بچھڑ کے جس نے اک بار بھی دیکھا نہیں تھا 99

اک عرصہ بعد

نظم
امان وؔافق ساموں۔۔۔گریز بانڈی پورہ

اک عرصہ بعد
مسکراتے ہوئے رویا ہوں
اشک آنکھوں سے
گرتے ہوئے پایا ہوں
شاید یہی ہنسی
باعث محض غم مٹانے کی
اک پل اک لمحہ
اس شخص کو اپنانے کی
جو مرے دل پے بوجھ بنا ہوا ہے
جو مجھے بکھر کے جاچکا ہے
جس نے مری ساری طرب نشاط
جو مرے دم آخر تک ساتھ دینے آئ تھی
تباہ و برباد کرکے
اجاڑ کے چلا گیا
جس نے مجھے بےوفا نام سے باخبر کیا
جس کی ڈور ساتھ نبھاتے نبھاتے ٹوٹ گیئ
جو کس کے پکڑنے کے وعدے دے رہا تھا
جو بیچ راہ میں وعدہ فریب ہوگیا
جو مرے چمن کو سجانے آیا تھا
جس نے چمن کو پھولوں سے مہکایا تھا
جس نے پھر چمن میں کانٹے بویا
وہی کانٹے جو یاد بن کے دل کے آرپار ہوریں ہیں
وہی کانٹے جو مجھے بہت ستائے جارہے ہیں
وہی کانٹے جو یادیں ہیں اس کی
اور وہی یادیں جو اب بھی یاد آرہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں