حضرت ابراھیمؑ کا کردار اور وقت کا طاغوتی نظام 80

آسمانِ تصوف کے درخشاں ستارے

الشیخ شھاب الدین عمر سہروردیؒ قسط: 01

شہنواز مصطفوی

آپ کا نام شہاب الدین اور کنیت ابو حفص ،ابو عبداللہ ، ابو نصر تھی ۔آپ کا سلسلہ نسب ابوالقاسم عمر بن محمد بن عبد اللہ ابن عبد اللہ عمویہ ابن سعد بن حسین بن القاسم بن النصر بن القاسم بن محمد بن عبداللہ بن عبد الرحمن بن القاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق القرشی القرشی التیمی السھروردی البغدادی الصوفی الشافعی علماء نے بیان کیا ہے آپ کی پیدائش 539 ہجری میں آزر بائی جان کے ایک شہر زنجان کے قریب پہاڑوں سے گھرے ہوئے علاقے سہرورد میں ہوئی ۔سہرورد وہ سرزمین ہے جہاں علماء اور صلحاء کی بہت بڑی تعداد پیدا ہوئی ۔جن میں خاص طور سے امام ابو نجیب عبدالقاہر سہروردی ؒ قابل ذکر ہیں ۔جو اپنے وقت کے ایک فقیہ ایک باعمل صوفی اور ایک عظیم داعی اسلام بھی تھے آپ ؒ اپنے زمانے کے شریعت اور طریقت دونوں کے امام تھے اور شیخ شہاب الدین سہروردیؒ آپ ؒ ہی کے بھتیجے تھے ۔اگر ہم آج کے نام نہاد صوفیوں کی بات کریں تو بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں علم ،عمل اور شریعت کا دور دور تک نام و نشان بھی نہیں ملتا ہےاور کچھ نام نہاد صوفیوں اور گدی نشینوں نے تمام تر جہالت اور بدعات وخرافات کو صوفیت سے جوڑ دیا ہےاور سادہ لوح عوام کے دین اور ایمان کو برباد کردیا ہے۔لیکن جب ہم اپنے اکابرین اور سلف صالحین کی سیرت کا مطالع کرتے ہیں تو وہ حقیقت میں علمی اور عملی میدان کے شہسوار نظر آتے ہیں وہاں ہمیں داعی اسلام کا کردار اور ایک سچے مجاہد اسلام کی جھلک نظر آتی ہے ۔الشیخ شہاب الدین سہروردیؒ “عنفوان شباب” (چڑھتی جوانی) ہی میں علم دین کی تلاش میں بغداد تشریف لائے اور اپنے چچا ابو نجیب سہروردی کی صحبت اختیار کی اور علم فقہ وعظ اور تصوف کا علم حاصل کیا ۔آپؒ کی خوش قسمتی کی انتہا تو یہ ہے کہ آپؒ نے کچھ عرصہ حضرت شیخ السید عبد القادر جیلانیؒ کی صحبت میں بھی گزارا ۔آپؒ نے ریاضت ومجاہدہ کی کٹھن راہ اختیار کی عربی زبان اور علم فقہ سیکھنے کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ کا سماع کیا۔ آپؒ ایک باعمل عالمِ اور دین ایک سچے پکے اور شریعت اسلامیہ کے پابند صوفی تھے آپ نے خلوت نشینی اور عبادت الہیٰ کو اپنے اوپر لازم کیا تھا ۔آپ ؒ نے بہت سارے ممالک کا سفر کیا۔لوگوں پر آپؒ کی برکات یوں ظاہر ہوئیں کہ بہت سارے گنہگاروں نے آپ کی صحبت اختیار کرنے کے بعد اپنے گناہوں سے توبہ کرلی اور آسمان معرفت پر ستاروں کی طرح چمک اٹھے۔
حافظ ابن نجار فرماتے ہیں کہ آپ اپنے وقت کے علم حقیقت وطریقت اور تصوف کے شیخ تھے۔ آپ پر مریدین کی تربیت عبادت کا طریق اور دنیا سے بے رغبتی کی سیادت ختم ہو جاتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ شیخ سہروردی ؒ نے تمام ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد خلوت نشینی اختیار کر لی اور صوم و صلوات ،ذکر وازکار میں مشغول ہو گئے اور آپ نے لوگوں کی وعظ و نصیحت کے لئے اپنے چچا اور اپنے پہلے مرشد اور استاد کے مدرسے میں جو کہ دجلہ کے کنارے واقعہ تھا قائم کیا ۔آپ کی مجالس وعظ ونصیحت سے علم و عرفان کی تلاش میں سرگردان طالب علم اور راہ حق کے متلاشی ہمیشہ سیراب ہو کر نکلتے ۔ اپنے وقت کے جلیل القدر امام حدیث حافظ منزری آپ کا تذکرہ کچھ یوں فرماتے ہیں :حضرت سہروردی ؒ اپنے زمانے کے امام ،بہت بڑے زاہد ، صوفی اور واعظ تھے ۔آپ فرماتے ہیں کہ شیخ سہروردیؒ نے نہایت مفید کتب تصنیف فرمائیں اور آپ ؒ طریقت اور مریدین کی تربیت وتزکیہ میں اپنے وقت کے شیخ الکل تھے کیونکہ آپؒ نے مخلوق خدا کو تعلق بااللہ کی طرف مائل کیا اور آپؒ بڑھاپے میں بھی کثرت سے عبادت الہی میں مشغول رہا کرتے تھے حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں “:آپ اکابرین صالحین اور سادات المسلمین میں سےتھے۔ رسلیہ کے مقام پر خلفاء اور حکمران وقت آپ کی خدمت میں حاضرہوتے رہتے اور آپ کی خدمت میں کثیر مال و دولت نذر کرتے لیکن آپؒ وہ سارا مال فقراء اور محتاجوں میں تقسیم فرماتے اور آپ ہمیشہ شریعت مصطفیٰ کے تابع اور حدود الہی کی پاسداری کرنے کی تلقین کرتے آپ ہمیشہ سادہ لباس ذیب تن فرماکر لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے “شیخ سہروردی ؒ نے مختلف فنون پر مبنی کئی کتب تصنیف فرمائیں جن کی تعداد چالیس تک بیان کی گئی ہیں اکثر اکابر صوفیہ کی طرح شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ بھی کتاب اللہ وسنت رسول ﷺ پر عبور رکھتے، کیوں نہ رکھتے آپ علومِ قرآنی کے فاضل اور فقہ وحدیث کے عالم ،عارف اور معلم تھے جو کچھ لکھتے اس پر قال اللہ وقال رسول اللہ ﷺ سے اسناد کرتے جاتے یہاں تک کہ جو باب اصولی وتعلیمی حیثیت رکھتے ان میں اکثر کا عنوان ہی کسی آیت کریمہ یا حدیث مبارکہ پر قائم کیا کرتے جس کا مقصد یہ سمجھانا ہوتا کہ اس باب میں جو کچھ بیان ہوگا وہ قرآن وحدیث ہی سے مستنبط ہوگا۔
اسلاف کی طرح شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ کے نزدیک تصفیہ قلوب اور تزکیہ نفوس براہ راست تعلیمات مصطفویﷺ کا ثمر ہیں ان تعلیمات سے ہٹ کر اور ان کے خلاف جتنے بھی طریقے ہیں سب گمراہی ہے اور جو شخص اس سرچشمہ رشد و ہدایت سے جتنا زیادہ سیراب اور مستفیدہوا اسی قدر صفائے قلب و تزکیہ نفس سے بھی بہرہ اندوز ہوا ۔بعض ذہنوں میں یہ خیال پھیلایا ہوا ہے یا پھیلا دیا گیا ہے کہ تصوف و طریقت شاید دین اسلام سے الگ ایک متوازی دین ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ خیال سراسر کم علمی اور کم فہمی پر مبنی ہے یاپھر یہ خیال آج کل کے نام نہاد اور خود ساختہ بے علم اور بے عمل صوفیوں کے ایجاد کردہ رسومات بد ،بدعات و خرافات دیکھ کر کچھ ذہنوں میں پیوست ہو گیا ہے مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیان ہے کہ جتنے بھی صوفیائے کرام اور اولیائے عظام دنیا میں آئے وہ سب کے سب شریعت مصطفوی ﷺ کے پابند اور دین اسلام کے سچے داعی تھے کیونکہ جب ان صوفیائے کرام کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی ذات بحیثیت مجاہد اسلام ،داعی اسلام اور محافظ شریعت اسلامیہ نظر آتی ہے اور ان کی زندگی اور کردار وگفتار میں قرآن و سنت اور صحابہ کرام و صالحینؓ کے اقوال واحوال سے ہٹ کر کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ لوگوں کو حق کی تلقین کرنے والے مبلغین و مصلحین امت تلاوت آیات کے محاز پر ڈٹے رہے ۔تزکیہ نفوس اور تصفیہ باطن کرنے والے صلحاء اور اصفیاء اپنے طور پر ہر دورمیں فریضہ رسالت نبھاتے رہے ۔تعلیم کتاب وحکمت سے بہرہ ور کرنے والے مجتہدین ،مفکرین اور حکمائے امت ہر عہد میں اس دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تجدید احیائے دین کا فریضہ سرطانجام دیتے رہے ۔ اشیخ الشہاب الدین سہروردیؒ بیک وقت عالم بھی تھے اور زاہد ومتقی بھی ۔آپ ایک باعمل عالم دین بھی تھے ایک باکردار اور با حیاء صوفی بھی تھے اللہ عزوجل کے دین کی سربلندی اور عظمت کی خاطر دین اسلام کے ایک سرفروش مجاہد بھی تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں