از قلم : محمد صالح انصاری
ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد
اردو ادب کی تاریخ میں ہمیں کچھ ایسی علمی و ادبی شخصیات مل جاتی ہیں، جن کے فکرو فن سے ہم اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کا نام آتے ہی ہمارے ذہن میں ایک خاص قسم کا تلازماتی تصور ابھر کر سامنے آتا ہے۔ انھی میں سے ایک اہم نام ضیائؔ فتح آبادی کا بھی ہے۔ مہرلال سونی بمعروف ضیائؔ فتح آبادی دنیائے شعرو ادب کا ایک ایسا درخشندہ ستارہ ہے جس نے اپنی پوری زندگی علم و ادب کی ترویج و اشاعت میں صرف کردی۔ وہ ایک بلند پایہ شاعر، ادیب اور صحافی تھے۔ انھوں نے شاعری کی تقریباً تمام اصنافِ سخن پر طبع آزمائی کی ہے۔ خاص کر شاعری کی ایک اہم صنف ’سانیٹ‘ پر خصوصی توجہ کی۔ ان کے دس شعری مجموعے طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آئے۔ پہلا شعری مجموعہ بیس سال کی عمر میں ’’طلوع‘‘ کے نام سے ۱۹۳۳ء میں آگرہ سے شائع ہوا۔ ضیائؔ صاحب در اصل ایک شاعر تھے مگر انھوں نے نثری ادب کو بھی پروان چڑھانے میں اہم کردار انجام دیا ۔ تین نثری تصانیف میں دو تنقیدی مضامین ’’ذکر سیمابؔ‘‘ اور ’’شعر اور شاعر‘‘ ہیں، اور ایک اُن کا افسانوی مجموعہ ’’سورج ڈوب گیا‘‘ بھی شامل ہے۔ ضیائؔ صاحب دبستانِ سیماب کے نامور شاعر اور ادیب تھے ۔ وہ علامہ سیمابؔ کے اس قدر چہیتے اور ہردل عزیز تھے کہ علامہ کی اُن سے برابر خط و کتابت کیا کرتے تھے۔ خطوط کا یہ مجموعہ ’’سیمابؔ بنام ضیائ‘‘ شائع ہو کر منظر عام پر بھی آیا۔جس میںمختلف ادبی مسائل پر گفتگو کی گئی ہے۔ ضیائؔ صاحب کو بھی علامہ سیمابؔ سے بے حد لگاؤ تھا۔ انھوں نے استاد ہی کے نام سے ۵۲۔۱۹۵۱ء میں دہلی سے ایک رسالہ ’’سیماب‘‘ جاری کیا۔ جو تقریباً دوسال تک جاری رہا۔
ضیائؔ صاحب کے اس وسیع تر علمی و ادبی کارمے کو دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنا زیادہ تر وقت ادب کے لیے صرف کیا ہوگا،مگر ایسا نہ تھا۔ ضیائؔ نہ تو کسی ادبی یا تعلیمی ادارے سے منسلک رہے اور نہ ہی اُن کے گھر میں کبھی شاعری کا چرچہ تھا۔وہ بینک کی ملازمت میں تھے۔ ان کی شاعرانہ زندگی کا بیش قیمت حصہ بینک کی ملازمت میں ہی صرف ہوا۔انھیں فرصت کی ایام کم ہی میسر ہوئے جس سے وہ اپنے فن کی دھار کو چمکا سکتے تھے۔ پھر بھی شعرو ادب سے انھیں اس قدر جذباتی لگاؤ تھا کہ مشق سخن کے لیے وقت نکال لیا کرتے تھے۔ ادب سے اس قدر انسیت اور دلچسپی کے سبب انھیں اردو شاعری میں بلند مقام و مرتبہ حاصل ہوا۔ ان کی شاعری کے مطالعہ سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ جتنے بڑے شاعر تھے اس سے کہیں بڑھ کر انسانی قدروں کے محافظ اور علم بردار تھے۔ وہ مقصد حیات کے تئیں بے حد فکر مند تھے۔ ان کی پوری شاعری اخوت، محبت ، غمگساری اور ہمدردی کے جذبات سے سرشاری نظر آتی ہے ؎
آؤ توذرا یہ پوچھ ہی لیں ہر روز بدلتی قدروں سے
انساں نہ ملے گا جب کوئی، وہ عالمِ انساں کیا ہوگا
ضیائؔ فتح آبادی کے حالات او ادبی خدمات کے تعلق سے اس سے قبل کچھ کتابیں ضرور شائع ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ مختلف رسائل و جرائد میں وقتاً فوقتاً مضامین بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ مگر ضیائؔ فتح آبادی جیسے بڑے ادیب اور فنکار کے لیے اتنا کافی نہ تھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس عظیم شاعر کی حیات اور فکرو فن پر ایک ایسی کتاب شائع کی جائے جو اُن کی ادبی زندگی کے تمام گوشے کا مکمل احاطہ کرسکے۔ مجھے یہ سن کر بے حد خوشی ہوئی کہ اس کمی کو پورا کرتے ہوئے محترمہ ڈاکٹر صالحہ صدیقی صاحبہ نے ’’ضیائے اردو‘‘ کے نام سے کتاب مرتب کرکے مطبع بک کارپوریشن دہلی سے ۱۹۱۶ء میں شائع بھی کرادی۔ اس کتاب میں ملک و بیرونِ ملک کے مشاہیر ادب کے تحریر کردہ کل ۲۲ مضامین شامل ہیں۔ یہ تمام مضامین اس خوبی سے ترتیب دیے گئے ہیں جس سے ضیائؔ فتح آبادی کی حیات و خدمات اور فکروفن کے ہر ایک گوشے پر روشنی پڑسکے۔ کتاب کا پیش لفظ مرتبہ موصوفہ نے خود ہی تحریر کیا ہے۔ جس میں انھوں نے ضیائؔ صاحب کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کرتے ہوئے کتاب کی اہمیت اور غرض و غایت پر بخوبی روشنی ڈالی ہے۔ پیش لفظ کے فوراً بعد مرتبہ نے ضیائؔ صاحب کی حیات و خدمات اور ان کی ادبی حیثیت پر ایک مختصر سوانحی کوائف بھی پیش کردیا ہے ۔جس پر یک بارگی نظر ڈالنے سے ہی اس عظیم شاعر کا تصور آنکھوں میں ابھر آتا ہے۔
کتاب کا سرورق حد درجہ خوبصورت اور جاذبِ نظر ہے نیز اس پر ضیائؔ فتح آبادی کی ایک نایاب تصویر بھی آویزاں ہے۔ کتاب مجلد اور طباعت بے حد عمدہ اور نفیس ہے۔ غرضِ کہ ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی یہ کتاب ضیائؔ فتح آبادی کی شخصیت اور ادبی خدمات پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب کے تمام تنقیدی و تجزیاتی مضامین ضیائؔ فتح آبادی کی حیات و خدمات کے مکمل خدوخال پیش کرتے ہیں۔ یہ کتاب ایک اہم علمی و تحقیقی کارنامہ ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی سرمایے میں ایک بیش بہا اضافہ بھی ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب ضیائؔ شناسی کے باب میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔بقول مرتبہ ’’امید ہے میری یہ کوشش ادبی حلقوں میں دلچسپی کا باعث بنے گی اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔‘‘ کتاب اور مرتبہ کتاب کے تعلق سے زیادہ کچھ نہ کہتے ہوئے ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کے یہ اشعار پیش کردینا بہتر سمجھتا ہوں ؎
صالحہ صدیقی ہیں اس دور کی تخلیق کار
جن کی تخلیقات ہیں اہل نظر پر آشکار
ہے ضیاؔ کے فکروفن پر اُن کی معیاری کتاب
تھے فتح آباد کے جو شاعرِ عالی وقار
�����
