کاش ایسے بھی مراحل سے وہ گزرے ہوتے 91

دن جو پہلو میں تری بیٹھ کے ڈھل جائیگا

غزل

منظر زیدی، لکھنؤ
دن جو پہلو میں تری بیٹھ کے ڈھل جائیگا
لمحہ لمحہ بھی اداسی کا پگھل جائیگا
میرے جیون سے اگر وہ بھی نکل جائیگا
پھر تو جینے کا طریقہ ہی بدل جائیگا
تم فقط چاند کو انساں کی نہ منز ل سمجھو
حوصلہ ہے ابھی سورج پہ یہ کل جائیگا
ہم نے ٹھوکر بھی اگر کھائی تو مر جائینگے
اُس پہ دولت ہے گریگا تو سنبھل جائیگا
اسنے خوابوں کے جزیرے میں بنائے ہیں محل
خواب ٹوٹے گا تو محلوں کو نگل جائیگا
اُسنے یہ سوچ کے جلدی سے گرالیں پلکیں
ڈوب جانے کا جو خطرہ ہے وہ ٹل جائیگا
اپنے وقتوں کا مسیحا ہے یہ شا عر منظر ؔ
اسکا اک لفظ ہی ذہنوں کو بد ل جائیگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں