تیرے ثبات اور اثبات نقلی 84

تیرے ثبات اور اثبات نقلی

غزل
علی محمد مجروح ۔۔۔

تیرے ثبات اور اثبات نقلی
یہ میرے روات اورروایات نقلی
یہ کیا کہہ رہاہے کہ توہے قلندر
ہیں تیرے منّات اوردرجات نقلی
بغل میں ترے ہے وہ بھوکوں کامارا
ہے تیری زکواة اور خیرات نقلی
کدورت، عداوت، یہ رنجش تمہاری
ترے سب فُرات اورسوغات نقلی
وہ میرے شہر کا ہے غمخوارلیڈر
ہیں ان کے صفات اور خدمات نقلی
سنوواعظوں کی عجب وعظ خوانی
جو دیکھو نِکات اور حرکات نقلی
گلی میں وہ دیکھو ہے تاجر متقّی
مگرہیں بسات اورتجارات نقلی
وہ شاطر قلندر نُکڑ پہ جو ٹھہرا
خیالی جنّات اور طلسمات نقلی
توشاعرہے تیری نظم ہوغزل ہو
دوات و لغّات اور صفحات نقلی
مجروح توکیسے جی محفل میں ٹپکا
واہ واہ کے اثرات اور عادات نقلی
علی محمد مجروح ۔۔بٹہ پورہ کرالہ پورہ کپوارہ
9858372141

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں