محنت
کہانی پرویز مانوس
نوٹ :- پرویز مانوس جموں کشمیر کے معتبر شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور ترجمہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے لئے بھی کافی ادب لکھ چکے ہیں ،اس وقت تک وہ مختلف اصناف میں بیس سے زیادہ کُتب لکھ چکے ہیں، انہیں بہترین ادب تخلیق کرنے کے عوض چار مرتبہ سرکاری اعزازات سے بھی نوازہ جا چکا ہے اس کے علاوہ کئی غیر سرکاری اداروں کی طرف سے اعزازات سے نوازا گیا ہے، وہ جموں کشمیر میں واحد ادبی تنظیم “کاروانِ شعرائے اردو” کے سرپرست اعلی بھی ہیں، آج کے شمارے میں بچوں کے لئے پیش ہے ان کی لکھی کہانی _۔۔۔۔
محمود اور اشتیاق دونوںایک ہی اسکول میں اور ایک ہی جماعت میں پڑھتے تھے۔ محمود اکثر کھیل کود میں مصروف رہتا اور پڑھنے لکھنے سے کتراتا تھا۔ وہ اسکول سے بھی غیر حاضر رہتا تھا۔ جس وقت استاد اُسے سبق سنانے کیلئے کہتے تو محمود کبھی پیٹ درد کا تو کبھی سردرد کا بہانہ کرتا۔ شاید اسی لئے تمام بچے اُسے فراڈ کہتے تھے۔ اب تو وہ اساتذہ کی نظروں میں بھی کھٹکنے لگا تھا۔ اُس کے برعکس اشتیاق نہایت ہی لائق اور محنتی لڑکاتھا اور وہ اپنا سبق روزانہ محنت کے ساتھ یاد کرکے آتا تھا، اسی وجہ سے وہ جماعت میں ائول آتا تھا۔ اُس کے والدین اور اساتذہ بھی اُسے بہت پیار کرتے تھے۔ ایک روز محمود کھیل کر آیا تو اُس کا سارا جسم تھکاوٹ سے چور تھا اور اُس کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی۔ آتے ہی اُس نے بہن کو پریشان کرنا شروع کردیا۔ مجھے بھوک لگی ہے، جلدی کھانا دو‘‘ لیکن بہن گھر کے کام میں مصروف تھی۔ اُس نے محمود سے کہا’’ پہلے میں کام ختم کرلوں، پھر کھانا دوں گی۔ کھانے کے وقت پرکیوں نہیں پہنچے؟ اب تھوڑا صبر کرلو۔۔۔۔‘‘ بس اتنی سی بات پر وہ روٹھ کر چٹائی پر لیٹ گیا۔ اچانک اُس کے سامنے ایک اونچا لمبا فرشتہ اپنے لمبے لمبے بازو پھیلا کر کھڑا ہوگیا۔ محمود اُسے دیکھ کر ڈر گیا لیکن فرشے نے بڑی حلیمی سے کہا’’ ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ میں تمہاری کچھ مدد کرنا چاہتا ہوں۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟ محمود کو تو بہانہ چاہئے تھا، وہ بولا ’’مجھے سبق یاد کرادو! کل سے میرا امتحان شروع ہورہا ہے‘‘۔ فرشتے نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’’ تم سبق خود ہی یاد کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘ محمود بولا’’ میں تو بہت یاد کرتا ہوں مگر پھر بھول جاتا ہوں، مہربانی کرکے آپ کوئی ایسی ترکیب بتائو، جس سے بغیرمحنت کے ہی مجھے سارا سبق یاد ہوجائے‘‘ فرشتے نے ہنستے ہوئے پوچھا’’ اچھا بتائو تم کون کون سی کتاب کا سبق یاد کرنا چاہتے ہو؟‘‘محمود نے سنتےہی اپنی تمام کتابیں فرشتے کے آگے رکھ دیں۔ فرشتے نے تمام کتابوں کے اوپر سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا’’ اچھا بچے! کل کا دن چڑھتے ہی ان کتابوں کا سبق تجھے حفظ ہوجائےگا‘‘۔ یہ کہہ کر فرشتہ غائب ہوگیا۔ محمود بہت خوش ہوا کہ اب وہ بغیر محنت کئے ہی اپنی جماعت میں ائول آئے گا۔ پھر لطف یہ کہہ کر فرشتہ غائب ہوگیا۔ محمود بہت خوش ہوا کہ اب وہ بغیر محنت کئے ہی اپنی جماعت میں ائول آئے گا، پھر لطف یہ کہ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری، رنگ بھی چوکھا آئے۔وہ خوش سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ دوسرے دن محمود اور اشتیاق امتحان ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ محمود بہت خوش تھا کیونکہ اُسے فرشتے کی بات اچھی طرح یاد تھی اُسے پوری امید تھی وہ نہ صرف پاس ہوجائے گا بلکہ اپنی جماعت میں ائول بھی آئے گا۔
اتنے میں ہیڈ ماسٹر نے سوالات کا پرچہ محمود کے ہاتھ میں تھما دیا۔ محمود نے جب پرچہ پڑھا تو وہ خوشی سے اُچھل پڑا کیونکہ پرچے پر درج سوالات کے جوابات اُسے لفظ بہ لفظ یاد تھے۔ اب اُسے اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا، وہ سوالات کے جوابات لکھنے لگا مگر اُس کو یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ جو کچھ اسے کے دماغ میں ہے ، وہ اُسے کاغذ پر نہیں اُتار سکتا،اُس نے بہت کوشش کی کہ جواب کاغذ پر اُتارے مگر اُس کا قلم کاغذ پر رک جاتا تھا۔جیسے اُس کا ہاتھ کسی نے پکڑ کر رکھا ہو۔ اتنے میںامتحان کا وقت ختم ہوگیا۔ ہیڈ ماسٹر نے تمام بچوں کے جوابی پرچے لے لئے۔ بچارا محمود جوابی پرچہ بالکل کورا دے کے کمرے سے باہر نکل گیا۔ اُسے اس فرشتے پر بہت غصہ آرہا تھا۔ محمود ابھی فرستے کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ کسی نے اس کا بازور زور سے کھینچا۔ محمود کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے دیکھا کہ اس کا باپ اس سے کہہ رہا تھا’’ محمود اٹھ کر اپنی چار پائی پر سوجا‘‘ اب محمود کی سمجھ میں آیا کہ فرشتے کا آنا اور امتحانی ہال میں جوابی پرچہ کورا دینا سارا خواب تھا۔ اس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ جب تک وہ محنت نہیں کرے گا۔ امتحان میں خیالوں کے سہارے کامیابی حاصل نہیں ہوگی‘‘ اُس دن کے بعد محمود نے جی جان سے محنت شروع کردی اور آئندہ امتحان میں تمام بچوں نے دیکھا کہ محمود ایک دم لائق ہوگیا ہے۔ اب کی بار وہ امتحان میں ائول بھی آیا۔ اب سبھی اُسے اچھی نظروں سے دیکھتے تھے۔
ون ون ، ٹو ٹو۔۔۔۔۔۔۔
شاہد جمیل
نوٹ :- شاہد جمیل اردو کے معروف شاعر اور ناقد ہیں ۔ انہوں نے شاعری بھی کی ہے، تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیںِ خاص طور پر انہوں نے بچوں کیلئے سو سے زائد نظمیں لکھی ہیں جو غنچہ (بجنور)، نور (رامپور)، مسرت (پٹنہ)، پیام تعلیم (نئی دہلی)، ٹٓفی (لکھنو) اور دیگر رسائل میں شائع ہوئیں۔ ان کی ایک نظم دعا بہار اسکول ٹیکسٹ بک میں شامل ہے۔ بچوں کیلئے کہانیوں کا مجموعہ سرخ آنکھ، اور ایک جاسوسی ناول آدم خور انسان، شایع ہوچکے ہیں اور بہت مقبول ہیں۔
ون ون، ٹو ٹو، تھری تھری، فور
جنگل میں جب ناچے مور
مرغا بولا ککڑوں کوں!
میں بھی گانا گاتا ہوں
ون ون، ٹو ٹو، تھری تھری، فور
جنگل میں جب ناچے مور
چھُک چھُک چھُک چھُک کرتی ہے
ریل ہماری چلتی ہے
میں جب سیٹی دیتا ہوں
وہ آگے بڑھ جاتی ہے
کلکتہ جب آتا ہے
رک جاتی ہے کرکے شور
ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک کرتی ہے
گھڑی ہماری چلتی ہے
بارہ جب بج جاتےہ یں
تب تھوڑا سستاتی ہے
ٹن ٹن گھنٹہ بجتا ہے
جاگو جاگو آئی بھور
ٹھائیں ٹھائیں کرتی ہے
میری ’پسٹل‘ چلتی ہے
دشمن دیکھ کے ڈر جائے
یہ تو آگ اگلتی ہے
نو دو گیارہ ہوتا ہےاندھیارے میں بیٹھا چور
دیبا ڈار ۔۔۔۔ نواب بازار ذالڈگر
