مشاعرے میں وادی کے نامورشعرا کی شرکت، ستیش ومل مہمان خصوصی
سرینگر//خواہش کشمیری//مؤرخہ ٧ جولائی ٢٠٢١ کو کاروانِ شعرائے اردو (کشمیر) کا ہفت روزہ ندائے کشمیر کے اشتراک سے ایک آن لائن محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں وادئ کشمیر کے ابھرتے ہوئے شعراء کے علاوہ نامور و مایہ ناز شعراء نے بھی شرکت کرتے ہوئے ناظرین کو اپنے کلام سے محضوظ کیا۔ تقریب میں وادئ کشمیر کے مایہ ناز شاعر و ادیب، مترجم و نقاد اور ریڈیو براڈکاسٹر ستیش ومل نے بحیثیتِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس تقریب میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں جاوید عارف، توصیف رضاء، میسر ناشاد، محسن کشمیری، ساگر سرفراز، واحد کشمیری، گلزار جعفر، مہمانِ خصوصی ستیش ومل کے علاوہ کاروانِ شعرائے اردو کے اراکین خواہش کشمیری، عارض ارشاد، تنویر طاہر اور پرویز مانوس نے بھی ناظرین کو اپنے کلام سے محضوظ کیا۔مشاعرہ کے آخر میں نوجوان شعراء اور کاروانِ شعرائے اردو کی تعریف و حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ستیش ومل نے کہا کہ اکثر ادیب و قلم کار یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بعد ادب و زبان یتیم ہو جائیں گے، لیکن ان نوجوان شعراء کا کلام سن کر اور کاروانِ شعرائے اردو کی ان تھک اور بے لوث محنت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں کشمیر میں اردو زبان و ادب کا مستقبل نہ صرف تابناک بلکہ تاریخ ساز نظر آ رہا ہے۔انہوں نے نوجوان شعراء سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کے شانوں پر اپنے گرد و نواح اور سماج کی غلاظت کو صاف کرنے کی ایک اہم ذمہ داری ہے اور انہیں یقین ہے کہ کاروانِ شعرائے اردو کی قیادت میں یہ نوجوان شعراء اس ذمہ داری کو بخوبی ادا کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان نوجوان شعراء کی ہمیشہ یوں ہی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے اور انہیں ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔مشاعرہ کے اختتام پر کاروانِ شعرائے اردو کے سرپرستِ اعلیٰ پرویز مانوس نے نوجوان شعراء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ یہ کاروان آگے بھی اس طرح کی تقریبات منعقد کرتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاروانِ شعرائے اردو کہنہ مشق شعراء کے ساتھ ساتھ اردو کی نئی نسل کو بھی زمین مہیا کرنے کے لئے کوشاں ہے لہٰذا جو شعراء اس کاروان کے ساتھ جڑ کر اپنی شعری تخلیقات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں وہ بے خوف و خطر کاروانِ شعرائے اردو کے آفیشل فیس بک پیج پر رابطہ کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ مشاعرہ ہفت روزہ ندائے کشمیر کے اشتراک اور تکنیکی معاونت سے منعقد کیا گیا جبکہ یہ مشاعرہ کاروان شعرائے اردو اور ہفت روزہ ندائے کشمیر کے فیس بک پیچز پر نشر کیا گیا۔
پرویز مانوس
فضائیں ، پھول، شبنم، استعار ے بات کرتے ہیں
تمہارے حُسن کی ہی آ ج سارے بات کرتے ہیں
کبھی در پر تیرے دیدار کو جب چاند آتا ہے
لبوّں کو چُوم کر تیرے ستارے بات کرتے ہیں
تیری آمد پہ کلیاں باغ کی سب رقص کرتی ہیں
یہ پنچھی گُنگناتے ہیں نظارے بات کرتے ہیں
اگر وہ پاؤں رکھ دے برف پر غلطی سے بھی یارو
حر ا ر ت تلملا تی ہے شرارے بات کر تے ہیں
کنارے جھیل کے بیٹھا خموشی اوڑھ کر بوڑھا
مصیبت میں فقط اس سے شکارے بات کرتے ہیں
صدا لہروں کی کانوں میں کرے سرگوشیاں ایسے
اندھیری رات میں گویاکنا رے بات کرتے ہیں
ریئسِ وقت دولت سےخریدے چاند بھی تو کیا
مگر مفلس کے بچوں سے غُبا رے بات کرتے ہیں
�����
ستیش ومل
میرے وجود کی تعمیر میں شگاف بھی تھا
کہ میرا دل میرے حق میں بھی تھا خلاف بھی تھا
میں کیوں پھنسا رہا عیش و نشاط میں ہروقت
کہ من اُچاٹ بھی تھا، قصدِ انحراف بھی تھا
یہ کیسی گرد خیالوں پہ چھا گئی اپنے
ہماری سوچ پہ تو عقل کا غلاف بھی تھا
بھٹکنا میرا نہ تھا راہ عشق میں یونہی
میرا ارادوں کا مجھ پہ تو انکشاف بھی تھا
پتا نہیں و خطا تھی کہ کج روی تھی وہ
ہے اتنا یاد جوانی میں کچھ معاف بھی تھا
�����
ڈاکٹر تنویر طاہر
تیرِ نظر جگر سے نکلتا نہیں کبھی
موسم غمِ فراق کا ڈھلتا نہیں کھبی
چاہے ہزاروں جشن بہاراں چمن میں ہو
لالے کے دل کا داغ بدلتا نہیں کھبی
تنہا، اداس، سوچ میں ڈوبا ہوا سدا
کیا تو چراغِ راہ سا جلتا نہیں کبھی؟
الزام دھر کے ساغر و بادہ پہ دل نہ توڈ
دیوانہ تیرا یوں بھی سنبھلتا نہیں کھبی
صحرائے دل کو اب تو جھلسنا ہے تا ابد
سورج تماری یاد کا ڈھلتا نہیں کھبی
کترا کے یوں گذرتے ہیں تیری گلی سے ہم
گویا دلِ خراب مچلتا نہیں کھبی
خونِ جگر جو آنکھ سے بہتا بھی ہے تو کیا
پتھر سا دل وہ ہائے پگھلتا نہیں کھبی!
طاہر وہ روند کر گیاکیسے ہمارا دل
بھولے سے پھول بھی جو مسلتا نہیں کھبی
������
خواہشؔ کشمیری
ہر کسی ہی کے آگے وا ہو کیا؟
خوار یوں دستِ التجا ہو کیا؟
ہوش کھو دوں میں دیکھ کر تجھ کو؟
اب یہ ہنگامہ بارہا ہو کیا؟
کان پر تیرے کیوں نہیں پڑتی؟
آہ بھی میری زمزمہ ہو کیا؟
ہے ضروری کہ کچھ رہے اچھا
سب برا ہو تو پھر برا ہو کیا؟
اور کیا چاہتا ہے تو مجھ سے؟
جان بھی تب سے اب جدا ہو کیا؟
ہے شبِ غم بھی اک قیامت ہی
اب میاں ہوبہو بپا ہو کیا؟
پوچھنا تم سے چاہتا تھا میں
تم ہی میرے خدا خدا ہو کیا؟
وار دوں تجھ پہ رات دن اپنے؟
تم مری جان فارہہ ہو کیا؟
آج سننا پڑا مجھے یہ بھی
تم کوئی جونؔ ایلیا ہو کیا!
سوچنے کی تو بات ہے خواہشؔ
کر کے سب کا بھلا بھلا ہو کیا؟
����
ساگر سرفراز
آپ کی نذر بازار زندگانی میں سامان کی طرح
میں بک رہا ہوں یوسف کنعان کی طرح
جادو کسی کا مجھ پہ اثر کر نہ سکے گا
پہنا ہے تجھ کو نقش سلیمان کی طرح
آدیکھ تیرے ہجر نے کیا حال کردیا
سینہ ہے میرا چاک گریبان کی طرح
آلام روزگار میں الجھی ہے زندگی
جاناں تمہاری زلف پریشان کی طرح
مرجھا گئے ہیں سارے تمناؤں کے گلاب
خالی پڑا ہوا ہوں میں گلدان کی طرح
برسوں کی آشنائی کو یکسر بھلا دیا
پیش آرہا ہے وہ کسی انجان کی طرح
دل کی زمیں پہ یادوں نے خیمہ لگا لیا
بیٹھا ہے تیرا ہجر بھی دربان کی طرح
جیسے کسی بھکاری کو صدقہ دیا گیا
تم نے کیا ہے پیار بھی احسان کی طرح
ساگر کو موت آئی ہے مرنے سے پیشتر
نکلا ہے میرے جسم سے تو جان کی طرح
���
محسن کشمیری
صدق و وفا کی اب وہ روایت نہیں رہی
کہتے ہیں اہل دل وہ محبت نہیں رہی
کھا کر فریب مال و متاعِ جہان کے
شوقِ جنوں میں ہائے حرارت نہیں رہی
کیسے میں اعتبار کروں تیری بات پر
تیرے بیاں میں اب وہ صداقت نہیں رہی
دل کی خطا نہیں ہے یہ آنکھوں کا ہے
قصورہے معذرت! کہ غم کی حفاظت نہیں رہی
تھا حوصلہ تو دشت و بیاباں میں سربہ کف
لڑتے تو تھے پر اب وہ شجاعت نہیں رہی
یادوں میں عکس آج بھی موجود ہے تیرا
گر درمیان اب وہ قرابت نہیں رہی
ٹوٹا کچھ اس طرح سے گماں میرے پیار کا
تا عمر وصلِ یار کی چاہت نہیں رہی
محسن کو مانگنے کا سلیقہ تو کر عطا
کہتے ہیں اب دعا میں اجابت نہیں رہی
����
واحد کشمیری
نہ ہو اس طور آمادہ جوانی وقت بھر کی ہے
بلاشک عارضی ہے زندگی ہر چیز فانی ہے
مجھے ناگاہ اپنی الجھنوں میں پھانس لیتی ہے
یہ دنیا اک تماشا ہے تماشا ہی بناتی ہے
مجھے جھانسے میں مت لے زندگی میں سب سمجھتا ہوں
زمانےکے خداؤں نے جفا تجھ سے ہی سیکھی ہے
مناسب اتنی خاموشی نہیں اپنی حمایت میں
میں کیونکر چپ رہوں ساقی کہ میں نے خوب پی لی ہے
مقدر میں لکھی ہر بات کو ہوکر ہی رہنا ہے
یہی دستورِ قدرت ہے یہی تو نظمِ ہستی ہے
فقط دوپل کی مہلت دے مجھےمیں لوٹ آؤں گا
بہارِ باغِ مستی میں ذرا کچھ اور دیری ہے
نہ کرلے مار تو احساس دل کے تہہ نشینوں پر
یہ ایسی انجمن ہے جسکی شمع جلتی بجھتی ہے
مجھے خائف نہ کردے ایسی ویسی بے خیالی سے
یہ واحد دل کی دنیا ہے بھٹکتی ہے سنورتی ہے
����
گلزار جعفر کپوارہ
کاسہ چشم نم میں دہکتا ہوا رت جگادے گیا
ہاتھ میں خواب اک پھول سا مسکراتا ہوا دے گیا
لے گیا چھین کر مجھ سے میرے نہ ہونے کا بھی حوصلہ
اور تحفے میں پھر میرے ہونٹوں کو حرف انادے گیا
چند بوندیں ٹپکنے کی رِم جھِم نشیلی سی جھنکار پر
پیاس کے دشت کو عمر بھر ناچنے کی سزا دے گیا
ایک آوارہ خوشبو کا مجھ میں سمٹنا مجھے یاد ہے
پھر خبر ہی نہیں ہے وہ کیا لے گیا اور کیا دے گیا
�����
میسرناشاد دیالگام اننت ناگ
ناشاد جیدیالگام اننت ناگ
ہجر خود ہی حرام کرتا ہے
خود ہی قائم نظام کرتا ہے
اسُکی یادوں کے طور پر اکثر
وجد میں دل کلام کرتا ہے
دیکھ کر شام نے کیا سجدہ
آئینہ بھی کلام کرتا ہے
اشک بہتے نہیں میں پیاسا ہوں
کون پانی حرام کرتا ہے
عشق دفتر کا وہ ملازم ہوں
جو معطل ہے کام کرتا ہے
جان پہچان بڑھ گئی اتنی
ہجر جھک کر سلام کرتا ہے
تیرا ناشاد جی اُداسی سے
احتراماً کلام کرتا ہے
����
جاوید عارف۔شوپیان
غزلوقت کے آلام میں ہر شخص ہے الجھا ہوا
میں اکیلے ہی نہیں وحشت زدہ ٹوٹا ہوا
اے مسیحا چھوڑ دے اب حال پر اپنے مجھے
زخمِ دل چارہ گر ی سے اور بھی گہرا ہوا
آگ گلشن میں لگائی سرکشوں نے ہی مگر
سر کسی معصوم کا ہے دار پر لٹکا ہوا
موت کی دہلیز کے آگے کھڑی ہے زندگی
میں ابھی ہوں مال و زر کی حرص میں الجھا ہوا
برق سے پہلے ہوا نے سازشیں کی اس قدر
راکھ کی صورت نشیمن ہے مرا،بکھرا ہوا
دیکھ کر حیرت زدہ ہوں میں چمن کے حال پر
شاخِ گل ہے باغباں کے خوف سے سہما ہوا
لاکھ تدبیریں کی عارف کچھ نہیں بدلا مگر
جو مقدر میں خدا نے تھا مرے لکھا ہوا
����
