔ کھیل کود میں اُسے دوڑ بہت پسند تھی۔ وہ بہت تیز دوڑتا تھا۔ پورے اسکول میں اُس کے مقابلے میں دوڑنے والا کوئی نہ تھا۔ کئی مرتبہ اُس نے دوڑ کے مقابلے میں پہلا انعام حاصل کیا تھا۔ ایک دن جب محکمہ اسپورٹس نے دوڑ مقابلے کا اہتمام کیا تو ایک اعلیٰ افسر نے تمام بچّوں کو اکٹھا کیا اور کہا ’’ بچّو! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، آج ہم نے ایک لمبی دوڑ کا مقابلہ رکھا ہے۔ آپ سب بچّوں کو یہاں سے پار والے گائوں تک دوڑ لگانی ہے وہاں سے یہ سفید رنگ کی جھنڈی دے کر ہرے رنگ کی جھڈی لانی ہے۔ اوّل آنے والے بچّے کو ایک قیمتی سائیکل انعام میں دی جائے گی‘‘
یہ سُن کر سارے بچّے بہت خوش ہوئے ان کے اندر جوش اور جذبہ بڑھ گیا اور ہر ایک بچّہ یہ انعام حاصل کرنے کے لئیاتاولا ہو رہا تھا لیکن وہ سب جانتے تھے کہ دانش سب سے تیز دوڑتا ہے اور یقینا یہ انعام وہی حاصل کرے گا، پھر بھی انہوں نے دوڑ میں حصّہ لینامناسبسمجھا، اس بات سے اسپورٹس محکمہ کے افسران بھی واقف تھے کہ دانش بہت تیز دوڑتا ہے کیونکہ گزشتہ سال بھی اوّل انعام اُسی نے حاصل کیا تھا۔
تمام بچّے اسکول کے احاطے میں تیار تھے، ڈی سی صاحب نے وسل سُن کر ہری جھنڈی ہلائی اور بچّے دوڑ پڑے۔ دوڑ شروع ہوتے ہی دانش سب سے آگے نکل گیا۔ یہ دیکھ کر سبھی کو یقین ہو گیا کہ دانش ہی سب سے پہلے واپس پہنچے گا۔ دوڑتے دوڑتے بچّے کافی دور نکل گئے۔اِس دوران دانش کی نظر اچانک سڑک کے وسط میں پڑے ایک ناتواں بوڑھے پر پڑی، جس کا لباس میلا کچیلا اور جسم لاغر تھا۔ وہ درد سے تڑپ رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اُس کا دم نکل جائے گا۔ دانش کے قدم خود بخود رک گئے۔
باقی بچّوں کی نظر بھی اُس شخص پر پڑی لیکن وہ اس کی بالکل پرواہ نہ کرتے ہوئے انعام کی لالچ میں آگے بڑھ گئے۔ دانش کے دل میں ہمدردی کے جذبے کا ابھال آیا ،وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اُس کے نزدیک پہنچ گیا ۔اُس نے دیکھا کہ وہ شخص زخمی حالت میں پانی کے لئے تڑپ رہا ہے۔ دانش کو اُس کی حالت پر ترس آیا۔ اُس نے بیٹھتے ہوئے بوڑھے سے پوچھا ’’ بابا آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی؟ بوڑھا اپنے آپ سنبھالتے ہوئے بولا ’’ بیٹا کیا بتائوں! یہ سڑک پار کر رہا تھا کہ پیچھے سے ایک تیز رفتار آٹو آیا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اپنے آپ کو بچائوں مگر کمزوری کی وجہ سے تیز نہیں چل پایا، اس طرح آٹو والا مجھے ٹکر مار کر آگے نکل گیا۔بس اُس وقت سے میں اس انتظار میں پڑاچِلا رہا ہوں کہ کوئی مجھے اُٹھا کر پانی کے دو گھونٹ پلا دے لیکن یہاں ہر انسان جلدی میں ہے ،کوئی میری آواز پر دھیان ہی نہیں دیتا۔ دانش نے اُسے آہستہ آہستہ سہارا دے کر یک دیوار کے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا ’’ کوئی بات نہیں بابا جی! میں ابھی آپ کے لئے پانی لے کر آتا ہوں ،پھر دانش جلدی ہی پانی لے کر آیا اور بوڑھے کو پانی پلا کر آہستہ آہستہ سہارا دیتے ہوئے اُس کے گھر تک پہنچادیا۔ بوڑھے کے گھر والوں نے اُس کا شکریہ ادا کیا اور بوڑھے نے ڈھیر ساری دعائوں سے نوازا۔ دانش بہت خوش تھا کہ آج اُس نے ایک اچھا کام کیا کہ وہ کسی کے کام آیا۔ کسی بے سہارا کا سہارا بنا۔ اب وہ واپس اسکول کی طرف دوڑنے لگا کیونکہ اُس کے ساتھ والے بچّے تو دوسرے راستے سے واپس پہنچ چکے تھے۔ جونہی وہ احاطے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر سارے حیران رہ گئے کہ جس دانش کو اوّل انعام کا حق دار سمجھ رہے تھے، وہ سب سے آخر میں آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ ڈی سی صاحب بھی حیران تھے کہ آج کیا وجہ ہو گئی؟ کیونکہ اس سے پہلے وہ کئی بار اپنے ہاتھوں سے دانش کو اوّل انعام دے چکے تھے۔ ڈی سی نے دانش کو اپنے پاس بلا کر پوچھا۔ ’’ دانش بیٹا! کیا بات ہے؟ تم سب سے پیچھے کیوں رہ گئے؟ پھر دانش نے ڈی سی صاحب کو شروع سے لے کر آخر تک ساری کہانی سنائی۔ ڈی۔سی اُس کی کہانی سن کر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے دانش کو اپنے سینے سے لگالیا۔ دیکھنے والے حیرانگی میں ڈوبے ہوئے تھے کہ آخر ماجرا کیا ہے کہ دانش کو ڈی سی صاحب نے گلے لگایا۔ پھر ڈی سی صاحب نے مائک پر کہا ’’ اٹینشن پلیز ’’ سب لوگوں کا دھیان مائک کی طرف مُڑ گیا۔ ڈی سی صاحب کہنے لگے۔ ’’ یہ ہوتی ہے انسانیت، یہ ہوتی ہے رحم دلی، یہ ہوتی ہے جوانمری اور دانش مندی۔۔۔ دانش نے انعام کی لالچ اور پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک بے سہارا کو سہارا دے کر اُس کی منزل تک پہنچایا ہے۔یہ بچہ کسی ضرورت مند کے کام آیا ہے‘‘ یہ بات سن کر دانش کے ساتھیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے ایک آواز میںکہا۔ ’’ ڈی سی صاحب! اس انعام کا اصل حق دار دانش ہی ہے۔ انعام کی لالچ میں ہم نے جس کام کو نظر انداز کر دیا تھا ،اُس کام کو انعام کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دانش نے انجام دیاہے ۔ ڈی سی صاحب نے اپنے ہاتھوں سے دوڑ کے مقابلے کا انعامی سائیکل دانش کے حوالے کیا تا کہ کل پھر وہ کسی بے سہارا کا سہارا بن سکے۔
نصیحت:۔ پیارے بچّو! یہ جسم کل مٹی کے نیچے کیڑے کھائیں گے اس لئے زندگی میں ضرور کسی کے کام آئو۔ کسی کی مدد کرو۔

 

موج مستی کے دن

محمد وزیر عالم وزیر کا تعلق رکسول ضلع مشرقی چمارن سے ہے۔ انہوں نے اردو سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ آئیڈیل انگلش اکیڈمی کھرما پتھرا بسنگہ میں بائیس سال تک پرنسپل کے علدے پر مامور رہے۔ فی الحال اپنے علاقے کے ایک مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تخلیقات مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ خاص طور پر یہ بچوں کیلئے لکھتے رہے ہیں۔
آگئے اب تو گرمی کے دن
ٹھنڈے مشروب کے اور لسی کے دن
کوکا کولا کے دن اور فروٹی کے دن
یہ ہیں آئس کریم اور قلفی کے دن
آگئے آگئے اب تو گرمی کے دن
کھیلنے کودنے اور مستی کے دن

کپکاہٹ گئی، سرد موسم گیا
دھیرے دھیرے یہ جاڑا گزر ہی گیا
بوجھ کپڑوں کا تن سے اتر ہی گیا
ہوگئے ختم اب سخت سردی کے دن
آگئے آگئے اب تو گرمی کے دن
کھیلنے کودنے اور مستی کے دن
اب پڑھائی کا بھیسال پورا ہوا
خیر سے فائنل امتحان ہوگیا
اب تو درجہ بھی اپنا بدل جائے گا
آئے اسکول سے لمبی چھٹی کے دن
آگئے آگئے اب تو گرمی کے دن
کھیلنے کودنے اور مستی کے دن

آئو پکنے منانے چلو باغ میں
آج جھولا لگانے چلو باغ میں
لطف فرصت اٹھانے چلو باغ میں
ایسے دن توہیں گلشن میں گشتی کے دن
آگئے آگئے اب تو گرمی کے دن
کھیلنے کودنے اور مستی کے دن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں