کمر دردوجوہات،علامات ، علاج، احتیاطی تدابیر 89

افسانچے

ڈاکٹر نذیر مشتاق
ناحق
وجے بھٹ مچھلیوں سے بھرا بیگ لے کر اپنے باس کے فلیٹ کی طرف چل پڑا۔۔۔۔فلیٹ آفس کے نزدیک ہی تھا۔جب بھی کوی چیز گھر بھیجنی ہوتی باس وجے کا ہی انتخاب کرتا کیونکہ وہ ایک ایماندار محنتی اور قابل ورکر تھا۔۔باس کی بیوی بھی اسے بہت پسند کرتی تھی
وجے باس کے گھر پہنچا تو باس کی بیوی نے اس کا استقبال کیا۔۔۔۔ وجے نے مچھلیوں سے بھرا بیگ کچن میں رکھا اور باتھ روم میں جاکر ہاتھ صابون سے دھو لیے۔
باس کی بیوی نے اسے چاے پینے کے لیے کہا مگر وجے نے انکار کیا۔ باس کی بیوی نے دروازہ اندر سے بند کرکے وجے کی گردن میں اپنی باہیں حمایل کردیں۔۔۔ اور اسے اپنی طرف کھینچنے لگی۔۔۔۔مگر وجے نے انکار کرکے اپنی جان چھڑالی۔ باس کی بیوی زخمی شیرنی کی طرح بپھر اٹھی اور بیر روم میں جاکر اوندھے منہ بیڑ پر ہانپنے لگی۔۔۔۔
وجے نے رستے میں ٹھنڈا مشروب پیا اور آفس پہنچ کر اپنی جگہ بیٹھنے ہی والا تھا کہ باس کا پیغام آیا۔۔۔۔وہ باس کے کمرے میں گیا تو باس اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر رسید کرتے ہوے اس سے کہا۔۔۔۔تمہاری جرات کیسے ہوی میری بیوی کے ساتھ ۔۔۔۔ دفع ہوجاؤ یہاں سے۔ یو آر فایرڑ۔۔۔۔گٹ لاسٹ۔۔۔۔‌ پھر وہ جلدی سے بیوی کا نمبر گھمانے لگا۔وجے آفس سے باہر آکر سوچ رہا تھا کیا مجھے اب باس کے گھر جانا چاہیے یا اپنے گھر۔۔۔۔۔،؟؟؟؟

فہم

سونو نے ٹی وی اسکرین پر لمبی داڑھی والے لیڑر کو دیکھ کر زور زور سے تالی بجانا شروع کیا۔یہ انکل ہم کو چھٹی دلواتا ہے۔۔۔۔لیڑروں نے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا اور سرکار نے کرفیو کا اعلان کیا تھا لوگ گھروں میں محصور تھے۔سونو خوش تھی کہ اسے اسکول سے چھٹی ملی ہے۔ اب وہ دن بھر اپنی دوست کے ساتھ کھیلے گی۔۔۔ہفت رنگی چڑیا اس کی سب سے پیاری سہیلی تھی۔۔۔سات رنگوں کی یہ چڑیا اس کے باپ نے ایران سے لاءی تھی۔۔وہاں اس کا ایک دوست تھا جس کا مشغلہ انواع و اقسام کے پرندے جمع کرنا تھا سونو کے باپ احمد علی میر کو یہ چڑیا اسی نے تحفے میں دی تھی۔۔۔سونو خالی وقت میں اسی چڑیا کے ساتھ دل بہلاتی۔ اسے دانہ کھلاتی پانی پلاتی باتیں کرتی ۔۔۔ آج وہ اس سے کہہ رہی تھی۔۔میری سہیلی اب چھٹی ہے ہم کھیلیں گے گایں گے ۔ہنسیںگے گانے سنیں گے۔۔۔۔۔وہ چڑیا کو پانی پلارہی تھی۔۔۔۔اس کے مان باپ اسے پیار سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ ہڑتال اور کرفیو جاری تھا۔ چالیس دن سے سونو گھر میں تھی۔ باہر جانے کی کسی کو اجازت نہیں تھی اس لیے سونو کو بسکٹ کرکرے چیپس اور چاکلیٹ بھی نہیں مل رہے تھے۔ وہ اکتا گیی تھی اسے رہ رہ کے سکول کی سہیلیوں کی یاد آرہی تھی اس لیے وہ بیقراری کے عالم میں کبھی اوپر کبھی نیچے ٹہل رہی تھی۔ اس کی ماں اس کا درد سمجھ گءی تھی مگر کیا کرتی۔۔ اچانک سونو لیٹ گءی چند لمحوں کے بعد اس کی آنکھ لگ گیی۔۔۔ا س نے خواب میں دیکھا کہ کچھ بد صورت لوگوں نے اسے پکڑ کر ایک لوہے کے پنجرے میں قید کرلیا۔ وہ تڑپنے لگی مگر اس کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔ وہ پنجرے میں کبھی ادھر کبھی ادھر پھڑ پھڑ انے لگی۔ وہ عالم اضطراب میں سارا بدن ہلانے لگی۔ بد صورت لوگ اس کی حالت زار پر زور زور سے قہقہے لگا رہے تھے۔ وہ پسینے میں شرابور ہوئی اس کا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔کسی بدصورت شخص نے اس کا گلا دبانا چاہا وہ ایکدم سے جاگ گئ۔ ۔۔ ماں۔ اس کے حلق سے چیخ نکل گئی۔۔۔۔اس کی ماں نے اسے سینے سے لگایا اس کا باپ بھی اس کے نزدیک آیا۔۔اس نے دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ان کو تیسری منزل کے ورنڈا پر لے گئی۔۔۔ پھر اس نے پنجرہ لایا جس میں ہفت رنگی چڑیا قید تھی۔۔ اس نے بایں ہاتھ سے پنجرہ پکڑا اور دایں ہاتھ سے پنجرے کا چھوٹا سا دروازہ کھولا۔ چڑیا پھر سے اڑگئی۔ وہ دیر تک آسمان کی طرف دیکھتی رہی۔۔۔۔
����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں