افسانہ۔۔۔۔۔۔۔چیل اور چنار 106

افسانہ زینہ

تحریر:- راجہ یوسف

ایک بھیگے زمین کے چہرے کو اس ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے نے مسخ کر رکھا تھا جو اس کے بیچوں بیچ چیچک کے بدنما داغ کی طرح نظر آ رہا تھا۔ جھونپڑے کے گرد پتھریلی زمین میں اُگی خودرو جھاڑیاں اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ اس سارے اثاثے کا مالک ضرور کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوگا ۔۔۔۔۔
حالانکہ کبھی یہ جھونپڑا ایک خوبصورت کاٹیج تھا جو عشق پیچان سے ڈھکا تھا اور کاٹیج کے ارد گرد دس بھیگے زمین کا خوبصورت اور پر رونق باغ تھا۔سائیڈ میں نوکروں کے کوارٹرز بنے تھے اور ننھا عامراپنے والد ماجد علی کے سامنے ہی لان میں اٹھکیلیان کرتا رہتا تھا۔ کبھی پھولوں کے جھنڈ میں آنکھ مچولی کھیلی جا رہی تھی اورکبھی سیبوں کے پیڑوںسے جھولاجھلایا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ اچانک تنداور تیز ہوا کے جھونکوں سے خوشیوں کے باب الٹ گئے، ماجد علی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ، سب کچھ بکھر گیا۔۔۔ ماجد علی اپنے بیٹے عامر کو کسی بڑے عہدے پردیکھنا چاہتا تھا،لیکن وہ اپنے خواب کو پائے تکمیل تک نہ پہنچا سکا، ہاں ان کا خواب اُن کی بیوی آصفہ بیگم نے پورا کرنے کے لئے عامر پر تن،من،دھن صرف کیا ۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ آس پاس کی زمین بکتی چلی گئی۔۔۔نوکروں کو رخصت کر دیا گیا۔۔۔ پھولوں سے ڈھکے کاٹیج کے چھت کی کمر بیٹھتی چلی گئی۔۔۔ بارش کی تیز بوچھاریں دیواروں سے سفیدی کھرجنے لگیں، اچھی اور قیمتی چیزیں ایک ایک کرکے بکتی چلی گئیں اور آہستہ آہستہ دس بھیگے زمین سکڑتی سکڑتی ایک بھیگے تک پہنچ گئی ، اور خوبصورت کاٹیج جھونپڑے کی شکل اختیار کر گیا۔۔۔عامر تب تک انجینرنگ فسٹ ڈیوژن میں پاس کر چکا تھا ۔ آصفہ بیگم نے اپنی ساری توجہ عامر پر مبذول کر رکھی تھی ۔۔۔اور وہ اپنے آپ کو بھول چکی تھی ۔۔۔ عامر بھی پڑھائی میںبہت زیادہ مشغول تھا اور جب اس کو اپنی ماں کو غور سے دیکھنے کاموقعہ ملا تب تک وہ دمہ کی ایسی مریضہ بن چکی تھی کہ جس سے اب چھٹکارا پانا اگر چہ ناممکن نہیں مگر مشکل ضرور تھا ۔۔۔۔۔
انجینرنگ کی سرٹیفکیٹ ہاتھ میں لیئے عامر نے نہ جانے کتنے انٹرویو دیئے، کتنے در کٹکھٹایئے ۔۔۔ ہر صبح نئی آرزولے کر گھر سے روانہ ہونا اور رات گئے چہرہ لٹکا کر واپس آنا اُس کا معمول بن چکا تھا۔۔۔ماں کی دوائی کے لیئے برتن تک بک گئے، لیکن وہ ٹھیک نہ ہوسکی ۔۔۔ اسے مسلسل علاج کی ضرورت تھی،علاج کے لیئے بہت سارا پیسہ چاہئے تھا ، اور یہی پیسہ عامر کے پاس نہیں تھا۔۔۔۔ ایک دن عامر حسبِ معمول دیر سے گھر پہنچا تو اسے ہر در سے مایوسی ٹپکتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔ بڑی مشکل سے اندر پہنچا تو ماں کی کھلی آنکھیں اسے تک رہی تھیں ، وہ دوڑ کے ماں کے سرہانے پہنچ گیا ، اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ ماں کی بے نور آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔۔۔ اسے دل کی دھڑکن بند ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگی۔۔۔ ماں کو جھنجوڑا ، چیخا ، چلایا ۔۔۔ لیکن بے نور آنکھیں پلک جھپکائے بغیر اسے تکتی جا رہی تھیں۔۔۔۔۔ کتنا بے بس تھا وہ ۔۔۔ کوئی پوچھنے والا بھی نہ تھا ۔۔۔ چپ کرانے والا بھی کوئی نہ تھا، بس اگر کوئی قریب تھا تو وہ تھا بے انتہا درد، اکیلے پن کی کسک، تنہائی کی چبھن ، اوراحساسِ بے بسی ۔۔۔ کیسا وقت تھا خود ہی روتا رہا اور خود ہی اپنے آپ کو تسلی دیتا رہا ۔۔۔۔۔
زندگی کے بے انتہا رتیلے سمندر میں وہ اپنے آپ کو بے یارومددگار گھسیٹتا رہا ۔۔۔ وقت کے شعلہ بار تھپیڑوں نے اُس کے چہرے کو کرخت بنا دیا ۔۔۔ شوخی اور چنچلاپن تند لہروں کی نذر ہو گیا۔۔۔ ہونٹوں پر زہریلے ناگ کی سی پھنکار چپک گئی ۔۔۔اور جسم کی طرح اس کا دل بھی سیاہ، سخت، اور کھردرا ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔
اپنے آخری اثاثے ٹوٹے پھوٹے کاٹیج کو فروخت کرکے شہر کے مشہورکنٹریکٹرسے پندرہ لاکھ روپے لے کراس کا چہرہ اور سیاہ ہوگیا ۔۔۔ صرف ایک ہفتے کے بعد لسٹ میں اس کا نام سرِفہرست تھا۔۔۔۔۔۔ کچھ سال ادھر اُدھر کام کرنے کے بعد اس کی ٹرانسفر دوسرے شہر میں ہوگئی۔ جہاں وہ ایک خوبصورت سرکاری کوارٹر میں اپنی آرائش و زیبائش کے ساتھ منتقل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔ اب وہ اس شہر کا نیا انجینئر مسٹر عامر علی تھا اور دفتری کام میں ماہر جواہرکاک اس کا خاص آدمی بن چکا تھا۔ جوا ہرکاک میں ہر نئے افسر کا خاص آدمی بننے کی پوری صلاحیت موجود تھی ۔۔۔۔۔ شہر کے بڑے بڑے کنٹریکٹرز سے جوا ہرکا ک کے قریبی مراسم تھے ۔۔۔ اس لئے عامر کا چارج سنبھالتے ہی ٹھیکہ داروں کے ہاں نئے انجینئر کے اعزاز میں رنگا رنگ ضیافتوں کا اہتمام ہونے لگا۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ نئے انجینئر کے شوق و ذوق ،جوش و جذبے اورکام کے تئیں اُس کی لگن سے بھی سارے لوگ واقف ہوتے گئے ۔۔۔۔
چند دنوں میں ہی عامر نے ایک اچھے خاصے نباض کی طرح کام سے واقفیت، ارد گرد سے باخبر اورماحول کو اچھی طرح جانچھا پرکھا۔۔۔ پھر جوا ہرکا ک سے پرایئویٹ روم میں پرایئویٹ باتیں شروع ہوئیں ۔۔۔ جواہرکاک کے ہونٹوں پر مکارانہ مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔ کام نے سرعت پکڑ لی۔۔۔ رات کیا اور دن کیا عامرکا قلم گھستا رہا اور کورے کاغذ کے ڈھیر سیاہ ہوتے گئے ۔۔۔ پھرعامر ایک ہی جگہ پر رکا نہیں رہا ، وہ آج یہاں تو کل وہاں ۔۔۔۔ جہاں جہاں بھی نئے اور بڑے پروجکٹ آتے تھے وہاں عامر کی پوسٹنگ ناگزیر بنتی تھی۔۔۔ ہر جگہ پر جواہرکاک جیسے پرائیویٹ سکریٹری بدلتے گئے اور کام میں اضافہ ہی ہوتا گیا، پیسے کی کافی ریل پیل ہوگئی ۔۔۔ نئی پوسٹٹنگس اور پراموشنس پر پیسہ پانی کی طرح خرچ ہوتا گیا ۔۔۔ پیسہ کمانے اور خرچ کرنے کی دوڑ میں عامر کو خود بھی پتہ نہیں چلا کہ وہ چیف انجینئر کے عہدے پر کب پہنچا ۔۔۔۔۔ عہدہ بڑنے کا احساس اسے تب ہوتا تھا جب اس کے قلم میں اور زیادہ طاقت آجاتی تھی ۔۔۔۔
بڑے بڑے آفسران اسے خوش تھے ، منسٹروں کا وہ چہیتا تھا اور ٹھیکہ داروں میں ہردل عزیز ۔۔۔۔۔ سروس ریکارڈ میں وہ بڑا ایماندار، دیانتدار اور انصاف پرور آفیسر درج تھا ۔۔۔۔۔اب وہ ایک بھیگہ زمین میں ٹوٹے پھوٹے کاٹیج کا دردبھول چکا تھا ۔۔۔ تنہائیوں کا احساس دولت کی ریل پیل کی رنگینیوں میں دفن ہو چکا تھا۔۔۔ زندگی کی ہر چیز اسے میسر تھی۔۔۔
اور تمام آرام و آسائش کے ساتھ بیس بھیگہ زمین کے بیچو بیچ اس کی شاندار کوٹھی دلہن کی طرح جگمگ جگمگ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں