نظم( شکستہ پا ) 86

میں۔۔میں ہی ہوں نا، ،

نظم

(روبی نسا)

میں۔۔میں ہی ہوں نا، ،
چُپ چاپ رہنے والی، ،
مجھے محفلوں کی حسرت
تھی ہی کب،
میری حسرتیں کب سے
دل کے صندوقوں میں سسک رہی تھی؛
میرے لفظ اسیر تھے
کیوں سُرخاب کے پر لگ گئے
میرے لفظ بول اُٹھے اور
میری نظموں کو یوں زُبان ملی کہ
دشت ادب سے بے ادب
آستین کے سانپ نکل آئئے
کیوں آبلہ دل نکال کر
آبلے پھوڑ دیئے گئے
اور میرے قلم کے تقدُس کو
گرا دیا گیا،
کیوں میرے قلم کی زُبان کو
کاٹنے کی انتھک کوششیں کی گئیں
جس کا شور دوُر دوُر
تک سُنایا گیا، ،
میں۔۔۔میں ہی ہوں نا
چُپ چاپ رہنے والی۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں