نالہ شب کہاں سے اُٹھتا ہے 94

قطعات

یاور حبیب ڈار بڈکوٹ ہندوارہ

ہجوم زندگی سے شاد ہو کر
چلا ہوں گھر سے اب برباد ہو کر
حقیقت آنی اور فانی ہماری
ہوئے برباد ہم آباد ہو کر °°°°°°°°°
مری تقدیر کو کر دے تُو روشن
تخیل میں مرے بھر دے تُو روشن
ترے شمس و قمر اور چاند سُورج
مری رگ و پے کو اب در دے تُو روشن °°°°°°°°°°
نہ سوچو کتنے ہیں عیب میرے
بھروسہ تُجھ پہ ہے اے غیب میرے
مدینے سے کوئی پیغام لائے
مٹا کے آئیں ہیں لاریب میرے °°°°°°°°°°
ابھی سے گردشِ پیہم پڑا ہوں
کہ بھٹکے راہ میں جیسے کھڑا ہوں
کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہے
یہی حالت ہے، افسردہ پڑا ہوں
یاور حبیب ڈار بڈکوٹ ہندوارہ
طالبِ علم:- شعبہء اردو کشمیر یونی ورسٹی سری نگر
موبائل؛ 6005929160

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں