تحریر:توصیف رضا
نام:۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلال احمد ڈار۔۔۔۔۔۔تخلص صہبا
وادی کشمیر ازل سے ہی صوفی سنتوں اور درویشوں کی سرزمین رہی ہے یہاں شاعری کا ایک ایسا خزانہ پایا جاتا ہے جس کی حد کو مقید نہیں کیا جا سکتا لل دید سے یہ سفر شروع ہوا اور رہتی دنیا تک جاری رہے گا اردو کے نامور شاعر رسا جاودانی اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کی ہر پود میں کہیں نہ کہیںشاعری کی بو نظر آتی ہے ۔اس مختصر مضمون میں جس شاعر کی بات کی گی ،ان کا اصل نام بلا احمد ڈار اور قلمی نام ’’بلال صہباؔ ‘‘ہے جو اوگمنہ ٹنگمرگ سے تعلق رکھتے ہیں ۔اوگمنہ وادی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے ٹنگمرگ علاقے میں واقع ہے ۔آپ کے والد کا نام مرحوم غلام نبی ڈار ہے ۔آپ نے اپنا تعلیمی سفر اپنے گاؤں کے پرائمری سکول سے شروع کیا ۔وہاں سے مڈل کا امتحان پاس کر کے میٹرک ہائر سکینڈری سکول کنزر اور بارھویں کا امتحان فاضل کشمیری میموریل ہائر سکینڈری سکول چندیلورہ سے پاس کیا۔ عبدلا عہد آزاد میموریل کالج بمنہ سےبی ایس سی اور اگنو سے ایم اے انگریزی پاس کیا۔ آپ کا ادبی سفر اگر چہ مختصر ہے مگر دلچسپ ہے ۔آپ کا مزاج ایک طرف میڈیکل سائنس کی طرف راغب تھا تو دوسری طرف غالب کے صوفی رنگ اور اقبال کے روحانی فلسفے نے آپ کے دل میں گھر کر لیا تھا۔ اس کشمکش میں اردو کی محبت آپ پر تب غالب آئی جب آپ نے شیخ السلام پروفیسَر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی تحقیق کو پڑھنا شروع کیا ۔دھیرے دھیرے اردو ادب نے آپ کے دل میں گھر کر لیا اور آپ غالب اور اقبال کے علاوہ میر، فیض اور باقی شعرا کو بھی پڑھنے لگے ۔چند دلچسپ شاعری پڑھنے کے بعد آپ میں شاعرانہ مزاج پیدا ہوا ۔پھر توصیف رضا ’’جو کہ آپ کے ایک اچھے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاعر بھی ہیں ‘‘نے آپ کو شاعری لکھنے پر آمادہ کیا اور آپ کی شاعری ہفت روزہ ندائے کشمیر میں مسلسل شائع ہونے لگی ۔ آپ کا رجحان چوںکہ صوفی شاعروں کی طرف زیادہ ہے اس لئے آپ کی شاعری میں صوفی اور روحانی موضوعات نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔آپ غالب کو ایک صوفی شاعر ماننے کے قائل ہیں ان کے خمریاتی موضوعات کی شاعری سے آپ کافی متاثر ہیں اس وجہ سے آپ کاتخلص صہبا ؔؔؔؔہے ۔آپ کی شاعرانہ زبان نہ زیادہ آسان اور نہ ہی زیادہ مشکل ہے بلکہ ہر پڑھنے والا آپ کی شاعری سے علم کے علاوہ سرور کیف بھی پاتا ہے آپ کا رجحان زیادہ تر غزلوں کی طرف ہے۔ تاہم آپ نے کئی ایک نظمیں بھی لکھی ہیں۔۔۔۔۔۔
تحریر: توصیف رضا
غزلیاتِ بلال صہبا
غزل 01
بے ہوش ہوکے یوں پی کر شراب میں
دیکھے کئی نہاں منظر شراب میں
حائل حجاب بن کے “ہونا” ہے یہاں
دیکھا فنا ہو کے اکثر شراب میں
ثابت جرم نہ ہو قاتل نے اس لئے
دھویا ہے بارہا خنجر شراب میں
ممکن حصول جن کا یوں تو ہے نہیں
یکجا ملے ہیں وہ گوہر شراب میں
بے اختیار سچ مقصود ہے اگر
برپا ہْوا کرے محشر شراب میں
دیر و حرم میں زاہد ڈھونڈتا ہے جو
آیا نظر وہی پیکر شراب میں
صہبا کی ساقیا خواہش ہے آخری
مغسل قدح میں ہو مقبر شراب میں
غزل 02
بتا کیوں کر ہُوا تجھ سے جدا ہوں میں
رہا مخفی خودی میں جو، دکھا ہوں میں
ترا جلوہ کہاں ڈھونڈا کہاں پایا
پھرا در در یہاں آکر گرا ہوں میں
بہت رسوا کیا مجھ کو مگر ان لے
نشیمن ہے ترا،در پر لکھا ہوں میں
“نہیں” میں جب عدم تھا سوا کیوں کر
ازل سے یوں عیاں بالکل ہوا ہوں میں
پرے ادراک سے موجود ہوں دائم
فلک سے یوں صدا آئی “خدا ہوں میں”
خرد حیراں پریشاں دل ہوا ،جب سے
ملاقی اس پری رو سے ہوا ہوں میں
عیاں سب پر نہیں ہے کیوں، اگر صہبا
مکیں بولا، نہیں تجھ سے جدا ہوں میں
غزل 03
جھیل دریا اور بحر بیکراں آنکھیں تیری
چاند سورج نو انور کہکشاں آنکھیں تیری
کردیا بے ہوش بسمل دل جگر عقل و خرد
جامِ مسکر سمِّ قاتل ہیں سناں آنکھیں تیری
سیرِ جنت کر گئے ہیں دیکھنے والے کئی
اک نظر جو دیکھ آئے بے کراں آنکھیں تیری
یوں بنے آفاق مسکن چاند تارے آسماں
اس قدر بدلے مقدر کُن فکاں آنکھیں تیری
ماورا جو آنکھ سے ملکوت کی ہر آن ہے
اس جگہ بھی چھوڑ آئی کچھ نشاں آنکھیں تیری
رہگزر جو راکھ کر دے روح کے اندام کو
وہ گلی کیا! دیکھ آئی لامکاں آنکھیں تیری
ہے طلب صہبا یہی بس دیکھ لیں ہم بھی کبھی
باغِ جنت نور یزداں درفشاں آنکھیں تیری
غزل 04
خرد میں نظر میں فقط تو ہی تو ہے
یوں دل میں جگر میں فقط تو ہی تو ہے
ترا رخ سے گیسو اٹھانے سے جانا
طلوع سحر میں فقط تو ہی تو ہے
ہے معمور ایسے یہ دل کی حیاتی
رگوں کی نہر میں فقط تو ہی تو ہے
ابھر کر زمیں سے یہ کہتا ہے پودا
زمیں میں شجر میں فقط تو ہی تو ہے
جو آنکھوں کو تری ہاں اک بار دیکھے
وہ سمجھے بصر میں فقط تو ہی تو
یہ انفاخ کے راز سے ہی عیاں ہے
حقیقت، بشر میں فقط تو ہی تو ہے
چمک سب ستاروں کی کہتی ہے صہبا
کہ شمس و قمر میں فقط تو ہی تو ہے
غزل 05
نشہ یہ کیسا شراب میں ہے
انگور میں ہے عناب میں ہے
اسی سے ساغر بھی جھومتے ہیں
یہی تو بجتا رباب میں ہے
لکھا ہے جو بھی غزل میں ہم نے
عیاں وہ تیرے شباب میں ہے
طہورِ جنت بتا رہا ہے
حرام سمجھے سراب میں ہے
قلندروں نے جو پی رکھی ہے
کھلے وہ ماخذ جناب میں ہے
چکھو تو زاہد ملے گی تم کو
مہک کہ پیدا گلاب میں ہے
شراب وحدت دکھائے صہبا
چھپا بھی جو کچھ حجاب میں ہے
غزل 06
خواب ہو جاتے ہیں اکثر ذات میں کھو جاتے ہیں
چاند تکتے رہتے ہیں جو رات میں کھو جاتے ہیں
بات باتیں بات کی ہیں بات حسنِ راز کی
فلسفی اکثر یہاں اس بات میں کھو جاتے ہیں
ہم حقیقت کے دوانے ہیں وفا کے پاسباں
تیغ سے ڈرتے نہیں خدشات میں کھو جاتے ہیں
ہو نہ غلبہ عشق کا گر روح پر اندام پر
پھر خردکے راہ رو ظلمات میں کھو جاتے ہیں
قیس ہو جاتے ہیں جو بھی عشق میں محبوب کے
دشت فرقت کے صریح لمحات میں کھو جاتے ہیں
ہے حرم میں گم وہ واعظ ہاں مگر یہ بادہ کش
روز حسنِ ساقی کے لذٌات میں کھو جاتے ہیں
حال سے ہو بے خبر جو راز سے نا آشنا
وہ مرکب چار کے یوں سات میں کھو جاتے ہے
پر توے خورشید میں بھی صہبا رکھ خاموش لب
لوگ اکثر اس جگہ جزبات میں کھو جاتے ہیں
غزل نمبر 07
الجھی ہے عقل “کب” “کیوں” کے غبار میں
سر مست عشق ہے “لا” کے خمار میں
افلاک پر فرشتوں نے کیا گلہ
یہ خاک محتشم ہے کیوں اس جوار میں
اب روز سر جھکائے بیٹھتا ہوں یوں
دیکھا تھا جب اسے یوں ایک بار میں
اس رہگزر سے وہ گزریں گے آج، تو
سن کر ہوا بہت ہی بے قرار میں
ہوں تو کھڑا ابھی دہلیز عشق پر
کرنے لگا ابھی سے غم کو شمار میں
لہریں محیط میں ہوتی ہیں جس طرح
یوں آپ پر ہوا کچھ آشکار میں
اس کی عطا نے بخشا یوں مجھے سکوں
بلبل ہے جیسے صہبا برگ بار میں.
نظم ۔۔۔۔ آدم
ازل سے رہا ہے یہ اعجاز تیرا
زمیں آسماں میں ہے پرواز تیرا
سمندر سے قطرہ جدا گر ہے اب بھی
کرے وصل ممکن یہ ہمراز تیرا
ہیں تیرے لئے دو جہاں یہ مسخّر
یہ تحت الثّرا ہے یہ افراز تیرا
نظارے کو تیرے کہا دید اپنی
کِیا اس قدر جلوہ ممتاز تیرا
حسینوں میں تجھ کو بنایا حسیں تر
نزاکت تیری اور اغماز تیرا
اصل بھید اس نے تو تم کو بنایا
چھپایا تمہی سے مگر راز تیرا
یوں رندوں کے اس دوستانے سے صہبا
ہوا نام مشہور مے باز تیرا
����
